خلیل مامون کی چند کتابیں - محمدیوسف رحیم بیدری۔


خلیل مامون کی چند کتابیں - 
محمدیوسف رحیم بیدری۔

خلیل مامون کی کتابوں کی ایک لمبی فہرست ہے ۔ پڑھنے والے طلبہ اور ریسرچ اسکالرس کو ان کتابوں کو پڑھ کر خلیل مامون اور ان کے فن کو سمجھنے میں مدد ملے گی ۔
(۱)  لسان :فلسفے کے آئےنے میں(1988؁ئ ) :۔ پیش رفت پبلی کیشنز مسلم چوک ، گلبرگہ 4۔ نے بحیثےت ناشر سال 1988؁ئ میں ’’لسان :فلسفے کے آئےنے میں ‘‘نامی132
صفحات کی کتاب شائع کی ۔ جس کو گولڈن آفسیٹ پریس حیدرآباد سے شائع کیاگیا۔ کرناٹک اردو اکیڈیمی بنگلورنے اس کی اشاعت میں اعانت کی ۔ اس میںموجود مضامین کے عناوین یوں ہیں ۔ گرونانک کے فلسفے میں نام، علامت نگاری ۔ ایک نوٹ ۔ مبادیات ِ معانیات ، فلسفہئ لسان ۔ ہیڈیگر کے نظام فکر میں لسان ۔ہسرل کی لسانی مظہریات ۔ نئی فکر، سماجی تغیر اور لسان ۔ انسانی تمدن میں لسان اور اسطور ۔ جس کاپےش لفظ خود خلیل مامون نے لکھاتھاجو دیڑھ صفحہ پر مشتمل تھا۔ جس میںاعتراف کیاگیاکہ ’’زیر نظر کتاب میں شامل اکثر مضامین خالص اکتسابی اور اطلاعاتی ہیں، مجھے خوشی ہوگی اگر یہ مضامین کم ازکم 
اردو کے ذی حس طلبا کو لسان کی فلسفیانہ تحقیق کی طر ف راغب کرسکیں ‘‘(صفحہ 11)
(۲) نشا طِ غم :۔ سال 2003؁ئ کے ماہ اکتوبر میں محفل بنگلورنے ناشر کی حیثیت سے خلیل مامون کی اردو غزلوں کامجموعہ ’’نشاطِ غم ‘‘ کے عنوان سے منظر عام پرلانے میں کامیابی حاصل کی۔ اعتراف عنوان کے تحت خلیل مامون نے لکھاہے کہ اس مجموعہ میں شامل تمام غزلیں 2002؁ئ تا 2003؁ئ کے دوران لکھی گئی ہیں۔ ایک صفحہ کے مختصرسے اعتراف میں انھوں نے کہاہے کہ ان غزلوں پر شعوری یا غیر شعوری دونوں سطحوں پر بشمول غالب ؔ کئی اہم شعرائ کے اثرات ہیں (جن کے نام انھوں نے اخفا ئ رکھے ) ۔پھریہ اس کام پرقارئین اور نقاد کو لگادیاکہ غزل کی مٹتی ہوئی تارےخ میں ان غزلوں کاکوئی مقام ہے بھی یانہیں ؟۔ شمیم حنفی کا 22/ستمبر 2003؁ئ کا لکھا مضمون اس میں شامل ہے ۔ شمیم حنفی کہتے ہیں کہ ’’خلیل مامون کے ان (غزلوں کے ) اشعار میں ہماراتعارف جدید انسان کی شخصیت کے اس پہلو سے ہوتاہے جس کی الجھنیں مادی حقائق کے جبر کانتیجہ بھی ہوسکتی ہیں لیکن بجائے خود مادّی نہیںہیں‘‘اس مجموعہ میں ایک حمد اور ایک نعت ملتی ہے۔ دونوں بھی خوب ہیں۔ نعت کامقطع وجدان کو چھولیتاہے    ؎
مامون ؔ دِل کی بات زباں پرنہ آسکی 
مدح ِ رسول پاک تری انتہانہیں 
50/غزلوں کوپڑھ لینے کے بعدقاری اظہار تشکر تک پہنچتاہے۔ اظہار تشکر میں 4نام (منیراحمد جامی ، ڈاکٹر نذیر چشتی ، سردار ایاغؔ اور محمد شعیب ) کاتہ دل سے خلیل مامون نے شکریہ اداکرتے ہوئے کہاہے کہ ان کی محبت اور تعاون کے بغیر یہ کتاب منظر ِ عام پر نہ آتی۔ 118صفحات کایہ شعری مجموعہ خلیل مامون کی شاعری کاوہ بیانیہ ہے جو آگے چل کر ان کی میراث بن گیا۔ 
(۳)آفاق کی طرف:۔ اس کتاب کو افلاک پبلی کیشنز گلبرگہ نے اگست 2007؁ئ میں شائع کیا۔ 416صفحات کے اس کتاب کی قیمت 360روپئے رکھی گئی۔ کاپی رائٹ فرحانہ مامون کے نام رہے۔ جب کہ خلیل مامون نے اس کاانتساب اپنی دادی حمیدالنسائ بےگم کے نام کیاہے۔ اس مجموعہ میں خلیل مامون کے علاوہ شمیم حنفی ، شفیع شوق ، ایچ ایس شیوپرکاش اور چندرکانت پاٹل کے مضامین ملتے ہیں۔ 
بے شما رنظموں کے علاوہ 12غزلیں اس مجموعہ میںشامل ہیں۔ جس کے بارے میں خلیل مامون نے لکھاہے ’’آفاق کی طرف ‘‘ گذشتہ 37سالوں کے دوران تخلیق ہوئی میری نظموں کامجموعہ ہے‘‘۔ انھوں نے اپنی ان نظموں کو جدید اور مابعد جدید اقدار سے الگ بتاتے ہوئے کہاہے کہ ’’شاعری کی کوئی تعریف ممکن نظر نہیں آتی ۔ ہرایک شاعر نے اپنے اپنے پس منظر میں شاعری کی تعریف اور توضیح کرنے کی کوشش کی ہے ‘‘(صفحہ 17) شمیم حنفی کے نزدیک ’’یہ شاعری افکار کا مجموعہ نہیں بلکہ انکشافات کاگنجینہ ہے ‘‘ (صفحہ 21) سری نگر کے شفیع شوق نے خلیل مامون کی شاعری کے بارے میں لکھاہے کہ ’’خلیل ایک پیچیدہ اور بسیار جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی نظموں میں بھی ساخت کی سطح پر پیچیدہ اور ہمہ جہت تجربات کے معروضی تلازمے ملتے ہیں .....خلیل کوعصری اردو شاعری کی دن بدن سکڑتی سرحدوں کامسلسل احساس ہے ۔ فیض احمد فیض ، میراجی ، ن۔م ۔راشد، اخترالایمان ، سردار جعفری اور چند جدید شاعروں کے بعد اردو نظم میں جوجمود چھاگیاہے، اسے نئی حرارت دے کرپھر سے روانی دینے کے لئے خلیل نے اسے تمام 
مروجہ تنقید ی نظریا ت کے استبداد سے آزاد کیاہے ‘‘(صفحہ 26) 
چندنظموں کے نام بھی پڑھ لیجئے ۔ ویسودیا کی سرگذشت، پرہون کی واپسی ، ہزار داستان کاایک ورق، یدِ بیضا ،آواگون کی ایک رات،آفاق کی طرف، بن باس کاجھوٹ ، جلاوطن شہزادگان کارقص، میدان ِ کربلا سے فرات تک،لاالہ ، جبرئیل کی واپسی ، سانپ اور سڑک ، سناٹے میں سرگرم، میں چپ رہتا، سرددریاؤں کی گفتگو، پتھروں کے گیت ، بوگن ویلا ، اناللہ ، اللہ ھو، متراکے نام، تمہارے لےے نظم لکھنی پڑی ، کام یاروں کا، ہٹ یاترا، میری نظم نیند میں کھوگئی، مہاتماگاندھی روڈ پر ، سوپر بازار، زباں اب بندہوئی ، ممبئی ، اور ہمیں است وغیرہ ۔ بعدازاں 12غزلیں مجموعہ میں شامل ہیں 
(۴) بن باس کا جھوٹ :۔ سال 2011؁ ئ میں یہ مجموعہ کلام بن باس کاجھوٹ شائع ہواجس کے پبلشرز افلاک پبلی کیشنز گلبرگہ رہے۔ 181صفحات کی کتاب کے لئے قیمت بھی ایک سواسیّ روپئے رکھی گئی۔ ایک روپیہ اور رکھ دیتے تو ایک روپئے کے اسرار کی گنجائش باقی نہ رہتی۔ جسکاانتساب ’’اناہزارے کے نام ‘‘ کیاگیاہے۔ اب شعری مجموعہ کانام بن باس کاجھوٹ ہے تو انتساب بھی اناہزار کے نام مناسب ہی لگا۔ 48نظمیں، 3قطعات ، اور 3غزلیں کتاب میں شامل ہیں۔ اس مجموعہ کی نظموں کے بارے میں خلیل مامون نے لکھاہے کہ ’’اس مجموعہ میں شامل اکثر نظموں کامو ڈ ایک ساہے اوران میں سے بیشتر نثری نظمیں ہیں ‘‘(صفحہ 9) آگے لکھاہے کہ ’’وزن سے گریز کرنے کی حتی الامکان کوشش کے باوجود میری نظموں میں وزن اور آہنگ آہی جاتاہے ‘‘ (صفحہ 10) 
(۵) سرسوتی کے کنارے (شعری مجموعہ ) :۔ یہ کتاب قومی کونسل برائے فروغ ِ اردو زبان کے مالی تعاون سے سال 2013؁ئ کو شائع ہوئی ۔ 472صفحات کی اس کتاب کی قیمت نہایت ہی کم 214روپئے رکھی گئی جس کاISBNنمبر 978-93-80919-58-4بتایاگیاہے۔ جس کے پبلشرخود خلیل مامون ہیں ۔ یعنی شاعر بھی ناشر بھی ۔ عموماً اردو کتابوں کاناشر خود شاعر یاادیب ہوتاہے ۔ بہر حال اس کتاب کاانتساب سمراٹ اشوک کے نام ہے۔بے شمار نظموں کے علاوہ کتاب کے آخر میں 14غزلیں شامل کی گئی ہیں۔ جب کہ نظموں سے متعلق شاعر خلیل مامون لکھتے ہیں ’’ان میں اکثر نظمیں ایک تخلیقی بحران سے دوسرے تخلیقی بحران کے درمیان خلق ہونے والی نظمیں ہیں ۔ ان میں جو چمک ہے وہ آئندہ لکھی جانے والی نظموں کے خفی اعلان کے مصداق ہے لیکن ان نظموں میں بھی آپ کو ایسے عناصر ضرور ملیں گے جو آپ کی ذات ، آپ کے تارےخی شعور اور آپ کے جذبات کو جھنجھوڑنے کی قوت رکھتی ہیں ‘‘(صفحہ 14)
(۶) سانسوں کے پار (مجموعہ ئ غزل ۔ سال 2015؁ئ ) ؛۔شعری مجموعہ ’’سرسوتی کے کنارے‘‘ کی طرح  ’’سانسوں کے پار ‘‘ نامی مجموعہ ئ غزل بھی قومی کونسل برائے فروغ ِ اردو زبان کے مالی تعاون سے سال2015؁ئ میں شائع ہوا جس کے مصنف وناشر خلیل مامون ہیں۔ 336صفحات کی اس کتاب کی قیمت 183روپئے رکھی گئی تھی شاید کوئی تین ہندسی بابرکت شغل ہوگا۔ زیب غور ی کے نام انتساب ہے ۔ جس کی وجہ انھوں نے اپنی بات میں یہ لکھی ہے کہ زیب غوری ہماری نئی نسل کاوہ درخشاں ستارہ ہے جسے ہمارے نقادوں نے دانستہ یا نادانستہ طورپر وہ مقام نہیں دیا جس کاوہ اہل ہے ۔ غزلوں کے اس مجموعہ میں خلیل مامون نے ’’غزل کی نفی میں ‘‘ عنوان کے تحت پہلی دفعہ تقریباً چار صفحات لکھے ہیں(ورنہ وہ ایک دو صفحات میں بات ختم کردیتے تھے) جس سے پتہ چلتاہے کہ وہ غزل کو کمتر تصورکرتے ہیں اور نئی نسل کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ دیگر اصناف کی طرف اپنے قدم بڑھائیں۔ ان چار صفحات پر ان کی گفتگو دلچسپ ہے لیکن صرف قاری کے لئے۔ نقاد کے لئے اس میں ایسا کچھ نہیں ہے کہ جس پر دیر تک بات ہوسکے۔ اس مجموعہ کی غزلوں کے بارے میں شاعر نے لکھاہے کہ ’’اپریل 2012؁ئ سے دسمبر 2012؁ئ تک میرے نہ چاہتے ہوئے بھی ڈھیرساری غزلیں خلق ہوئیں ان کی تعداد کچھ 800کے قریب تھی ۔ ان میں سے تقریباً دوتہائی غزلیں میں نے یہ مجموعہ ترتیب دیتے ہوئے رد کردیں ۔ اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ زیر نظر مجموعہ میں شامل غزلوں سے میںپوری طرح مطمئن ہوں ۔ کئی بار سوچا کہ میں 
انھیں بھی نذرآتش کردوں لیکن خود غرضی مانع آئی اور یہ کہہ کر دل کوتسلی دی کہ ےہ غزلیں میںغزل کی نفی کو ثابت کرنے کے لےے شائع کررہاہوں ‘‘(صفحہ 15اور 16) 
ہرایک لمحہ میرے واسطے مبارک ہے 
میں منتظر نہیں وقت مسعود کا اپنے 
ہم بھی تنہا ، تم بھی تنہا ، سب تنہا 
کیوں نہ مل جل کر ہم ساتھ رہیں 
تم جو چاہو تو دل میں رکھ لینا 
ورنہ اپنا مقام کوئی نہیں
 ایک مدت سے کھڑا جھانک رہاہوں اس میں
عکس آئینہ میںمیرا کوئی ابھرا ہی نہیں 
کون ملنے آتاتھا مامون ؔ سے 
وقت ہر اک شام کا خالی رہا
ہر باغ نیا لگتاہے ، ہر پھول نرالا
لگتاہےکہ ہر لمحہ ےہاں کن فیکوں ہے
کیا خبر کیسالگے عکس جو باہر آجائے 
اس کو رہنے دو وہیں اچھا ہے آئینہ میں 
سب لوگ ہمیں ایک نظر آتے ہیں 
اندازہ نہیں ہوتاہے اب چہروں کا
(۷)لاالہ (شعری مجموعہ ) :۔ یہ تیسری کتاب ہے جو قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کے مالی تعاون سے شائع کی گئی ہے اور جس میں یہ انتباہ درج ہے کہ ’’شائع شدہ مواد سے اردوکونسل کامتفق ہونا ضروری نہیں ‘‘ کبھی ایسا بھی ہوکہ کسی شعری مجموعہ پر لکھاجائے ’’شائع شدہ موا د سے قاری کامتفق ہونا ضروری نہیں ‘‘ہر کوئی بچ نکلنے کے چکر میں ہے ۔ جمہوریت میں قاری کو بھی حق ہونا چاہےے کہ وہ متفق نہ ہو۔ AIکے اس دور میں تو قانونی مسائل کے انبار لگے ہوئے ہیں (پہلے ہی کون سے کم تھے )۔ یہ کتاب سال 2018؁ئ میں شائع ہوئی جس کی قیمت 492روپئے رکھی گئی تھی۔ صفحات 863درج ہیں جب کہ صفحات 864ہونا چاہےے لیکن ایسا کیوں لکھاگیاہے اس کے بارے میں ہم کچھ کہنے سے معذور ہیں۔ اپنی بات میں شاعر خلیل مامون نے لکھاہے کہ ’’شاعری کرنا اور جینا میرے لےے 
ایسے حقائق ہیں کہ جنہیں میں ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھ نہیں سکتا‘‘(صفحہ 18)خلیل مامون کی با ت میں سچائی ہے۔ ہم نے انہیں جس قدر دیکھا ، اپنی بیشتر نظموںمیں بھی وہی ملے۔ اللہ تعالیٰ ان کی روح کو خوشی دے ۔ آمین 
خلیل مامون کی کتابوں میں انیس للٰہی نظمیں (شہرزادرکھی کی انگریزی نظموں کاترجمہ ) 1989؁ئ، کنڑادب (کنڑادب کی شاعری اور فکشن کے تراجم کی تالیف (1990) ، تاثرات (2005؁ئ ) ، کشمیر ی صوفی شاعری (تالیف ۔ 2006؁ئ) ، جسم وجاں سے دور ، نظموں کامجموعہ (2010؁ئ)،محمود ایاز سے گفتگو(انٹرویو ۔ 2010؁ئ) ، لہوکے پھول (تالیف ۔ 2010؁ئ ) ، دھند بھری وادیوں سے (2022؁ئ ) وغیرہ شامل ہیں جن کوبھی پڑھنا ضروری ہے تاکہ خلیل مامون کو سمجھاجاسکے ۔جنوبی ہند کے شعرائ کوپڑھنے کے لئے خود جنوبی ہند کے اہل ذوق اوراردو والوں کووقت نکالنا ہوگا۔ اسی ذریعہ سے 
جنوبی ہند کے ادب کو بچایااورپروان چڑھایاجاسکے گا۔ آج 21/جون 2026ہے۔ دوسال قبل جناب خلیل مامون اس دنیا سے روانہ ہوکر اپنے واحدالہ کے سامنے حاضر ہوگئے۔ دعا ہے کہ ان کی شاعری کے اچھے پہلو ان کے لئے ثواب جاریہ ہوں ۔ آمین

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔