سوالوں کے سائے۔ از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں۔
سوالوں کے سائے۔
از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں۔
شہر کی فضا میں امتحانات کی آمد کا شور تھا۔ گلیوں، کوچوں اور گھروں میں کتابوں کے ورق پلٹے جا رہے تھے۔ انہی دنوں احمد بھی اپنی زندگی کے اہم ترین امتحان کی تیاری میں مصروف تھا۔ اس نے کئی ماہ تک اپنی خواہشات، تفریح اور آرام کو پسِ پشت ڈال دیا تھا۔ راتوں کی نیند قربان کرکے، صبح کی ٹھنڈی ہوا میں آنکھیں ملتے ہوئے، وہ مستقبل کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کی جدوجہد کر رہا تھا۔
اس کی میز پر کتابوں کے انبار تھے، دیوار پر نصب کیلنڈر پر امتحان کی تاریخ سرخ دائرے میں نمایاں تھی، اور اس کی آنکھوں میں کامیابی کی چمک تھی۔ والدین کی امیدیں اور اساتذہ کی دعائیں اس کے حوصلے کو بڑھا رہی تھیں۔
امتحان شروع ہونے میں صرف چند دن باقی تھے کہ اچانک خبر پھیل گئی کہ سوالیہ پرچہ لیک ہو گیا ہے۔ ابتدا میں لوگوں نے اسے افواہ سمجھا، مگر جلد ہی اس کی تصدیق ہو گئی۔ سوشل میڈیا پر سوالات گردش کرنے لگے، کوچنگ مراکز اور طلبہ کے گروہوں میں ہلچل مچ گئی۔
احمد کے لیے یہ خبر بجلی بن کر گری۔ اسے محسوس ہوا جیسے اس کی مہینوں کی محنت، جاگتی راتیں اور قربانیاں یک لخت بے معنی ہو گئی ہوں۔ اس کے دل میں سوال اٹھا کہ اگر محنت اور دیانت داری کا یہی صلہ ہے تو پھر کوشش کا کیا فائدہ؟
تعلیمی حکام نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد امتحان منسوخ کر دیا اور نئے سرے سے امتحان لینے کا اعلان کیا۔ اگرچہ یہ فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق تھا، لیکن اس کے نتیجے میں طلبہ پر ذہنی دباؤ کئی گنا بڑھ گیا۔ دوبارہ تیاری، دوبارہ انتظار اور دوبارہ اسی امتحانی کیفیت سے گزرنا کسی آزمائش سے کم نہ تھا۔
احمد نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی، مگر مسلسل ذہنی تناؤ نے اس کے حوصلے کو کمزور کر دیا۔ وہ کتاب کھولتا تو الفاظ دھندلے دکھائی دیتے، قلم ہاتھ میں لیتا تو سوچوں کا بوجھ اس کی انگلیوں کو ساکت کر دیتا۔ اسے محسوس ہونے لگا کہ اس کی تمام محنت بے مقصد ہو گئی ہے۔
وقت گزرتا گیا، لیکن نئے امتحان کی تاریخ بار بار مؤخر ہوتی رہی۔ طلبہ بے یقینی کے عالم میں زندگی گزارنے لگے۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ نتیجہ کب آئے گا، امتحان کب ہوگا اور مستقبل کس سمت جائے گا۔
احمد کی آنکھوں کی چمک مدھم پڑنے لگی۔ جو نوجوان کبھی عزم و استقلال کی مثال تھا، وہ آہستہ آہستہ مایوسی کی گرفت میں آتا گیا۔ اس کے لبوں پر خاموشی چھا گئی اور چہرے پر فکر کی گہری لکیریں ابھر آئیں۔
ایک شام اس کے والد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا:
"بیٹا! امتحان صرف پرچوں کا نہیں ہوتا، زندگی بھی انسان کو بار بار آزماتی ہے۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان کبھی ناکام نہ ہو، بلکہ یہ ہے کہ ہر ٹھوکر کے بعد دوبارہ کھڑا ہونے کا حوصلہ رکھے۔"
احمد نے خاموشی سے سر اٹھایا۔ اس نے محسوس کیا کہ شاید اس کی محنت ضائع نہیں ہوئی، کیونکہ علم صرف نمبر حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ انسان کے اندر صبر، استقامت اور امید پیدا کرنے کا نام بھی ہے۔
اس نے دوبارہ کتاب کھولی، گہرا سانس لیا اور نئے عزم کے ساتھ پڑھائی شروع کر دی۔ اسے یقین ہو چلا تھا کہ اگرچہ سوالیہ پرچے لیک ہو سکتے ہیں، امتحانات ملتوی ہو سکتے ہیں اور نتائج میں تاخیر ہو سکتی ہے، لیکن سچی محنت کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ وقت ضرور بدلتا ہے، اور اندھیری رات کے بعد ایک روشن صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔
Comments
Post a Comment