بشیر بدر کی یاد میں تعزیتی و خراجِ عقیدت نشست - "ہمراہی ٹرسٹ" حیدرآباد۔


حیدرآباد (پریس نوٹ) ہمراہی ٹرسٹ، حیدرآباد کے زیرِ اہتمام سن سٹی، حیدرآباد میں معروف شاعرہ آرزو مہک کی رہائش گاہ پر ممتاز شاعر بشیر بدر کی یاد میں تعزیتی و خراجِ عقیدت نشست منعقد کی گئی۔
نشست کے آغاز میں حیدرآباد کی ممتاز قانون دان جناب غلام یزدانی اور ان کے داماد جناب خواجہ معزالدین ایڈوکیٹ کے المناک قتل پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
اس موقع پر محترمہ سنیتا للا، مونا ایلزبتھ کورین، عذرا سلطانہ اور معروف افسانہ نگار شبینہ فرشوری نے بشیر بدر سے اپنی ملاقاتوں اور ان کے ساتھ گزرے ادبی لمحات کو یاد کرتے ہوئے تاثرات پیش کیے۔ سماجی جہدکار، مصنفہ اور شاعرہ ڈاکٹر رفیعہ نوشین نے "جب غزل خاموش ہوئی" کے عنوان سے بشیر بدر کے نام ایک پُرتاثیر نوحہ پیش کیا، جبکہ ایڈوکیٹ آمنہ سحر نے ان کی شخصیت اور فن پر مختصر مگر جامع مقالہ پیش کیا۔
بعد ازاں ایک خصوصی شعری نشست منعقد ہوئی جس میں آرزو مہک، ڈاکٹر رفیعہ نوشین، سنیتا للا، شبینہ فرشوری، مونا ایلزبتھ کورین، عذرا سلطانہ، ثمینہ بیگم، اسریٰ تبسم، حمیدہ بیگم، صائمہ متین، آمنہ سحر، مجیب النساء اور تجمل تاج فاطمہ نے بشیر بدر کی منتخب غزلیں ترنم اور تحت میں پیش کیں۔
گرمی کی شدت کے بعد ہونے والی بارش اور مٹی کی خوشبو سے معطر فضا میں بشیر بدر کی غزلوں نے ایسا سماں باندھا کہ شرکاء دیر تک ان کے سحر میں گم رہے۔ پروگرام کی میزبانی آرزو مہک نے کی جبکہ معاون میزبان ڈاکٹر رفیعہ نوشین نے نظامت کے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ آخر میں میزبان نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اسی کے ساتھ یہ یادگار ادبی نشست اختتام پذیر ہوئی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔