تعارف و تبصرہ (عبداللّٰہ نادر عمری،بنگلور) کتاب: مسلم اقلیتوں کے معاصر فقہی مسائل - مترجم: حافظ محمد سیفی عمری۔


______تعارف و تبصرہ _____
    (عبداللّٰہ نادر عمری،بنگلور) 
کتاب: مسلم اقلیتوں کے معاصر فقہی مسائل - 
مترجم: حافظ محمد سیفی عمری۔
ناشر: اِدارۂ تحقیقاتِ اسلامی، عمرآباد 
صفحات: 398. قیمت: 350
 
فقہ اسلامی کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور نے اپنے مخصوص سوالات پیدا کیے ہیں اور اہلِ علم نے اپنے زمانے کے تقاضوں کے مطابق ان کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ موجودہ دور میں مسلم اقلیتوں کی زندگی سے وابستہ مسائل اسی نوعیت کے سوالات میں شمار ہوتے ہیں۔ غیر مسلم معاشرے میں رہتے ہوئے اپنی دینی شناخت کو برقرار رکھنا، قانونی نظام سے ہم آہنگی پیدا کرنا اور نئی معاشی صورتوں کے شرعی احکام معلوم کرنا ایسے موضوعات ہیں جو گزشتہ چند دہائیوں میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔

"مسلم اقلیتوں کے معاصر فقہی مسائل" اسی علمی ضرورت کے پس منظر میں مرتب ہونے والی ایک اہم کاوش ہے۔ یہ کتاب جامعہ امام محمد بن سعود الاسلامیہ، ریاض کے تحت قائم تحقیقی مرکز "مرکز التمیز البحثی فی فقہ القضایا المعاصرة" کی عربی کتاب کا ترجمہ ہے جسے مولانا حافظ محمد سیفی عمری نے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی، جامعہ دارالسلام عمرآباد نے مئی، 2026ء میں اسے شائع کرکے اردو دنیا کو ایک اہم علمی سرمایہ فراہم کیا ہے۔

مطالعے کے دوران سب سے پہلے جس پہلو نے توجہ حاصل کی، وہ اس کتاب کا اجتماعی علمی پس منظر ہے۔ یہ کسی ایک عالم یا کسی خاص مکتبہ فکر سے وابستہ فرد کی ذاتی رائے یا انفرادی کاوش کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ مختلف جامعات کے اہلِ علم کی مشترکہ علمی محنت کا ثمرہ ہے۔ جامعہ امام محمد بن سعود الاسلامیہ، کنگ سعود یونیورسٹی، کنگ خالد یونیورسٹی، اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ اور جامعہ قصیم سے وابستہ ماہرینِ فقہ اور محققین نے اس منصوبے میں حصہ لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب کے مباحث میں وسعتِ نظر، اعتدال اور تحقیقی توازن نمایاں نظر آتا ہے۔

کتاب کا موضوع بھی اپنی جگہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں وہ مسائل زیرِ بحث آئے ہیں جو مسلم اقلیتوں کو بدلتے ہوئے سماجی، قانونی اور تہذیبی ماحول میں پیش آتے ہیں۔ عبادات سے لے کر خاندانی زندگی، شہریت، معاشرت، عدالت، خوراک اور مالی معاملات تک زندگی کا شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہو جس سے متعلق سوالات اس کتاب میں نہ ملتے ہوں۔

کتاب کی ترتیب بھی قابلِ ذکر ہے۔ ہر مسئلہ ایک منظم علمی اسلوب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ پہلے صورتِ مسئلہ بیان کی جاتی ہے، پھر اس کا شرعی حکم ذکر ہوتا ہے، اس کے بعد دلائل اور فقہی استدلال سامنے آتا ہے۔
مطالعے کے دوران چند عنوانات خصوصی طور پر توجہ اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ مثلاً شعبہ IT میں ملازمت، کریڈٹ کارڈز، عوامی ہالز اور تفریحی مراکز میں نمازِ جمعہ اور عیدین کا انعقاد، غیر مسلموں سے اظہارِ تعزیت، زکوٰۃ کے اموال سے اسلامی اداروں کی تعمیر، غیر مسلم قبرستانوں میں مسلمانوں کی تدفین، جدید ذرائع سے ذبح اور حلال کی تحقیق، وہ غیر مسلم جن کا ذبیحہ شرعاً جائز ہے، الکحل آمیز ادویہ کا استعمال، خنزیر کے اجزاء سے تیار شدہ غذاؤں کے احکام، مغربی معاشروں میں "دوستانہ نکاح" (Friendly Marriage)، زمانۂ تعلیم میں نکاح اور غیر مسلم عدالتوں کے ذریعے طلاق جیسے مباحث قاری کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔

*کتاب کا ایک اور قابلِ توجہ اور خوشگوار پہلو مترجم کی توضیحات اور تعلیقات ہیں۔ متعدد مقامات پر مترجم نے صرف ترجمے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مسئلے کی مزید وضاحت، تطبیق اور معاصر تناظر بھی پیش کیا ہے۔ ان تعلیقات سے مترجم کی فقہی بصیرت اور عصری مسائل پر گہری نظر کا اندازہ ہوتا ہے۔*
اس کی ایک اچھی مثال آٹھویں باب "معاملات اور جدید مالیاتی نظام کے مسائل" میں ملتی ہے۔ کتاب کے صفحہ نمبر 360 میں "ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر کام کرنا" کے عنوان کے تحت مترجم نے عصر حاضر کی "ڈیلیوری اکنامی" (Delivery Economy) سے متعلق ایک اہم وضاحت شامل کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ سامان یا اشیاء کی ترسیل بنیادی طور پر ایک جائز خدمتی عمل ہے، اس لیے جب تک کسی ممنوع چیز کی ترسیل کا یقینی علم نہ ہو، جواز کا حکم باقی رہے گا۔ البتہ اگر شراب، خنزیر، منشیات یا کسی اور حرام شے کی ترسیل کا علم ہو تو اس میں شرکت گناہ میں تعاون کے حکم میں داخل ہوگی اور اس سے اجتناب ضروری ہوگا۔ مزید یہ کہ جدید ڈیلیوری خدمات سے وابستہ مسلمان اپنے پیشے کو خدمتِ عامہ، دیانت داری اور حدودِ شریعت کی پابندی کے ساتھ انجام دیں اور جہاں صریح حرمت کا معاملہ سامنے آئے وہاں دینی تقاضوں کو مالی منفعت پر ترجیح دیں۔
یہ توضیح اس لیے بھی اہم محسوس ہوتی ہے کہ مترجم اقتصادیات کے استاد ہونے کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور کارپوریٹ دنیا کے عملی ماحول سے بھی واقفیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض جدید معاشی اور پیشہ ورانہ مسائل کے بارے میں ان کے توضیحات زمینی حقائق سے قریب تر دکھائی دیتے ہیں اور قاری کو معاصر صورتِ حال کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
کتاب کی ایک خوبی اس کا اسلوب بھی ہے۔ علمی وقار برقرار رکھتے ہوئے غیر ضروری طوالت سے گریز کیا گیا ہے۔ جہاں مسئلہ تفصیل کا متقاضی ہے وہاں مناسب شرح و بسط ملتی ہے اور جہاں اختصار کافی ہے وہاں گفتگو غیر ضروری تفصیلات میں نہیں الجھتی۔
 بدلتے ہوئے عالمی حالات میں ایسے موضوعات پر سنجیدہ اور متوازن علمی کام وقت کی ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے "مسلم اقلیتوں کے معاصر فقہی مسائل" ایک مفید، قابلِ اعتماد اور فکر انگیز علمی کاوش کے طور پر سامنے آتی ہے۔
اہلِ علم، ائمہ، مفتیانِ کرام، طلبۂ مدارس اور معاصر اسلامی مسائل میں دلچسپی رکھنے والے تمام سنجیدہ قارئین کے لیے یہ کتاب یقیناً توجہ اور مطالعے کی مستحق ہے۔
______________________
کتاب منگوانے کے لیے رابطہ کریں:
 9342801900

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔