رشتے داریاں اب صرف قبر کی تین مٹھی۔۔ تحریر: شعیب احمد محمدی۔
رشتے داریاں اب صرف قبر کی تین مٹھی۔
تحریر: شعیب احمد محمدی۔
دنیا جیسے جیسے ترقی کر رہی ہے، ویسے ہی انسانیت، ہمدردی، خیر خواہی، ایک دوسرے کے سکھ دکھ میں کام آنا - یہ سب ختم ہوتا جا رہا ہے۔ دیہات میں رہنے والا پوری دنیا کی خبر رکھتا ہے، مگر اسی گاؤں دیہات میں رہنے والا اپنے ماں باپ، بھائی بہن اور تمام قریبی رشتے داروں کے حالات سے بالکل ناواقف رہتا ہے۔
اسی طرح قریبی رشتے داروں کے گھر بھی ہم کم ہی آتے جاتے ہیں۔ کوئی شکایت کرے کہ "تم لوگ تو ایسا لگتا ہے کہ ہمیں بھول گئے ہو"، تو جواب دیتے ہیں کہ "ایسا نہیں ہے، کام سے فرصت ہی نہیں ملتی"۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 5G موبائل میں نیٹ فری ہے، اسی میں فرصت کے اوقات ضائع کر دیتے ہیں۔ _سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ انٹرنیٹ فری ہے یا انسان انٹرنیٹ کے لیے فری ہے۔
رشتے دار میں کوئی بیمار ہو یا کوئی پریشانی ہو، ان رشتے داروں کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ چل کر ذرا دیر خبر لے لیں۔ انسان کو پیسے سے زیادہ، آپ کا بیماری پریشانی کے وقت کھڑے ہو کر نیک مشورہ دینا چاہیے، جس کی انجام دہی سے آپ بھاگتے ہیں۔
حد تو یہ ہو گئی ہے کہ اب قریبی رشتے دار کے انتقال کی خبر ملنے کے بعد بھی ان کے گھر نہیں جاتے، بلکہ متعین وقت پر قبرستان پہنچ کر _صرف تین مٹھی مٹی قبر پر ڈالنا اپنا پہلا اور آخری فریضہ سمجھتے ہیں۔_اسی لیے لکھا کہ رشتے داریاں اب صرف قبر کی تین مٹھی باقی رہ گئ ہے۔!!! خدارا رشتے داری نبھاؤ۔
_وائے ناکامی! متاعِ کارواں جاتا رہا_
_کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا_
اے کاش کہ ہر رشتے دار اپنے متعلقین کی خبر گیری کرتا رہے اور ان کے سکھ دکھ کا ساتھی بنا رہے۔
_شعر:
بہت مصروف ہیں بھائی بہن، اب مشکل سے ملتے ہیں
غنیمت ہے کہ ہم ماں باپ کی برسی پر ہی ملتے ہیں
اگر تہوار نہ ہوتے تو ملاقاتیں نہیں ہوتیں
تو اب رسماً ہی رسموں کو نبھا کر ملتے ہیں
دیکھنے میں آتا ہے کہ دوستوں سے دوستی بالکل پکی رکھتے ہیں اور رشتے داروں سے رشتے بالکل کچے رکھتے ہیں۔
ہمارے آقا محمد ﷺ کا فرمان ہے: _«لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ قَاطِعٌ»_ یعنی "رشتہ توڑنے والا جنت میں نہیں جائے گا"۔
ہمارے سامنے اخلاقِ نبوی ﷺ ہے۔ اسے اپناتے ہوئے، حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا بھی اہتمام کرتے ہوئے زندگی گزاریں، تو ہماری دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں گی، ان شاء اللہ۔
---
رشتے داری، رزق اور عمر کی کنجی :
نبی ﷺ نے فرمایا: _«مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ، وَأَنْ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ»_
"جو چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں برکت ہو اور عمر بڑھ جائے، وہ صلہ رحمی کرے"۔ بخاری: ، مسلم:
یعنی رشتے دار سے ملنا صرف اخلاق نہیں، یہ برکت اور لمبی عمر کا عمل ہے۔
قرآن: _«وَاتَّقُوا اللَّہَ الَّذِی تَسَاءَلُونَ بِہِ وَالْأَرْحَامَ»_ - اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو، اور رشتوں کے معاملے میں ڈرو۔ سورہ نساء:1
صلہ رحمی کا معیار :
اسلاف کا اصول تھا: "صلہ رحمی یہ نہیں کہ جو ملے اس سے ملو۔ صلہ رحمی یہ ہے کہ جو توڑے اس سے جوڑو"۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہیکہ ایک شخص نے شکایت کی: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے کچھ رشتے دار ہیں، میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں وہ قطع کرتے ہیں، میں ان سے بھلائی کرتا ہوں وہ برائی کرتے ہیں، میں برداشت کرتا ہوں وہ جہالت کرتے ہیں۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: _«لَئِنْ كُنْتَ كَمَا قُلْتَ، فَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ، وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ»_
"اگر تو ایسا ہی ہے جیسا تو کہہ رہا ہے، تو گویا تو ان کے منہ میں گرم راکھ جھونک رہا ہے، اور جب تک تو اس حال پر رہے گا اللہ کی طرف سے ان کے مقابلے میں تیرا ایک مددگار رہے گا"۔ مسلم:
اخلاق کا تقاضا: رشتے دار کی غلطی 10 بار معاف کرو۔ دوست کی 1 غلطی پر رشتہ توڑ دیتے ہوکیا؟ ، رشتے دار کی 10 غلطی پر بھی رشتہ نبھاؤ۔ یہی اخلاقِ محمدی ﷺ ہے۔
ٹوٹے رشتے، ٹوٹا معاشرہ :
معاشرہ افراد سے بنتا ہے، افراد خاندان سے، خاندان رشتوں سے۔ جب رشتے ٹوٹیں گے تو معاشرہ کھنڈر بن جائے گا۔
آج ہر رشتے دار منتظر ہے کی انکا قریبی ملنے آتے ہیں کیا؟ آج کوئی کسی کو ملنے نہیں جاتا بس کال پر بات کرلیے سمجھے کے حق ادا ہوگیا نہیں پیاروں!!!
آج طلاق کیوں بڑھ رہی ہے؟ کیونکہ میاں بیوی کے جھگڑے میں کوئی بڑا رشتے دار بیٹھ کر سمجھانے والا نہیں رہا۔
آج ڈپریشن کیوں ہے؟ کیونکہ دکھ بانٹنے والا خالہ، پھوپھی، چچا یا اور کوئی رشتے دار پاس نہیں بیٹھتا۔
سماجی حل: ہفتے یا مہینے میں 1 دن "رشتے داروں" سے ملنے کا دن طئے کرلو۔ موبائل بند، رشتے داروں کے گھر گھر جاؤ ۔ ملاقات کرو ، حال چال پوچھو، اچھے حالات ہوں تو خوشی کا اظہار کرو، بیماری ، تکلیف ، مصیبت، پریشانی ، ہوتو تسلی دلاسہ،اور صبر کی ترغیب دو، اس عمل سے رشتے مضبوط ہونگے اور آپکے رشتے دار آپکی دل سے عزت اور دعاء دیں گے۔ یہ 2 گھنٹے تمہارے 20 سال کے ڈپریشن کا علاج ہیں۔ پھر نا کوئی رشتے دار شکوہ کرے گا نا کوئی ناراض رہے گا ۔
آخری سنہری باتیں:_
1. _دینی_: رشتہ جوڑنے والا اللہ سے جڑ جاتا ہے۔ حدیث: _«الرَّحِمُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَقُولُ مَنْ وَصَلَنِي وَصَلَهُ اللَّهُ، وَمَنْ قَطَعَنِي قَطَعَهُ اللَّهُ»_ - رشتہ عرش سے لٹک کر کہتا ہے: جو مجھے جوڑے گا اللہ اسے جوڑے گا، جو مجھے توڑے گا اللہ اسے توڑ دے گا۔ مسلم:
2. _اخلاقی_: معافی مانگ لینا چھوٹا پن نہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "صدقہ کرو، معاف کرو، عاجزی کرو - اللہ تمہارا مرتبہ بڑھا دے گا"۔ مسلم:
آج سے عہد کرو: "یا اللہ! مجھے صلہ رحمی کرنے والا اور حقوق العباد کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرما"۔ آمین
---
ماشاءاللہ
ReplyDelete