تنہائی: دو پل کا ساتھ۔۔ - از قلم : عثمان احمد عمرکھیڑ ضلع ایوت محل۔


تنہائی: دو پل کا ساتھ۔۔ -  
از قلم  : عثمان احمد عمرکھیڑ ضلع ایوت محل۔

انسان ایک سماجی جانور ہے بقول ماہر نفسیات ۔ یہ کہانی ہے ساحل کی جو ایک ڈیلیوری بوائے ہے۔
کیا آپ کے پڑوس میں بھی کوئی ایسا اکیلا رہتا ہے؟
میں ساحل ایک ڈلیوری بوائے ہوں۔ میری روزانہ شام کی شفٹ ہوتی ہے۔
اس دن رات کے تقریباً نو بجے میں نے اپنی آخری آرڈر لی۔ ریسٹورنٹ سے پیکٹ لیتے وقت میں نے غور کیا— ایک چھوٹی سی آرڈر تھی... سادہ کھچڑی، دہی اور دو کیلے۔
پتہ شہر کے پرانے علاقے کا تھا۔ ایک پرانی، بوسیدہ عمارت کی تیسری منزل۔
میں نے دروازے کی گھنٹی بجائی۔
دروازہ ایک معمر ماں جی نے کھولا— سفید بال، کانپتے ہوئے ہاتھ اور موٹے شیشوں والی عینک۔ چہرے پر تھکن نمایاں تھی، لیکن آواز میں ممتا کی مٹھاس تھی:
"بچے، ذرا اندر رکھ دو نا... ہاتھ کانپتے ہیں۔"
میں نے کھانا میز پر رکھ دیا۔ میں نکلنے ہی والا تھا کہ وہ بولیں:
"دو منٹ بیٹھو گے؟ اکیلے کھانے میں دل نہیں لگتا..."
میں نے گھڑی دیکھی، میری شفٹ ختم ہو چکی تھی۔ میں تھکا ہوا بھی تھا... لیکن نہ جانے کیوں، میں بیٹھ گیا۔
گھر میں مکمل خاموشی تھی۔ دیوار پر لگی پرانی گھڑی ٹک ٹک کر رہی تھی۔ ایک کونے میں بھگوان کی چھوٹی سی تصویر تھی... اور سامنے کی دیوار پر یادوں کے چند فوٹوز۔
انہوں نے کھچڑی کی پلیٹ کھولی اور آہستہ آہستہ کھانا شروع کیا۔ دو نوالوں کے بعد وہ میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھیں۔
وہ بولیں:
"بچے، میں روز باہر سے کھانا نہیں منگواتی۔ آج صرف... کسی انسان کی آواز سننے کے لیے منگوایا۔"
میں خاموش رہا۔
انہوں نے دیوار پر لگی ایک تصویر کی طرف اشارہ کیا:
"یہ میرے میاں تھے، ریلوے میں کام کرتے تھے۔ پانچ سال پہلے گزر گئے..."
دوسری تصویر دکھائی:
"یہ میرا بیٹا ہے۔ کینیڈا میں رہتا ہے۔ بہت اچھا ہے... ہر مہینے پیسے بھیجتا ہے۔"
وہ ایک لمحے کے لیے رکیں... آنکھوں میں آنسو بھر آئے...
"صرف... وقت نہیں بھیجتا۔"
گھڑی کی ٹک ٹک اچانک اور تیز محسوس ہونے لگی۔
وہ آگے بولیں:
"یہ میری بیٹی ہے۔ بنگلور میں ہوتی ہے۔ اپنی دنیا میں خوش ہے... اور اسے ہونا بھی چاہیے۔ بچے اگر اڑیں گے نہیں، تو انہیں بڑا کرنے کا فائدہ ہی کیا؟"
ان کی آواز کانپ رہی تھی... لیکن چہرے پر کوئی شکوہ نہیں تھا— صرف ایک خالی پن تھا۔
انہوں نے مجھ سے پوچھا:
"تمہاری ماں ہے؟"
"جی ہاں..."
"روز فون کرتے ہو؟"
میں خاموش رہا۔
سچ تو یہ ہے کہ... میں بھی کئی کئی دن ماں کو فون نہیں کرتا تھا۔ کام، تھکن... 'کل کروں گا' کہتے کہتے بات آگے ٹل جاتی تھی۔
انہوں نے میری خاموشی کو بھانپ لیا۔
نرمی سے بولیں:
"ماں باپ پیسے نہیں گنتے بچے... وہ آواز گنتے ہیں۔"
میرے دل میں جیسے کچھ ٹوٹ سا گیا۔
کھانا ختم ہوا۔ انہوں نے پانی پیا۔ پھر اپنے پرس سے 500 روپے نکال کر میری طرف بڑھائے:
"یہ ٹپ نہیں ہے... یہ اس آدھے گھنٹے کی قیمت ہے، جو تم نے مجھے اکیلے بیٹھ کر کھانے نہیں دیا۔"
میں نے انکار کیا:
"نہیں ماں جی... میں یہ نہیں لے سکتا۔"
وہ مسکرائیں:
"لے لو... آج تم نے مجھے کھانا نہیں دیا... ساتھ دیا ہے۔"
میں نے پیسے لے لیے... لیکن انہیں جیب میں رکھنے کے بجائے ہاتھ میں ہی مضبوطی سے تھامے رکھا۔
رخصت ہوتے ہوئے وہ بولیں:
"اور ہاں— آج گھر جا کر اپنی ماں کو فون ضرور کرنا۔"
اس رات میں نے بائیک اسٹارٹ نہیں کی۔ سب سے پہلے اپنی ماں کو فون کیا۔
دوسری طرف سے آواز آئی:
"اچانک فون؟ سب ٹھیک تو ہے نا؟"
وہ آواز سنتے ہی میرا گلا رندھ گیا...
میں نے کہا:
"ہاں ماں... بس تمہاری آواز سننی تھی۔"
ایک لمحے کی خاموشی چھا گئی... پھر ماں نے پوچھا:
"کھانا کھایا تم نے؟"
اور میں سڑک پر کھڑا ہو کر رو پڑا۔
اس دن کے بعد سے میں روز اپنی ماں کو فون کرنے لگا۔
اور اب وہ ڈلیوری... صرف ایک آرڈر نہیں رہ گئی تھی۔
کچھ گھروں کو دوا کی ضرورت ہوتی ہے... کچھ کو تنہائی سے نجات کی... کچھ کو انتظار کے خاتمے کی... اور کچھ کو... صرف ایک آواز کی۔
اب جب بھی کوئی دروازہ کھلتا ہے، میں جلدی نہیں کرتا۔ چہرہ دیکھتا ہوں... آواز سنتا ہوں... اور کبھی کبھار پوچھ لیتا ہوں:
"باقی سب ٹھیک ٹھاک ہے نا؟"
اکثر لوگ "ہاں" کہہ دیتے ہیں... کچھ مسکرا دیتے ہیں... اور کچھ چہرے بتا دیتے ہیں کہ آج وہ دن بھر کسی سے نہیں بولے۔
دو مہینے بعد دوبارہ اسی پتے کی ایک آرڈر آئی۔ میں دوڑتا ہوا گیا۔
دروازہ کھلا— لیکن وہ ماں جی وہاں نہیں تھیں۔
پڑوس کی آنٹی نے دھیمے لہجے میں بتایا:
"ماں جی پچھلے ہفتے انتقال کر گئیں۔"
میں کچھ لمحے وہیں ساکت کھڑا رہا۔ ہاتھ خالی تھے... لیکن دل میں جیسے کچھ ٹوٹ کر گرا۔
ان آنٹی نے مجھے ایک لفافہ دیا:
"وہ تمہارے لیے چھوڑ کر گئی ہیں۔"
میں نے کانپتے ہاتھوں سے اسے کھولا۔
اندر 500 روپے تھے... اور ایک چٹھی:
"بچے،
اگر تم یہ پڑھ رہے ہو تو میں جا چکی ہوں۔ اس دن میرے ساتھ بیٹھنے کے لیے تمہارا شکریہ۔ تم نے مجھے صرف کھانا نہیں دیا... بلکہ عزت اور احترام دیا۔ اور ہاں— اپنی ماں کو فون کرتے رہنا۔
— تمہاری ماں"
آج بھی وہ 500 روپے میرے بیگ کی اندرونی جیب میں محفوظ ہیں۔ میں نے انہیں کبھی خرچ نہیں کیا۔
کیونکہ اس رات مجھے سمجھ آیا تھا کہ—
ہر دروازے کے پیچھے صرف ایک کسٹمر (گاہک) نہیں ہوتا...
کبھی ماں ہوتی ہے...
کبھی انتظار ہوتا ہے...
اور کبھی آخری ملاقات۔
ہم سب کسی نہ کسی چیز کے بھوکے ہیں—
کسی کو غذا کی بھوک ہے...
کسی کو دوا کی...
اور کسی کو... بس دو پل کے ساتھ کی!
انسان کو ہمیشہ پیسوں یا چیزوں کی ہی ڈلیوری نہیں چاہیے ہوتی—
کبھی کبھی...
صرف آپ کی موجودگی کی ڈلیوری ہی کافی ہوتی ہے۔
کدورت اور بوجھل پن کا احساس اب بھی دل میں باقی ہے...
بڑھاپا اور تنہائی— یہ دونوں جب ایک ساتھ زندگی میں آتے ہیں، تو جینا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اور اگر اس میں اپنوں کی دوری یا محرومی کا سایہ بھی شامل ہو جائے— تو یہ زندگی کا سب سے بڑا المیہ بن جاتا ہے۔
ہمیں اپنی بنیادوں کو کبھی فراموش نہیں کر نا چاہیے جیسے والدین بھائی بہن ۔ ہم چاہے کتنے ہی بڑے ہو جائیں لیکن اپنے عزیزوں کے لیے چھوٹے ہی ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم تمام کا حامی و ناصر ہو

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔