شاہ، فقیر سماج کا ذاتی سرٹیفکیٹ اور تعلیمی سہولیات کے حصول کے لیے مطالبہ۔
جلگاؤں: (اعجاز گلاب شاہ) چھپر بند مسلم شاہ فقیر برادری کو ذات سرٹیفکیٹ، ذات ویلیڈیٹی سرٹیفکیٹ نیز تعلیمی اور دیگر سرکاری سہولیات کے حصول میں پیش آنے والی دشواریوں کو دور کرکے انصاف فراہم کرنے کے مطالبہ پر برادری کے وفد نے مہاراشٹر کے وزیرِ آب رسانی و صفائی و جلگاؤں ضلع کے سرپرست وزیر گلاب راؤ پاٹل کو اتوار 7 جون کو ایک تفصیلی محضر پیش کی۔جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومتِ مہاراشٹر نے 20 مارچ 1978 کو "چھپر بند (بشمول مسلم)" سماج کو وِمُکت ذاتوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ تاہم مسلم معاشرے میں پرانے سرکاری ریکارڈ اور دستاویزات میں ذات کا اندراج نہ ہونے کی وجہ سے سماج کے افراد کو ذاتی سرٹیفکیٹ اور ذاتی ویلیڈیٹی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس سلسلے میں بھارتیہ چھپر بند مسلم سماج سدھارک منڈل نے اورنگ آباد بنچ میں ایک رِٹ پٹیشن دائر کی تھی۔ عدالتِ عالیہ کی ہدایات کے مطابق ذاتی سرٹیفکیٹ جانچ کمیٹی نے تاریخی دستاویزات اور حوالہ جاتی کتب کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد 8 اپریل 1994 کو اپنے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ جن مسلم افراد کے نام کے ساتھ "شاہ" یا "فقیر" کا لفظ استعمال ہوتا ہے، انہیں چھپر بند سماج کا فرد تسلیم کیا جائے۔محضر میں مزید کہا گیا کہ ریاستی حکومت نے 1991، 1999، 2002، 2007 اور 2011 میں مختلف احکامات جاری کرکے سماج کے دعوے کو تسلیم کیا تھا، لیکن 16 فروری 2015 کو جاری کردہ حکم نامے کے بعد بعض اہم سہولیات ختم ہو گئیں، جس کے باعث سماج کے طلبہ کو تعلیمی رعایتیں، ملازمتوں میں ریزرویشن اور دیگر سرکاری مراعات حاصل کرنے میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔ سماج کے نمائندوں نے وزیر سرپرست گلاب راؤ پاٹل سے مطالبہ کیا کہ 23 مارچ 2011 کے حکم نامے کو دوبارہ نافذ کیا جائے یا سماج کے مفاد میں مناسب فیصلہ کرکے حکومت کی سطح پر انصاف فراہم کیا جائے۔
اس موقع پر چھپر بند مسلم شاہ فقیر سماج سدھارک منڈل کے قومی صدر الحاج اجمل شاہ، میڈیا انچارج اعجاز گلاب شاہ، ضلع صدر غلام معین شاہ، مہانگر صدر راجو شاہ سمیت سماج کے عہدیداران اور کارکنان موجود تھے۔
Comments
Post a Comment