افسانہ - پرندے واپس آئیں گے - ازقلم : محمد اقلیم۔


افسانہ - 
پرندے واپس آئیں گے - 
ازقلم : محمد اقلیم۔

شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور بوڑھے عبدالکریم چچا ہمیشہ کی طرح صحن میں بچھی پرانی چارپائی پر بیٹھے لرزتے ہاتھوں سے حقہ سلگا رہے تھے۔ ان کی نظریں صحن کے بیچوں بیچ کھڑے اس بوڑھے، سوکھے ہوئے نیم کے درخت پر ٹکی تھیں جو اب صرف چند بے جان ٹہنیوں کا مجموعہ بن کر رہ گیا تھا۔ایک وقت تھا جب یہ صحن چڑیوں کی چہچہاہٹ، طوطوں کی ٹیں ٹیں اور کبوتروں کی غٹر غوں سے گونجتا رہتا تھا۔ عبدالکریم چچا کا دن ہی پرندوں کو دانہ ڈالنے اور مٹی کے کونڈے میں تازہ پانی بھرنے سے شروع ہوتا تھا لیکن پھر، وقت بدلا۔پہلے گاؤں کے کچے مکانات کی جگہ سیمنٹ کے پکے لنٹروں نے لے لی۔ پھر سڑک چوڑی کرنے کے نام پر راستے کے گھنے پیپل اور برگد کے درخت کاٹ دیے گئے اور رہی سہی کسر موبائل کے اس اونچے ٹاور نے پوری کر دی جو عبدالکریم چچا کے گھر سے چند گز دوری پر نصب کیا گیا تھا۔ اس کی نادیدہ شعاعوں اور بدلتی فضا نے پرندوں کو ہجرت پر مجبور کر دیا۔ دھیرے دھیرے صحن خاموش ہو گیا اور نیم کا درخت تپتی دھوپ میں اکیلا کھڑا جھلستا رہا۔
’چچا! اب یہاں کوئی پرندہ نہیں آئے گا،‘ پڑوس کے نوجوان فہیم نے ایک دن گزرتے ہوئے کہا تھا۔ ’سائنس کہتی ہے کہ اب اس ماحول میں پرندے سانس بھی نہیں لے سکتے، آپ کیوں روز یہ پانی اور دانہ رکھ کر اپنی بوڑھی ہڈیوں کو تھکاتے ہیں؟‘
عبدالکریم چچا نے حقے کا ایک لمبا کش لیا، دھواں ہوا میں اچھالا اور دھیمے سے مسکرا کر کہا’بیٹا، سائنس اپنی جگہ سچی ہوگی، لیکن پرندوں کا زمین سے رشتہ انسانوں جیسا مطلب پرست نہیں ہوتا۔ زمین جب سونا اگلتی ہے تو انسان دوڑے آتے ہیں اور جب قحط پڑتا ہے تو چھوڑ کر شہر بھاگ جاتے ہیں۔ پرندے ایسے نہیں ہوتے۔ یہ درخت ان کا پہلا گھر تھا اور ہجرت کرنے والا گھر کو کبھی نہیں بھولتا۔ دیکھ لینا، پرندے واپس آئیں گے۔
لوگ چچا کی اس امید کو بڑھاپے کا وہم سمجھتے تھے۔ وقت گزرتا رہا۔ چچا بیمار رہنے لگے، لیکن ان کا معمول نہیں بدلا۔ وہ لاٹھی ٹیکتے ہوئے اٹھتے، مٹی کے برتن کو صاف کرتے، اس میں پانی بھرتے اور مٹھی بھر باجرہ وہیں بکھیر دیتے۔ وہ باجرہ دن بھر دھوپ میں پڑا رہتا اور شام کو چیونٹیاں اسے سمیٹ کر لے جاتیں، پرندہ کوئی نہ آتا۔پھر ایک سال ایسا آیا کہ مانسون نے رخ بدل لیا۔ گاؤں میں ایسی طوفانی اور مسلسل بارشیں ہوئیں کہ حبس اور آلودگی کی ساری تہیں دھل گئیں۔ موبائل ٹاور میں کوئی تکنیکی خرابی آئی تو وہ مہینوں کے لیے بند ہو گیا۔ قدرت نے جیسے خود کو دوبارہ ترتیب دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
ایک صبح، جب بارش تھم چکی تھی اور ہوا میں مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو رچی ہوئی تھی، عبدالکریم چچا بستر پر لیٹے شدید کھانسی کا مقابلہ کر رہے تھے۔ ان کا جسم نڈھال تھا اور آنکھیں بند تھیں۔اچانک، صحن سے ایک ہلکی سی آواز آئی۔ ’چیں..... چیں!‘چچا کے کان کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے سوچا شاید یہ ان کے کانوں کا بجنا ہے لیکن پھر ایک اور آواز آئی، اور پھر ایک ساتھ کئی آوازوں کا کورس شروع ہو گیا۔
بوڑھے عبدالکریم چچا نے پوری طاقت مجتمع کی اور دیوار کا سہارا لے کر کھڑکی کے پاس آئے۔ جو منظر باہر تھا، اسے دیکھ کر چچا کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔سوکھے نیم کے درخت کی ایک ٹہنی پر، جہاں کچھ ہی دن پہلے ایک ہری کونپل پھوٹی تھی، دو چھوٹی چڑیاں بیٹھی پر پھڑپھڑا رہی تھیں۔ مٹی کے برتن کے کنارے پر ایک کبوتر بیٹھا غٹر غوں کررہا تھا اور کچھ گوریّاں زمین پر گرے باجرے کے دانے چگ رہی تھیں۔ صحن برسوں بعد دوبارہ آباد ہو چکا تھا۔
عبدالکریم چچا کے چہرے پر ایک ایسی مسکراہٹ پھیل گئی جو لفظوں سے ماورا تھی۔ انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا، دونوں ہاتھ اٹھائے اور کانپتی آواز میں گویا ہوئے :’میں نے کہا تھا نا.....یہ اپنا گھر نہیں بھولتے، پرندے واپس آ گئے!‘
گاؤں کے لوگ جو چچا کی امید کا مذاق اڑاتے تھے، آج خاموش کھڑے اس کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ انسان شاید ہار گیا تھا، لیکن چچا کی امید کبھی نہیں ہاری تھی۔==

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔