محمد اعظم شاہد کی کتاب ’’دستک‘‘ — سلگتے موضوعات کا ایک فکری البمازقلم۔ : واجد اختر صدیقی، گلبرگہ، کرناٹک۔


محمد اعظم شاہد کی کتاب ’’دستک‘‘ — سلگتے موضوعات کا ایک فکری البم
ازقلم۔ : واجد اختر صدیقی، گلبرگہ، کرناٹک۔
9739501549

اردو صحافت میں کالم نگاری کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ جس طرح کسی اخبار یا رسالے میں اداریے کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے، اسی طرح کالم نگاری بھی فکری رہنمائی، عصری شعور کی بیداری اور حالاتِ حاضرہ کی تفہیم میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ ایک اچھا کالم نگار نہ صرف اپنے عہد کے مسائل اور واقعات کو قارئین کے سامنے پیش کرتا ہے بلکہ ان کے پس منظر، اسباب اور نتائج پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔ یوں وہ محض خبر کا راوی نہیں بلکہ زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھنے والا ایک حساس مبصر اور صاحبِ فکر دانشور بن جاتا ہے۔ ایک اعتبار سے کالم نگار ایک ہی منزل کی تلاش میں دو راستوں کا مسافر ہوتا ہے؛ ایک راستہ مشاہدے کا اور دوسرا تجزیے کا۔
اردو صحافت میں کالم نگاری کی روایت اگرچہ قدیم ہے، تاہم اس میدان میں مستقل مزاجی اور فکری تسلسل کے ساتھ اپنی شناخت قائم کرنے والے قلم کاروں کی تعداد ہمیشہ محدود رہی ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی قلم کار بارہ برس سے زائد عرصے تک پوری پابندی، سنجیدگی اور فکری دیانت کے ساتھ کالم نگاری کرتا رہے اور اس صنف میں اپنی منفرد پہچان قائم کر لے تو بلاشبہ اسے ایک قابلِ قدر ادبی اور صحافتی کارنامہ قرار دیا جانا چاہیے۔ یہ اعزاز ریاستِ کرناٹک کے ممتاز ادیب، شاعر اور کہنہ مشق کالم نگار محمد اعظم شاہد کو حاصل ہے، جنہوں نے اپنی فکری بصیرت، عصری شعور اور منفرد اسلوبِ نگارش کے ذریعے اردو صحافت میں ایک مستحکم مقام پیدا کیا ہے۔
اعظم شاہد نے بطورِ کالم نگار جو شناخت حاصل کی ہے، وہ محض اتفاق یا وقتی مقبولیت کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل ریاضتِ قلم اور فکری وابستگی کا ثمر ہے۔ ’’اپنی بات‘‘ میں وہ اپنی کالم نگاری کے آغاز کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"صحافت سے والہانہ دلبستگی کے زیرِ اثر میری صحافتی زندگی کی ابتدا ہوئی، چنانچہ تعلیمی دور سے ہی میرے مضامین، تجزیے، تبصرے، فیچرز اور انٹرویوز تواتر سے شائع ہوتے رہے ہیں۔ 2011 میں یہ خیال اجاگر ہوا کہ کیوں نہ ہر ہفتے ایک مستقل کالم لکھنے کی کوشش کی جائے۔ اس طرح روزنامہ سالار بنگلورو میں، جس سے میری دیرینہ وابستگی ہے، ہفت روزہ کالم ’عکس در عکس‘ کی شروعات ہوئی۔ ہر بدھ کو روزنامہ سالار کے ادارتی صفحے پر بہ پابندی شائع ہونے والے میرے اس کالم نے اپنی عمر کے بارہ سال مکمل کیے۔ قارئین کی پسندیدگی اور پذیرائی نے ہمیشہ میرے حوصلوں کو جِلا بخشی اور مجھے مزید لکھنے کی نئی امنگوں سے ہمکنار کیا۔"
یہ اقتباس اس حقیقت کا غماز ہے کہ محمد اعظم شاہد کے لیے صحافت محض پیشہ نہیں بلکہ ایک فکری اور قلبی وابستگی کا نام ہے۔ ان کا طویل عرصے تک مسلسل کالم لکھتے رہنا اور آج بھی اسی جوش و جذبے کے ساتھ قلمی سفر جاری رکھنا ان کی استقامت اور عزمِ مسلسل کا روشن ثبوت ہے۔
ان کے کالم صرف روزنامہ سالار تک محدود نہیں رہے بلکہ ملک کے متعدد معتبر اخبارات میں بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں کا دائرۂ اثر ہندوستان کے طول و عرض تک پھیلا ہوا ہے۔ وہ ایسے موضوعات کا انتخاب کرتے ہیں جو نہ صرف عوامی دلچسپی کا مرکز ہوتے ہیں بلکہ اجتماعی شعور کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سن 2026 میں ’’دستک‘‘ کا دوسرا ایڈیشن منظرِ عام پر آیا، جب کہ اس کا پہلا ایڈیشن 2023 میں شائع ہو کر قارئین میں مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔ اعظم شاہد کے سیکڑوں کالموں میں سے اس مجموعے کے لیے 52 منتخب کالم شامل کیے گئے ہیں، جو 10 مارچ 2022 سے برقی مصور اخبار ’’گھومتا آئینہ‘‘ میں چاند اکبر کی ادارت میں ’’دستک‘‘ کے مستقل عنوان کے تحت شائع ہوتے رہے۔
کتاب کے بیشتر کالم عالمی، قومی اور ریاستی سطح پر رونما ہونے والے سیاسی، سماجی، ثقافتی اور تعلیمی معاملات کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان میں کہیں حکومتی پالیسیوں کا تجزیہ ہے، کہیں تعلیمی مسائل پر فکر مندی، کہیں فرقہ وارانہ منافرت پر تشویش اور کہیں انسانی اقدار کے زوال پر درد مندانہ اظہار۔
سہیل انجم نے ’’محمد اعظم شاہد کی کالم نگاری‘‘ کے عنوان سے بجا طور پر لکھا ہے:
"ان کی تحریروں کی متعدد خوبیاں ہیں جن میں ان کی سنجیدہ روی اور مثبت اندازِ فکر سب سے نمایاں ہے۔ وہ بعض جذباتی موضوعات پر لکھنے کے باوجود اپنے مضامین پر جذباتیت کو حاوی نہیں ہونے دیتے۔ یہ بہت بڑی خوبی ہے جو کم صحافیوں میں نظر آتی ہے۔"
بلاشبہ سہیل انجم کی یہ رائے حقیقت پر مبنی ہے۔ کالم نگاری میں فکری توازن اور تجزیاتی بصیرت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ محمد اعظم شاہد کا امتیاز یہ ہے کہ وہ حساس ترین موضوعات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے بھی اعتدال اور سنجیدگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔
اسی طرح ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز نے ’’دستک سی دل اور ضمیر پر‘‘ کے عنوان سے ان کی تخلیقات کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے:
"محمد اعظم شاہد حالات کے ساتھ ساتھ اپنی ارد گرد کا بھی جائزہ لیتے ہیں اور ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر فکر انگیز مگر دل کو چھو لینے والے مضامین لکھتے.. ہیں جن پر عام طور پر ان جیسے معیار کے قلم کار توجہ نہیں دیتے۔"
ڈاکٹر فاضل حسین پرویز کی یہ رائے نہایت وقیع اور بصیرت افروز ہے۔ چونکہ اعظم شاہد خود ایک اچھے شاعر بھی ہیں، اس لیے ان کی نثر میں شعریت کی لطافت، زبان کی شگفتگی اور احساس کی حرارت نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے۔
’’عرضِ رفیق‘‘ کے عنوان سے رفیق جعفر، پونا، لکھتے ہیں:
"ان کا قلم جو کچھ بولتا ہے سچ بولتا ہے، جھوٹ کے پول کھولتا ہے، حالات کا نظارہ کرواتا ہے، معصوم قاری کو شعور بخشتا ہے اور چالاک قاری کو آئینہ دکھاتا ہے۔" رفیق جعفر ایک تجربے کار ادیب اور ماہر قلمکار ہیں ۔ان کی یہ رائے کافی اہمیت کی حامل ہے۔
محمد اعظم شاہد کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو ڈاکٹر انیس صدیقی نے اپنے دلکش خاکے میں بڑی خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
"عجز و انکسار اور سادگیِ طبع اعظم شاہد کی ذات کے جبلی اوصاف ہیں۔ کسر نفسی اور خاکساری ان کی ادا ادا سے جھلکتی ہے۔"
اس مختصر مگر جامع خاکے میں ڈاکٹر انیس صدیقی نے نہ صرف اعظم شاہد کی شخصیت کا تعارف کرایا ہے بلکہ ان سے اپنی قلبی وابستگی اور عقیدت کا اظہار بھی نہایت وقار کے ساتھ کیا ہے۔
علاوہ ازیں کتاب کے فلیپ پر پروفیسر م۔ن۔ سعید اور ملنسار اطہر احمد کی گراں قدر آرا شامل ہیں، جب کہ پسِ ورق پر پروفیسر بی شیخ علی کی تحریر درج ہے۔ یہ تمام آرا کتاب اور قاری کے درمیان ایک مضبوط فکری و ادبی پل کا کردار ادا کرتی ہیں۔
اعظم شاہد کے اس مجموعے میں شامل چند کالموں کے عناوین ہی ان کی فکری وسعت اور سماجی شعور کا پتہ دیتے ہیں۔ مثلاً ’’جنگ زدہ یوکرین سے ہندوستانی طلبہ کی واپسی‘‘، ’’حجاب پر فیصلے کے بعد پھر بھڑکنے لگے ہیں مذہبی منافرت کے شعلے‘‘، ’’کرناٹک نفرتوں کی نئی تجربہ گاہ تو نہیں بن رہا ہے‘‘، ’’اب تعلیمی نصاب بھی تنگ نظری کے گھیرے میں‘‘، ’’مہنگائی میں کوتاہی، منہ زوری اور سینہ زوری‘‘، ’’مسلمانوں کی تعلیم پر دہلی میں دو روزہ کانفرنس‘‘، ’’این ڈی ٹی وی پر گھناونے سائے‘‘ اور ’’قصہ ٹیپو ایکسپریس کا‘‘ جیسے عنوانات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ محمد اعظم شاہد کے سینے میں ایک درد مند اور فکر مند دل دھڑکتا ہے جو اپنے عہد کے مسائل پر مسلسل نظر رکھتا ہے اور عوام میں شعور و آگہی پیدا کرنے کے لیے بے چین رہتا ہے۔
بہرکیف یہ بات طے ہے کہ کالم نگاری محض خبر نگاری نہیں ہے۔ خبر واقعے کی اطلاع دیتی ہے، جب کہ کالم اس واقعے کے پس منظر، محرکات اور اثرات کو فکری اور تجزیاتی پیرائے میں پیش کرتا ہے۔ ایک کامیاب کالم نگار خبر کو اپنے تجربات، مشاہدات اور فکری بصیرت کی روشنی میں نئی معنویت عطا کرتا ہے۔ محمد اعظم شاہد کو اس فن پر غیر معمولی دسترس حاصل ہے کہ خبر کو کس طرح محض اطلاع کے درجے سے بلند کرکے فکری مکالمے اور سماجی شعور کا حصہ بنایا جائے۔
204 صفحات پر مشتمل یہ دیدہ زیب کتاب ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی نے شائع کی ہے۔ کتاب کی قیمت 300 روپے مقرر کی گئی ہے جو اس کے مندرجات اور معیار کے اعتبار سے نہایت مناسب ہے۔ ’’دستک‘‘ محض کالموں کا مجموعہ نہیں بلکہ اپنے عہد کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی منظرنامے کی ایک معتبر دستاویز ہے، جو ایک حساس، باخبر اور درد مند قلم کار کی فکری کاوشوں کا آئینہ دار ہے۔ یہ کتاب نہ صرف عام قارئین بلکہ صحافت، ادب اور سماجی علوم سے وابستہ افراد کے لیے بھی یکساں اہمیت کی حامل ہے اور بلاشبہ اردو کالم نگاری کے سرمایہ میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔