ایس آئی آر کے خلاف بیدر سے عوامی بیداری مہم کا آغاز، ووٹنگ کے حق کے تحفظ کا عزم۔


بیدر۔14/جون۔(نامہ نگارمحمد عبدالصمد)۔ ریاست کرناٹک میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے خلاف عوامی بیداری مہم کے تحت منعقدہ ”ایس آئی آر مخالف جن جاگرتی جاتھا“ کا آج ہفتہ کے روز بیدر شہر کے امبیڈکر چوک میں باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ ریاست کے پانچ مختلف مقامات سے شروع ہونے والی اس بیداری مہم کا مقصد عوام میں ووٹنگ کے حق کے تحفظ اور جمہوری اقدار کے فروغ کے حوالے سے شعور بیدار کرنا ہے۔”ایس آئی آر مخالف کرناٹک“ اور ”اُدّھیلو کرناٹک“ تحریک کے علاوہ مختلف سیکولر سیاسی جماعتوں اور ترقی پسند تنظیموں کی قیادت میں منعقد ہونے والی یہ ریلی 13 جون سے شروع ہو کر کلیان کرناٹک کے تمام اضلاع کا دورہ کرے گی اور 20 جون کو بنگلورو کے فریڈم پارک میں ایک عظیم الشان عوامی اجتماع پر اختتام پذیر ہوگی۔اس موقع پر ”اُدّھیلو کرناٹک“ کے قائد جے.ایم. ویرسنگیا نے ریلی کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک بھر میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے نام پر لاکھوں اہل ووٹروں کو ان کے آئینی حقِ رائے دہی سے محروم کیے جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کرناٹک میں ایس آئی آر کے نفاذ کے دوران کسی بھی اہل ووٹر کا نام فہرست سے خارج نہ کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بعض ریاستوں میں اختیار کیے گئے غیر سائنسی اور ناقص معیارات کو کرناٹک میں نافذ نہ کیا جائے۔ ریاستی حکومت گرام سبھاؤں کے ذریعے ایسے افراد کی نشاندہی کرے جن کے پاس مطلوبہ دستاویزات موجود نہیں ہیں اور انہیں فوری طور پر ضروری دستاویزات فراہم کیے جائیں تاکہ کوئی بھی شہری محض رسمی یا معمولی کمی کی بنیاد پر اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ ہو۔بیدر بسوا منٹپ کی ستیہ دیوی، سی پی آئی کے قائد بابوراؤ ہُنّا، دلت سنگھرش سمیتی کے قائد ماروتی بُدھے، کے پی سی سی خواتین ونگ کی ریاستی نائب صدر راج شری سوامی اور عام آدمی پارٹی کے ضلعی صدر سدھپّا پ پھُلاری سمیت متعدد مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ کا حق بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی عطا کردہ آئینی میراث ہے اور اسے کسی صورت سلب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے ایس آئی آر کو جمہوریت اور عوامی مفادات کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی منسوخی کا مطالبہ کیا۔مقررین نے الزام عائد کیا کہ ایس آئی آر کا موجودہ طریقہ کار غیر آئینی، غیر سائنسی، خامیوں سے بھرپور اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے نام پر غریبوں، مزدوروں، دیہی آبادی، اقلیتوں، جنسی اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے ووٹنگ کے حقوق کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ریلی میں ”اُدّھیلو کرناٹک“ کے رابطہ کار اوم پرکاش روٹے، جگدیشوربرادر، محمدنظام الدین، لکشمن منڈلگیریا، درگیش اور چندرو ترہونسے، وٹھل داس پیاگے،شریکانت سوامی،مہیش گڑناڑکر،ملیکارجن سوامی،کاشی ناتھ چلوا،بسواراج اشٹورے، سنتوش گدگے، شرنو پھُلے، شانتما ملگے،اوماکانت ولاس پورے، محمد عارف الدین، سید ابراہیم،محمد فراست علی ایڈوکیٹ، اسما سلطانہ، صبیحہ خانم، ظفر اللہ خان اور اسلم قادری کے علاوہ ایس آئی آر مخالف کمیٹی کے متعدد ذمہ داران شریک ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی آر پی آئی، سی پی آئی، کرناٹک ریاستی رعیت سنگھ، سنیکت کسان مورچہ، کرناٹک دلت سنگھرش سمیتی، وشو کرانتی دیویا پیٹھ، جماعت اسلامی ہند، جنسی اقلیتوں کے حقوق کی تنظیم اور اکھل بھارت لنگایت مہاسبھا سمیت مختلف سماجی، سیاسی اور عوامی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔