مرحوم الحاج عبدالواحد صاحب چودھری ایڈووکیٹ کی یاد میں فکرِ آخرت و تعزیتی اجلاس کامیابی سے منعقد - علماء و دانشوروں کے مؤثر خطابات، مرحوم کی خدمات کو شاندار خراجِ عقیدت، طلبہ کی باوقار شرکت نے روحانی ماحول کو دوبالا کر دیا۔


شوراپور (نامہ نگار: رہبر تماپوری): رنگم پیٹ، دیوگیرہ روڈ پر واقع معروف دینی درسگاہ طیبہ ٹرسٹ جامعہ احیاء العلوم کے زیرِ اہتمام مسجد حاجی عبدالرحیم چودھری (جامعہ نگر) میں مرحوم الحاج عبدالواحد صاحب چودھری ایڈووکیٹ کی یاد میں "تعزیتی و اصلاحی اجلاس اور فکرِ آخرت" نہایت روح پرور، باوقار اور کامیاب انداز میں منعقد ہوا۔ اس بابرکت اجلاس میں شہر و اطراف کے علماء کرام، ائمہ مساجد، معززینِ شہر، وکلاء، اساتذہ، سماجی شخصیات اور عوام الناس نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جبکہ جامعہ احیاء العلوم کے تمام طلبہ بھی آغاز سے اختتام تک نہایت نظم و ضبط، ادب اور انہماک کے ساتھ شریک رہے۔ طلبہ کی باوقار موجودگی اور خاموشی سے خطابات کو سماعت کرنے سے پوری مجلس نورانیت، سنجیدگی اور دینی وقار کا حسین منظر پیش کر رہی تھی۔
اجلاس کی سرپرستی حضرت الحاج حافظ مقصود احمد صاحب خطیب دامت برکاتہم العالیہ نے فرمائی، جبکہ صدارت کے فرائض الحاج عبدالحکیم انجم صاحب چودھری (صدر مسجد حاجی عبدالرحیم چودھری) نے انجام دیے۔ پروگرام کا اہتمام حافظ اصغر حسین صاحب تالیکوٹی (مہتمم جامعہ احیاء العلوم) کی نگرانی میں ہوا اور نظامت کے فرائض مفتی محمد توفیق صاحب اشاعتی نے نہایت عمدگی اور خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیے۔
ابتدا میں مرحوم الحاج عبدالواحد صاحب چودھری ایڈووکیٹ کی حیاتِ خدمات پر روشنی ڈالی گئی اور ان کی دینی، ملی، سماجی، رفاہی اور قانونی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ مرحوم ایک دیانت دار، باکردار، مخلص، انصاف پسند اور خدمتِ خلق کا جذبہ رکھنے والی شخصیت تھے، جنہوں نے ہمیشہ ملت و معاشرے کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔
مقررین میں جناب الحاج مبشر احمد صاحب چودھری (فرزندِ مرحوم جناب الحاج عبدالواحد صاحب چودھری)، جناب پروفیسر ماجد منیار صاحب (سنٹرل یونیورسٹی گلبرگہ)، جناب عبدالعلیم صاحب گوگی اور جناب عبدالنعیم صاحب (ایڈووکیٹ، ہائی کورٹ گلبرگہ) شامل تھے۔
جناب الحاج مبشر احمد صاحب چودھری نے اپنے والد مرحوم کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے پوری زندگی دیانت، اخلاص، عدل، خدمتِ خلق اور دین داری کو اپنا شعار بنایا۔ وہ ہمیشہ لوگوں کے مسائل کے حل، ضرورت مندوں کی مدد اور سماجی فلاح و بہبود میں پیش پیش رہے۔
جناب پروفیسر ماجد منیار صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ مرحوم کی شخصیت علم، اخلاق اور خدمتِ انسانیت کا حسین امتزاج تھی۔ انہوں نے نئی نسل کو مرحوم کے کردار، اخلاص اور سماجی خدمات سے سبق لینے کی تلقین کی۔
جناب عبدالعلیم صاحب گوگی نے مرحوم کی ملی اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ محبت، اخوت اور اتحاد کے فروغ کے لیے کام کیا اور اپنی عملی زندگی سے معاشرے میں ایک بہترین مثال قائم کی۔
جناب عبدالنعیم صاحب (ایڈووکیٹ، ہائی کورٹ گلبرگہ) نے مرحوم کی وکالتی زندگی، انصاف پسندی، اصول پسندی اور عوامی خدمت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسے قانون دان تھے جنہوں نے ہمیشہ حق کا ساتھ دیا اور اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں اعلیٰ اخلاقی اقدار کو مقدم رکھا۔
خصوصی اصلاحی خطاب حضرت مولانا محمد شریف صاحب مظہری دامت برکاتہم العالیہ نے فرمایا۔ انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں فکرِ آخرت، موت کی تیاری، اعمالِ صالحہ، اخلاص، تقویٰ، حسنِ اخلاق اور حقوق العباد کی اہمیت پر نہایت مؤثر اور ایمان افروز خطاب فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے، جبکہ آخرت ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی ہے، اس لیے ہر مسلمان کو اپنی زندگی کا محاسبہ کرتے ہوئے نیک اعمال کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے مرحوم الحاج عبدالواحد صاحب چودھری کی زندگی کو خدمتِ خلق، حسنِ اخلاق اور دین داری کا بہترین نمونہ قرار دیتے ہوئے حاضرین کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی تلقین کی۔
اجلاس کے دوران جامعہ احیاء العلوم کے طلبہ پورے انہماک، خاموشی اور ادب کے ساتھ تمام خطابات سنتے رہے۔ مقررین کی نصیحت آموز گفتگو نے طلبہ اور نوجوانوں پر گہرا اثر چھوڑا۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ اس نوعیت کے اصلاحی اجتماعات نوجوان نسل کی کردار سازی، دینی شعور کی بیداری اور بزرگ شخصیات کی زندگی سے رہنمائی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر مرحوم الحاج عبدالواحد صاحب چودھری ایڈووکیٹ کے ایصالِ ثواب، درجاتِ بلندی، لواحقین کے لیے صبرِ جمیل، امتِ مسلمہ کی فلاح، ملک میں امن و امان اور خیر و برکت کے لیے حضرت مولانا محمد شریف صاحب مظہری دامت برکاتہم العالیہ نے رقت آمیز اجتماعی دعا فرمائی۔ دعا پر یہ بامقصد، روح پرور اور یادگار تعزیتی و اصلاحی اجلاس اپنے اختتام کو پہنچا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔