جب بلیک بورڈ آئینہ بن گیا۔اساتذہ ،میڈیا اور ایک خاموش جمہوریت کی کہانی۔۔ از قلم : اسماء جبین فلک۔


جب بلیک بورڈ آئینہ بن گیا۔
اساتذہ ،میڈیا اور ایک خاموش جمہوریت کی کہانی۔
از قلم : اسماء جبین فلک۔ 

پارلیمنٹ کی عمارت کے لمبے اور خاموش راہداریوں میں ایک نوجوان طالب علم چند کاغذات اپنے سینے سے لگائے آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کوئی منشور نہیں تھا، کوئی سیاسی پرچم نہیں تھا، کوئی نعرہ نہیں تھا۔ اس کے پاس صرف ایک سوال تھا۔ شاید اسے خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس کا سوال اس کی اپنی کاپی، اس کے اپنے امتحان یا اس کے اپنے مستقبل سے کہیں بڑا ہو چکا ہے۔ شاید وہ صرف اپنی بات کہنے آیا تھا، لیکن اس کی تنہائی میں ایک پورے عہد کی کہانی چھپی ہوئی تھی۔
یہ ایک عجیب زمانہ ہے۔ یہاں عمارتیں پہلے سے زیادہ بلند ہیں، اسکرینیں پہلے سے زیادہ روشن ہیں، آوازیں پہلے سے زیادہ بلند ہیں، مگر سوال پہلے سے زیادہ تنہا ہو گئے ہیں۔
کہتے ہیں جمہوریت کی طاقت اس کے اداروں میں ہوتی ہے، لیکن جمہوریت کی روح اس کے سوالوں میں ہوتی ہے۔ جب سوال کمزور ہونے لگیں، جب سوال پوچھنے والے تنہا پڑنے لگیں، جب سوالات کو جواب دینے کے بجائے ان پر لیبل چسپاں کیے جانے لگیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ صرف سیاست کا نہیں رہا، پورے سماج کا ہو چکا ہے۔
حالیہ برسوں میں ہندوستان نے کئی ایسے مناظر دیکھے ہیں جنہوں نے اس کے اجتماعی شعور کو جھنجھوڑا ہے۔ کسان سڑکوں پر آئے تو انہیں مختلف نام دیے گئے۔ نوجوانوں نے امتحانی بے ضابطگیوں پر آواز اٹھائی تو ان کی نیت پر سوالات اٹھائے گئے۔ اساتذہ نے تعلیمی نظام کے بحران کی طرف اشارہ کیا تو ان کے وجود پر ہی بحث شروع ہو گئی۔ ایسا محسوس ہونے لگا جیسے اصل مسئلہ سوال نہیں بلکہ سوال پوچھنے والا ہے۔
یہی وجہ تھی کہ ایک ٹیلی ویژن مباحثے میں ادا کیے گئے چند تحقیر آمیز الفاظ اچانک ایک بڑے سماجی مکالمے میں تبدیل ہو گئے۔ بظاہر یہ کوچنگ اداروں اور اساتذہ کے بارے میں ایک تبصرہ تھا، مگر درحقیقت اس نے برسوں سے جمع ہوتی ہوئی بے چینی کا دروازہ کھول دیا۔
جواب میں سامنے آنے والی آوازیں محض ردِ عمل نہیں تھیں۔ وہ ایک ایسے طبقے کی گواہی تھیں جو عرصۂ دراز سے اپنے آپ کو غلط طور پر پیش کیا جاتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ ان اساتذہ نے صرف اپنی توہین کا جواب نہیں دیا بلکہ ایک ایسے عوامی حافظے کو آواز دی جسے کمزور سمجھ لیا گیا تھا۔
انہوں نے ان خبروں کو یاد کیا جو کبھی قومی مباحثے کا مرکز تھیں اور بعد میں اپنی ساکھ کھو بیٹھی تھیں۔ انہوں نے ان دعوؤں کا ذکر کیا جو وقت کی کسوٹی پر پورے نہ اتر سکے۔ انہوں نے ان سوالات کو دہرایا جو پوچھے جانے چاہیے تھے مگر اکثر نظر انداز کر دیے گئے۔ ان کی گفتگو سن کر ایک بات واضح ہو رہی تھی: عوام بھولے نہیں ہیں۔
یہ خیال کہ مسلسل شور مچا کر یادداشت کو شکست دی جا سکتی ہے، شاید انسانی معاشروں کے بارے میں سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔ لوگ ہر چیز یاد نہیں رکھتے، لیکن وہ یہ ضرور یاد رکھتے ہیں کہ کس نے ان کے دکھ کو سنجیدگی سے لیا اور کس نے اسے تماشے میں بدل دیا۔
یہاں سوال کوچنگ اداروں کا دفاع کرنا نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوچنگ صنعت پر تنقید کے لیے کافی گنجائش موجود ہے۔ اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس نے تعلیم کو مقابلے کی ایک تھکا دینے والی دوڑ میں بدل دیا ہے، طلبہ پر غیر معمولی دباؤ ڈالا ہے اور بعض اوقات سیکھنے کے عمل کو محض نمبروں کے حصول تک محدود کر دیا ہے۔ یہ اعتراضات اپنی جگہ وزن رکھتے ہیں اور ان پر سنجیدہ گفتگو ہونی چاہیے۔
لیکن کیا پوری کہانی یہی ہے؟
اگر کوچنگ ادارے اس قدر طاقتور اور ضروری بن گئے ہیں تو اس کے اسباب کہاں تلاش کیے جائیں؟ کیا یہ سوال پوچھنا غیر مناسب ہوگا کہ اگر سرکاری اسکول اور کالج اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہوتے تو لاکھوں خاندان متبادل راستے کیوں ڈھونڈتے؟ اگر دیہات کے اسکولوں میں معیاری سائنس کی تعلیم دستیاب ہوتی، اگر یونیورسٹیاں نوجوان ذہنوں کے لیے امید کی علامت ہوتیں، اگر تعلیمی ڈھانچہ اتنا مضبوط ہوتا جتنا سرکاری دعووں میں دکھائی دیتا ہے، تو پھر کوچنگ مراکز اس قدر وسیع سماجی حقیقت کیوں بن جاتے؟
کسی بھی معاشرے میں متبادل ادارے وہاں جنم لیتے ہیں جہاں اصل ادارے کمزور پڑنے لگتے ہیں۔
ایک گاؤں کے اسکول کا خالی برآمدہ، دیوار سے اکھڑتا ہوا پلستر، سائنس لیبارٹری کے نام پر بند کمرہ اور لائبریری کی جگہ رکھی ہوئی چند گرد آلود الماریاں شاید ان سرکاری رپورٹوں سے زیادہ سچ بولتی ہیں جن میں کامیابی کے رنگین گراف بنائے جاتے ہیں۔ بلیک بورڈ پر لکھی جانے والی عبارتیں اکثر نصاب کا حصہ ہوتی ہیں، مگر کبھی کبھی خالی بلیک بورڈ بھی ایک مکمل داستان سنا دیتا ہے۔
برسوں سے اسی بلیک بورڈ پر بچوں کو سکھایا جاتا رہا ہے کہ غلط جواب کاٹ دیا جاتا ہے۔ غلط حساب کی تصحیح کی جاتی ہے۔ غلط نتیجے کو دوبارہ جانچا جاتا ہے۔ مگر اب ایک نئی نسل یہ پوچھ رہی ہے کہ اگر غلطی خود نظام سے ہو جائے تو اس کے اوپر سرخ نشان کون لگائے گا؟
یہ سوال صرف تعلیم تک محدود نہیں رہتا۔
یہیں سے کہانی میڈیا تک پہنچتی ہے۔
کبھی صحافت عوام اور اقتدار کے درمیان ایک پل سمجھی جاتی تھی۔ اس کا بنیادی فرض یہ تھا کہ وہ طاقت سے سوال کرے اور کمزور کی آواز سنے۔ مگر وقت کے ساتھ بہت سے لوگوں کو یہ محسوس ہونے لگا کہ شاید اس پل کے کچھ حصے ٹوٹ گئے ہیں۔ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ بعض سوالات نہیں پوچھے جا رہے تھے؛ مسئلہ یہ تھا کہ عوام کو محسوس ہونے لگا تھا کہ ان کے اصل سوال کہیں راستے میں چھوڑ دیے گئے ہیں۔
بے روزگاری، مہنگائی، امتحانی بحران، کسانوں کی مشکلات، سرکاری اداروں کی کارکردگی، تعلیمی زوال۔یہ وہ موضوعات تھے جن پر مسلسل توجہ درکار تھی۔ لیکن عوام کا ایک طبقہ محسوس کرنے لگا کہ ان کی جگہ شور نے لے لی ہے، تجزیے کی جگہ تماشے نے لے لی ہے اور مکالمے کی جگہ محاذ آرائی نے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں نے خاموشی سے اپنا راستہ بدل لیا۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ عوام نے ٹیلی ویژن چھوڑ دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اعتماد منتقل کر دیا۔ اسکرین وہی رہی، مگر چہرے بدل گئے۔ اب بہت سے لوگ اپنی معلومات، تجزیے اور سوالات کے جوابات ان ذرائع سے حاصل کرنے لگے جہاں انہیں محسوس ہوا کہ ان کی زندگی سے متعلق مسائل پر زیادہ سنجیدگی سے گفتگو ہو رہی ہے۔
یہ تبدیلی محض ٹیکنالوجی کی تبدیلی نہیں تھی۔ یہ اعتماد کی تبدیلی تھی۔
جمہوریت میں عوام کبھی اچانک فیصلے نہیں کرتے۔ وہ خاموشی سے مشاہدہ کرتے ہیں، موازنہ کرتے ہیں اور پھر اپنا فیصلہ سنا دیتے ہیں۔
اس پوری کہانی میں وہ نوجوان طالب علم بار بار ذہن میں آتا ہے جو چند کاغذات لیے تنہا کھڑا تھا۔
اس کی تنہائی دراصل ایک فرد کی تنہائی نہیں تھی؛ وہ ایک پوری نسل کی تنہائی تھی۔
وہ نسل جو امتحانات دیتی ہے، فارم بھرتی ہے، کوچنگ جاتی ہے، قرضوں میں ڈوبے والدین کے خواب اپنے کندھوں پر اٹھاتی ہے، اور پھر کسی نہ کسی موڑ پر ایسے نظام سے ٹکرا جاتی ہے جو جواب دینے کے بجائے خاموش ہو جاتا ہے۔
ادارے جب خاموش ہوتے ہیں تو سوالات یتیم ہو جاتے ہیں۔
اور شاید ہمارے عہد کا سب سے بڑا بحران یہی ہے۔
یہ بحران صرف تعلیم کا نہیں، صرف صحافت کا نہیں، صرف سیاست کا نہیں۔ یہ اعتماد کا بحران ہے۔ وہ اعتماد جو کسی بھی جمہوری معاشرے کی اصل بنیاد ہوتا ہے۔
اس کے باوجود تصویر مکمل تاریک نہیں ہے۔
امید ابھی باقی ہے۔
امید اس استاد میں ہے جو بلیک بورڈ کو صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ شعور کا وسیلہ سمجھتا ہے۔ امید اس طالب علم میں ہے جو غلطی کی نشاندہی کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ امید ان شہریوں میں ہے جو شور کے زمانے میں بھی سوال پوچھنے کی روایت کو زندہ رکھتے ہیں۔
کیونکہ جمہوریت کی صحت کا اندازہ اس سے نہیں لگایا جاتا کہ کتنے لوگ بول رہے ہیں؛ اس سے لگایا جاتا ہے کہ کتنے لوگ بولنے سے ڈر رہے ہیں۔
شاید آنے والے برسوں میں لوگ اس بحث کی تمام تفصیلات بھول جائیں۔ شاید بہت سے نام حافظوں سے محو ہو جائیں۔ شاید کردار بدل جائیں، چہرے بدل جائیں اور موضوعات بھی بدل جائیں۔ لیکن ایک منظر باقی رہے گا۔
ایک نوجوان سوال لیے کھڑا ہے۔
اس کے پیچھے ایک بلیک بورڈ خاموش کھڑا ہے۔
اس بلیک بورڈ پر کوئی سبق نہیں لکھا، کوئی فارمولہ درج نہیں، کوئی امتحانی سوال موجود نہیں۔
صرف ایک جملہ لکھا ہے:
"اگر سچ بولنے کی ذمہ داری استاد پر آ جائے، تو پھر صحافت کیا کر رہی ہے؟"
اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جب بلیک بورڈ، بلیک بورڈ نہیں رہتا۔
وہ آئینہ بن جاتا ہے۔
اور اس آئینے میں صرف ایک اینکر، ایک استاد، ایک طالب علم یا ایک ادارہ نظر نہیں آتا۔
اس میں پورا معاشرہ اپنا چہرہ دیکھ رہا ہوتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔