بیٹے کی شادی شدہ زندگی میں ماں اور بہنوں کا کردار - ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک ۔


بیٹے کی شادی شدہ زندگی میں ماں اور بہنوں کا کردار - 
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک ۔
M A M Ed 
8904317986

بیٹے کی شادی شدہ زندگی میں ماں اور بہنوں کا کردار
شادی صرف دو افراد کا نہیں بلکہ دو خاندانوں کا تعلق ہے۔ اس تعلق کی کامیابی میں جہاں میاں بیوی کا کردار بنیادی ہوتا ہے، وہیں ماں اور بہنوں کا رویہ بھی بہت اثر انداز ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایک دانشمند ماں گھر کو جنت بنا دیتی ہے اور بعض اوقات ایک غلط جملہ یا غیر ضروری مداخلت برسوں کی محبت کو ختم کر دیتی ہے۔
پہلی مثال: سمجھدار ماں
علی کی شادی کو چند ماہ ہوئے تھے۔ ایک دن اس کی بیوی اور والدہ کے درمیان کسی گھریلو معاملے پر معمولی تلخی ہوگئی۔ علی پریشان ہو کر اپنی ماں کے پاس آیا اور بولا:
"امی! آپ نے دیکھا نا، اس نے آپ سے کیسے بات کی؟"
ماں نے جواب دیا:
"بیٹا! وہ ابھی نئی نئی آئی ہے، ممکن ہے اس سے غلطی ہوئی ہو۔ تم اس کی بات کو دل پر مت لو، محبت سے سمجھا دو۔"
چند دن بعد بہو کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے معذرت کرلی۔ گھر کا ماحول خوشگوار ہوگیا۔
اگر یہی ماں کہتی:
"میں تو پہلے ہی کہتی تھی کہ تمہاری بیوی ایسی ہی ہے، اسے سبق سکھاؤ!"
تو شاید ایک چھوٹا سا اختلاف بڑے جھگڑے میں بدل جاتا۔
دوسری مثال: ناسمجھ ماں
ایک خاتون کی عادت تھی کہ جب بھی بیٹا دفتر سے گھر آتا تو بہو کی شکایتیں شروع کر دیتی:
"آج اس نے یہ نہیں کیا، آج اس نے وہ نہیں کیا۔"
آہستہ آہستہ بیٹے کے دل میں اپنی بیوی کے بارے میں بدگمانی پیدا ہوگئی۔ گھر میں جھگڑے بڑھتے گئے اور بالآخر معاملہ علیحدگی تک پہنچ گیا۔
بعد میں ماں خود کہتی تھی:
"میرا مقصد گھر توڑنا نہیں تھا، مگر میں نے ہر بات بیٹے تک پہنچا کر غلطی کی۔"
تیسری مثال: اچھی بہن
ایک بہن اپنی بھابھی کے ساتھ بہت محبت سے پیش آتی تھی۔ اگر کبھی بھابھی سے کوئی غلطی ہوجاتی تو وہ خاموشی سے خود درست کر دیتی یا نرمی سے سمجھا دیتی۔
نتیجہ یہ ہوا کہ بھابھی بھی اسے اپنی سگی بہن سمجھنے لگی۔ گھر میں محبت اور اعتماد کا ماحول قائم ہوگیا۔
چوتھی مثال: حسد اور مقابلے کا رویہ
بعض بہنیں یہ محسوس کرتی ہیں کہ شادی کے بعد بھائی پہلے جیسا وقت نہیں دیتا۔ چنانچہ وہ ہر بات میں بھابھی کو قصوروار ٹھہرانا شروع کر دیتی ہیں۔
"بھائی پہلے ایسے نہیں تھے، یہ سب بھابھی کی وجہ سے ہوا ہے۔"
یہ سوچ رفتہ رفتہ دلوں میں نفرت پیدا کر دیتی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ شادی کے بعد ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں اور وقت کی تقسیم فطری بات ہے۔
ایک سنہری اصول
اگر ماں اپنی بہو کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے لگے تو ایک لمحے کے لیے یہ سوچ لے:
"اگر یہی معاملہ میری بیٹی کے ساتھ اس کے سسرال میں پیش آتا تو میں کیا توقع کرتی؟"
اور اگر بہن اپنی بھابھی سے ناراض ہو تو یہ سوچ لے:
"اگر میرے شوہر کی بہن میرے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرے تو مجھے کیسا محسوس ہوگا؟"
یہ ایک سوچ بہت سے جھگڑوں کو ختم کر سکتی ہے۔
آج کا ایک بڑا مسئلہ
آج بہت سے گھروں میں معمولی اختلافات طلاق اور خلع تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بعض مائیں اور بہنیں انجانے میں بیٹے کو بیوی کے خلاف اور بعض مائیں اپنی بیٹیوں کو سسرال کے خلاف بھڑکاتی رہتی ہیں۔
دانشمندی یہ ہے کہ اختلافات کو ہوا نہ دی جائے بلکہ صبر، حکمت، معافی اور خیرخواہی کے ذریعے انہیں ختم کیا جائے۔
خوش نصیب ہے وہ ماں جو اپنے بیٹے کا گھر آباد کرے، اور خوش نصیب ہیں وہ بہنیں جو اپنے بھائی کی ازدواجی زندگی کے استحکام کا ذریعہ بنیں، کیونکہ گھر بسانا بہت بڑی نیکی ہے اور گھر اجاڑنا بہت آسان۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔