خاکی وردی، آئینی حلف اور ضمیر کی آواز – کیا افسر شاہی اپنی سمت کھو رہی ہے؟ - اظہر ظہیر الدین کردمے، شریوردھن ضلع رایگڈھ۔


خاکی وردی، آئینی حلف اور ضمیر کی آواز – کیا افسر شاہی اپنی سمت کھو رہی ہے؟
اظہر ظہیر الدین کردمے، شریوردھن ضلع رایگڈھ۔

بھارتی جمہوریت کی بنیاد جس ستون پر ٹکی ہے، اسے بیورو کریسی یا افسر شاہی کہا جاتا ہے، اور اس ستون کو مضبوط رکھنے کے لیے ہر افسر کو ایک مقدس خاکی وردی اور آئین کی پاسداری کا حلف دیا جاتا ہے۔ لیکن جب ناگپور جیسے حساس شہر کے پولیس کمشنر وشواس نانگرے پاٹل راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) جیسی ایک مخصوص نظریاتی تنظیم کے اسٹیج پر کھڑے ہو کر اس کی سرعام تعریفوں کے پل باندھتے ہیں، تو یہ معاملہ صرف ایک سیاسی تنازعہ نہیں رہتا، بلکہ یہ براہِ راست ایک ذمہ دار افسر کے ضمیر، اس کی وفاداری اور خاکی وردی کی ساکھ پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ ایک پولیس افسر کی اولین اور آخری وفاداری صرف اور صرف اپنے فرائض، قانون اور ملک کے دستور کے ساتھ ہونی چاہیے، کیونکہ جب کوئی شخص آئی پی ایس (IPS) سروس میں داخل ہوتا ہے، تو وہ اپنی ذاتی پسند، ناپسند، مذہب، ذات اور سیاسی نظریات کو اسی وقت پیچھے چھوڑ دیتا ہے اور اس کی واحد شناخت 'خاکی وردی' بن جاتی ہے، جو ہر شہری کے لیے بلا تفریقِ مذہب و ملت انصاف کی علامت ہوتی ہے۔

آج ملک کا ہر سنجیدہ شہری اور آئین پر یقین رکھنے والا فرد یہ پوچھنے پر مجبور ہے کہ ایک پولیس افسر نے ہمیشہ غیر جانبدار رہنا چاہیے، تو پھر یہ سرِعام جانبداری کیوں؟ آل انڈیا سروسز (کنڈکٹ) رولز، 1968 کا رول 3(1A)(ii) چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ ہر سرکاری افسر کے لیے سیاسی اور نظریاتی طور پر غیر جانبدار (Politically Neutral) رہنا لازمی ہے، تو کیا سنگھ کے اسٹیج پر جا کر ہندوتوا اور ڈاکٹر ہیڈگیوار کا گن گان کرنا اس قانون کا جنازہ نکالنا نہیں ہے؟ اگر کسی افسر کو سرِعام آر ایس ایس یا کسی بھی دوسری تنظیم کی تعریف کرنی ہے، اس کے نظریات کا مبلّغ بننا ہے، تو پھر اس کے اندر اتنی اخلاقی جرات ہونی چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اپنے عہدے سے مستعفی ہو، خاکی وردی کو اتارے اور کھل کر سیاست کے میدان میں آ جائے، کیونکہ وردی کی آڑ میں کسی ایک نظریے کی دکانداری چمکانا غداریِ فرائض کے زمرے میں آتا ہے۔ عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا ان کی یہ دوہری وفاداری حکومت کو منظور ہے؟ کیا موجودہ نظام میں اب دستور سے زیادہ اہمیت کسی تنظیم کی ہو گئی ہے؟ اور سب سے بڑا اور روح کو لرزا دینے والا سوال یہ ہے کہ کیا ان کی اس شرکت کے بعد انہیں ایک غیر جانبدار اور بھروسہ مند افسر کہا جا سکتا ہے؟ کیا معاشرے کا وہ کمزور طبقہ، وہ اقلیتیں، اور وہ مظلوم لوگ جن کا اس تنظیم کے نظریات سے اختلاف ہے، کل کو اس افسر کے پاس انصاف کی امید لے کر جا سکیں گے؟ ہرگز نہیں، کیونکہ وہ افسر اب انصاف کے ترازو پر نہیں، بلکہ شک و شبہات کے دائرے میں گھر چکا ہے۔

جب ایک محافظ خود کسی نظریاتی دھارے کا حصہ بن جائے، تو انصاف کی کرسی پر بیٹھے شخص کا عکس دھندلا جاتا ہے اور عوام کا قانون پر سے اعتبار اٹھنے لگتا ہے۔ یہ رپورٹ کسی فردِ واحد پر تنقید نہیں، بلکہ ہر اس خاکی وردی والے کے ضمیر کو ایک جھنجھوڑ دینے والی پکار ہے جو یہ بھول چکا ہے کہ اقتدار آتے جاتے رہتے ہیں، حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، تنظیمیں بنتی اور مٹتی رہتی ہیں، لیکن جو چیز ہمیشہ قائم رہتی ہے وہ ہے بھارت کا آئین اور خاکی وردی کا وقار۔ اگر آج بھی افسر شاہی نے اپنے ضمیر کو نہ جگایا اور اپنی ملازمت سے سبکدوش ہو کر ضابطوں کی پابندی نہ کی، تو تاریخ کبھی انہیں ایک سچا محافظ نہیں بلکہ آئین کا مجرم لکھے گی، اس لیے وقت آ گیا ہے کہ ہر افسر اپنے گریبان میں جھانکے اور طے کرے کہ اس کا سر صرف اور صرف بھارتی دستور کے سامنے جھکے گا، کسی تنظیم کے پرچم کے سامنے نہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔