کمر توڑ مہنگائی اور عام عوام: بی جے پی حکومت کی معاشی ناکامی - ازقلم : طاہر حُسین۔


کمر توڑ مہنگائی اور عام عوام: بی جے پی حکومت کی معاشی ناکامی - 
ازقلم : طاہر حُسین۔

رسوئی گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ اس وقت ملک کی عام عوام، بالخصوص غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ ایک عام شہری، کسان، اور گھریلو خاتون کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ صورتحال بی جے پی حکومت کی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ 
 *کچن کا بگڑتا بجٹ اور خواتین کی پریشانی* 
ایک عام گھریلو خاتون کے لیے گھر چلانا اب ایک چیلنج بن چکا ہے۔ بی جے پی حکومت نے اقتدار میں آنے سے پہلے "بہت ہوئی مہنگائی کی مار" کا نعرہ دیا تھا، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔چند سال پہلے تک جو ایل پی جی سلنڈر 400 سے 500 روپے میں ملتا تھا، وہ اب ایک ہزار روپے کے ہندسے کو چھو رہا ہے یا اس سے اوپر ہے۔حکومت نے 'اجولا یوجنا' کے تحت غریب خواتین کو مفت گیس کنکشن تو بانٹ دیے، لیکن سلنڈر اتنا مہنگا کر دیا کہ غریب خاندان دوبارہ لکڑیاں اور اوپلے جلانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ غریب عوام کا سوال ہے کہ اگر وہ سلنڈر ری فل ہی نہیں کرا سکتے، تو اس اسکیم کا کیا فائدہ؟
 *پٹرول، ڈیژل اور 'مہنگائی کا جھٹکا'* 
پٹرول اور ڈیژل اب صرف گاڑی والوں کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ہر اس انسان کا مسئلہ ہے جو روٹی کھاتا ہے۔
 جب ڈیژل مہنگا ہوتا ہے، تو لاریوں اور ٹرکوں کا کرایہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کا براہ راست نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ منڈی میں آنے والی سبزیاں، دالیں، دودھ اور ادویات عام انسان کی پہنچ سے باہر ہو جاتی ہیں۔
 نوکری پیشہ اور مڈل کلاس طبقہ، جو بائیک یا چھوٹی گاڑی سے ڈیوٹی پر جاتا ہے، اس کی کمائی کا ایک بڑا حصہ صرف پٹرول پمپ پر ہی ختم ہو جاتا ہے۔ پٹرول پر لگنے والی بھاری ایکسائز ڈیوٹی (Excise Duty)حکومت کی عیاشی اور اپنی جیب پر ڈاکہ ہے۔
 *کسانوں پر دوہری مار* 
ہندوستان ایک زرعی ملک ہے، اور یہاں کا کسان پہلے ہی موسم کی مار جھیل رہا ہے۔ بی جے پی حکومت نے کسانوں کی آمدنی دگنی کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ان کی لاگت دگنی کر دی۔
 کھیتی باڑی میں ٹریکٹر چلانے اور پانی کے پمپ کے لیے ڈیژل کا استعمال ہوتا ہے۔ ڈیژل کی قیمتیں آسمان چھونے سے کسان کی لاگت بڑھ گئی ہے، جبکہ اسے اپنی فصل کا صحیح دام (MSP) اب بھی نہیں مل پا رہا۔ *انٹرنیشنل مارکیٹ کا بہانہ اور حکومت کا ٹیکس لوٹ* 
عوام کا سب سے بڑا گلہ یہ ہے کہ حکومت اپنی ناکامی چھپانے کے لیے ہمیشہ "بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں" بڑھنے کا بہانہ بناتی ہے۔جب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر کم ہوتی ہیں، تب بھی حکومت پٹرول سستا کیوں نہیں کرتی؟ حکومت اس وقت ٹیکس بڑھا کر اپنا خزانہ بھرتی ہے، اور جب عالمی قیمتیں بڑھتی ہیں، تو سارا بوجھ عوام پر ڈال دیتی ہے۔ یہ عام عوام کے ساتھ صریح ناانصافی ہے۔حکومت بڑے بڑے سرمایہ داروں اور کارپوریٹ کمپنیوں کے لاکھوں کروڑوں کے قرضے معاف کر رہی ہے، اور اس کا خسارہ عام عوام پر پٹرول اور گیس کا ٹیکس لگا کر پورا کیا جا رہا ہے۔
بی جے پی حکومت مہنگائی کو قابو کرنے اور شہریوں کو ایک باوقار زندگی دینے میں بری طرح سے ناکام رہی ہے۔ اچھے دنوں (اچھے دن آئیں گے) کا خواب دکھا کر اقتدار میں آنے والی حکومت نے مڈل کلاس اور غریبوں کو ایک ایسے دلدل میں دھکیل دیا ہے جہاں وہ صرف بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
اگر حکومت واقعی عوام کی ہمدرد ہے، تو اسے پٹرولیم مصنوعات پر سے ٹیکس کم کرنے ہوں گے، گیس پر سبسڈی دوبارہ بحال کرنی ہوگی، اور کارپوریٹ نواز پالیسیوں کے بجائے عام انسان کی جیب کو راحت دینی ہوگی۔ ورنہ یہ مہنگائی آنے والے وقت میں حکومت کے لیے سیاسی طور پر سب سے بڑی ناکامی ثابت ہوگی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔