شادی شدہ زندگی میں مرد کا کردار — بیٹے اور شوہر کی حیثیت سے۔۔ ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔


شادی شدہ زندگی میں مرد کا کردار — بیٹے اور شوہر کی حیثیت سے۔ 
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔ 
M A M Ed 
8904317986

شادی شدہ زندگی میں مرد کا کردار — بیٹے اور شوہر کی حیثیت سے شادی کے بعد مرد کی زندگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی ہے۔ اس سے پہلے وہ صرف بیٹا تھا، لیکن نکاح کے بعد وہ شوہر بھی بن جاتا ہے۔ اب اس کے کندھوں پر دو عظیم ذمہ داریاں آ جاتی ہیں۔ ایک طرف ماں باپ کے حقوق ہیں اور دوسری طرف بیوی کے حقوق۔ اسلام نے دونوں کے حقوق بیان کیے ہیں اور مرد کو عدل و انصاف کا پابند بنایا ہے۔
بعض لوگ شادی کے بعد صرف بیوی کے ہو کر رہ جاتے ہیں اور والدین کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جبکہ بعض لوگ صرف والدین کی خوشنودی کے لیے بیوی کے حقوق پامال کر دیتے ہیں۔ دونوں رویے غلط ہیں۔ کامیاب مرد وہ ہے جو دونوں کے درمیان انصاف اور توازن قائم رکھے۔
پہلی مثال: ماں اور بیوی کا اختلاف
فرض کیجیے کہ بیوی فون کرکے شوہر سے کہتی ہے:
"آپ کی والدہ نے آج مجھے سخت باتیں سنائیں، مجھے بہت تکلیف ہوئی ہے۔"
کچھ دیر بعد والدہ کہتی ہیں:
"تمہاری بیوی میرے سامنے جواب دیتی ہے، اسے ادب نہیں ہے۔"
ایسے وقت میں اگر شوہر فوراً کسی ایک فریق کا ساتھ دے دے تو مسئلہ بڑھ جاتا ہے۔
❌ غلط رویہ: "میری ماں کبھی غلط نہیں ہو سکتی، ضرور تمہاری ہی غلطی ہوگی۔"
یا
"میری بیوی جھوٹ نہیں بول سکتی، میری ماں ہی قصوروار ہیں۔"
✅ صحیح رویہ: "میں دونوں کی بات سنوں گا، اصل حقیقت جاننے کی کوشش کروں گا اور محبت سے مسئلہ حل کروں گا۔"
ایسا شوہر گھر میں امن پیدا کرتا ہے جبکہ جانبداری کرنے والا شوہر گھر کو میدانِ جنگ بنا دیتا ہے۔
دوسری مثال: مالی معاملات
بعض مرد شادی کے بعد اپنی پوری آمدنی صرف بیوی اور بچوں پر خرچ کرتے ہیں اور والدین کی ضروریات بھول جاتے ہیں۔
دوسری طرف بعض لوگ اپنی ساری توجہ والدین پر رکھتے ہیں اور بیوی اور بچوں کی ضروریات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
دونوں صورتیں مناسب نہیں۔
مثلاً ایک شخص کی آمدنی محدود ہے۔ اس کی والدہ بیمار ہیں اور بیوی کو بھی ضروری اخراجات درپیش ہیں۔ دانشمند مرد اپنے وسائل کو عدل کے ساتھ تقسیم کرتا ہے اور دونوں کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
تیسری مثال: راز داری اور اعتماد
بعض مرد ماں کے سامنے بیوی کی ہر بات بیان کر دیتے ہیں اور بعض بیوی کے سامنے والدین کی ہر بات پہنچا دیتے ہیں۔
نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دلوں میں بدگمانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔
عقلمند شوہر گھر کے رازوں کی حفاظت کرتا ہے اور غیر ضروری باتوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کرتا۔
جس طرح ایک ڈاکٹر مریض کا راز محفوظ رکھتا ہے، اسی طرح شوہر کو بھی گھر کی عزت اور راز کی حفاظت کرنی چاہیے۔
چوتھی مثال: بیوی کی عزت کا تحفظ
اگر کسی خاندانی مجلس میں کوئی شخص بیوی کی بے عزتی کرے تو شوہر کا فرض ہے کہ حکمت اور شائستگی کے ساتھ اس کی عزت کا دفاع کرے۔
خاموش تماشائی بن جانا مناسب نہیں۔
اسی طرح اگر بیوی والدین کے بارے میں نامناسب گفتگو کرے تو شوہر کو محبت سے اسے سمجھانا چاہیے کہ والدین کا احترام ضروری ہے۔
پانچویں مثال: ماں کی خدمت اور بیوی کا احترام
ایک شخص روزانہ دفتر سے واپس آتا ہے۔ گھر پہنچ کر پہلے اپنی والدہ کی خیریت دریافت کرتا ہے، پھر بیوی اور بچوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے۔
وہ والدہ کی خدمت کو سعادت سمجھتا ہے اور بیوی کے ساتھ حسنِ معاشرت کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔
ایسے گھر میں محبت بڑھتی ہے کیونکہ ہر فرد محسوس کرتا ہے کہ اس کی قدر کی جا رہی ہے۔
آج کے دور کا ایک بڑا مسئلہ
آج کل بعض مرد اپنی ذمہ داری سے بچنے کے لیے خاموش رہتے ہیں۔ جب ماں اور بیوی میں اختلاف ہو تو وہ کہتے ہیں:
"جو کرنا ہے خود کرو، مجھے کچھ نہیں معلوم۔"
یہ بھی درست طرزِ عمل نہیں۔
گھر کا سربراہ ہونے کے ناطے شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکمت، صبر اور انصاف کے ساتھ معاملات کو سنبھالے۔
جو شخص مسئلے سے بھاگتا ہے، مسئلہ اس کے پیچھے چلتا رہتا ہے؛ اور جو حکمت سے مسئلہ حل کرتا ہے، اس کا گھر سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے۔
خلاصۂ کلام
ایک کامیاب مرد کی پہچان یہ نہیں کہ وہ صرف اچھا بیٹا ہو یا صرف اچھا شوہر، بلکہ اس کی اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ:
والدین کا فرمانبردار ہو۔
بیوی کے حقوق ادا کرے۔
عدل و انصاف کو اختیار کرے۔
غصے کے بجائے حکمت سے کام لے۔
کسی ایک فریق کا اندھا حمایتی نہ بنے۔
گھر میں محبت، احترام اور اعتماد کا ماحول پیدا کرے۔
یاد رکھیے! "ماں کی خدمت سعادت ہے، بیوی کے حقوق امانت ہیں، اور ان دونوں کے درمیان انصاف کرنا مردانگی اور دینداری کی علامت ہے۔"

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔