گووا کی عدلیہ کے لیے ایک اور اعزاز، ڈاکٹر شبنم شیخ نے قانون میں پی ایچ ڈی حاصل کر لی۔ (عمران انعا مدار)
گووا کی عدلیہ کے لیے ایک اور اعزاز، ڈاکٹر شبنم شیخ نے قانون میں پی ایچ ڈی حاصل کر لی۔
(عمران انعا مدار)
پنجی: گوا کی عدلیہ کے لیے یہ ایک اور قابلِ فخر لمحہ ہے کہ ڈاکٹر شبنم شیخ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج-III اور ایڈیشنل سیشنز جج، جنوبی گووا، نے قانون (لا) میں ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) کی ڈگری حاصل کر کے ایک نمایاں تعلیمی سنگِ میل عبور کیا ہے۔ ان کی اس کامیابی کو عدالتی، قانونی اور تعلیمی حلقوں میں بھرپور سراہا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر شبنم شیخ اس وقت بمبئی ہائی کورٹ کے سرکٹ بینچ، کولہاپور میں آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انہیں 2 مئی 2026 کو پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی گئی۔ ان کے تحقیقی مقالے کا عنوان "ریاستِ گووا میں ازدواجی تنازعات کے سماجی و قانونی پہلوؤں کا تنقیدی مطالعہ" تھا، جس میں گووا میں ازدواجی تنازعات سے متعلق پیچیدہ سماجی اور قانونی مسائل کا جائزہ لیا گیا ہے۔
یہ تحقیق وی۔ ایم۔ سالگاؤکار کالج آف لا، گووا کے پرنسپل ڈاکٹر پروفیسر شبیر علی، کرناٹک یونیورسٹی دھارواڑ کے فیکلٹی آف لا کے ڈین پروفیسر وشواناتھ ایم، اور وی۔ ایم۔ سالگاؤکار کالج آف لا کی پروفیسر کم روچا کی نگرانی میں مکمل کی گئی، جبکہ ڈاکٹر این۔ کولوالکر نے داخلی رہنما کے طور پر خدمات انجام دیں۔
عدالتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیمی تحقیق کو کامیابی سے مکمل کرنا ڈاکٹر شبنم شیخ کی محنت، استقامت اور علمی وابستگی کا روشن ثبوت ہے۔ انہوں نے اپنی اس کامیابی کا سہرا اپنے اہلِ خانہ کی مسلسل حوصلہ افزائی اور تعاون کو بھی دیا ہے۔
ڈاکٹر شبنم شیخ کے شوہر جناب سلیم شیخ، گووا پولیس میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدے پر فائز ہیں۔ ان کا تعلق ایک ممتاز خاندان سے ہے جس کے افراد قانونی شعبے میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے بھائی ایڈوکیٹ افتخار آغا اور ایڈوکیٹ عرفان آغا وکالت کے پیشے سے وابستہ ہیں، جبکہ ایک اور بھائی جناب ارشاد آغا رجسٹرارکے طور بومبے ہائی کورٹ گوا میں خدمات۔ ان کے بچے سلمیٰ اور الفاظ زیرِ تعلیم ہیں اور ان کی کامیابی میں مسلسل حوصلہ افزائی کا ذریعہ رہے ہیں۔ اور والد مرحوم ایڈووکیٹ اشرف آغا کا گوا کے ممتاز وکیلوں میں ہوتا تھا-
آل گووا مسلم جماعت کے صدر شیخ بشیر نے ڈاکٹر شبنم شیخ کو اس شاندار کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف گووا ہی نہیں بلکہ پوری برادری کے لیے باعثِ فخر لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شادی کے بعد اکثر لڑکیاں اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہیں اور ان کی صلاحیتیں منظرِ عام پر نہیں آ پاتیں، لیکن ڈاکٹر شبنم شیخ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عزم، محنت اور خاندانی تعاون کے ذریعے خواتین اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتی ہیں۔ انہوں نے مسلم سماج سمیت تمام طبقات پر زور دیا کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کی صلاحیتوں کو بھرپور مواقع فراہم کریں۔
ڈاکٹر شبنم شیخ کی یہ کامیابی عدلیہ، قانونی برادری، تعلیمی حلقوں اور عوام کے درمیان خوشی اور فخر کا باعث بنی ہوئی ہے۔ مختلف شخصیات نے انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے روشن مستقبل اور مزید کامیابیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
Comments
Post a Comment