اِمام ِ حسین ؓ، کربلا اور یزید - محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔
اِمام ِ حسین ؓ، کربلا اور یزید -
محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔
امامِ حسین ؓ:۔
جیسے ہی زبان سے ”حسین“ نام نکلتاہے، ہرمسلمان کے ذہن کے سامنے شجاعت، اوربہادری کاایک پیکر آکھڑا ہوتاہے۔ ہزاروں سال سے نرگس کو جس نورکی تلاش ہے، وہ نورچہار جانب پھیل جاتاہے۔ یہ نام اس قدر شہرت پایاہواہے کہ شجاعت وبہادری کے علاوہ کوئی تصور ذہن میں در نہیں آتا۔یہ سراسر پروردگار کا فضل وکرم ہے۔ بقول شخصے ”اس نام پر فضل وکرم کی بہار قیامت تک جاری وساری رہے گی“۔ حضرت امام حسین ؓ نے رب کی رضا کے لئے اپنے سرکوکٹادیا۔ مشیت ِ ایزدی کے سامنے بلاچوں وچراجان دینے تیار ہوگئے اور جان جان ِ آفریں کے حوالے کی۔ اتنا ہی نہیں اپنے 72جان نثاروں کے ساتھ کربلا میں اپناپورا گھرانہ لٹادیا۔ان ہی بے باک، بے لوث اور راضی بہ رضا رہنے والے امام حسین ؓ کے بارے میں شعراء کیاکہتے ہیں، سال 2026ء مطابق 1448ہجری کی دسویں محرم کے موقع پر شعراء کے اس کلام کو پڑھیں اور حضرت امام حسین ؓ سے اپنی عقیدت میں اضافہ فرمائیں ؎
حسین ؓ جس کے نفس نفس میں حیات کے رس بھرے ترانے
حسین ؓ جس کی نظر نظر میں رموز واسرارکے خزانے
علامہ ابوالمجاہد زاہد ؔ
سوارِ دوش ِ نبی ؐ، پاسبان ِ دین ِ مبیں
حسین ؓ عظمت ِ ہستی کا رازدار ہے آج
حضرت رشید احمد رشید ؔ
جب بھی ضمیر و ظرف کا سودا ہو دوستو
قائم رہو حسین ؓکے انکار کی طرح
احمد فراز
قتل حسین ؓاصل میں مرگ ِیزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
مولانا محمد علی جوہر
حسین ؓابن علیؓ کربلا کو جاتے ہیں
مگر یہ لوگ ابھی تک گھروں کے اندر ہیں
شہریار
اے حسین ؓ ابن علی ؓ! تیری شہادت، بے گماں
منزل تکمیل انسانی کی شمع ضوفشاں
ابوالمجاہدزاہد ؔ
حق ہو ستیزہ کار تو باطل ہو سر نگوں
دم بھر میں تار تار ہو شیرازہ فسوں
دکھلا دیا حسینؓ نے اپنا بہا کے خوں
کرتے ہیں دیکھ سینہ ء باطل کو چاک یوں
محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی
دامن ِ مولیٰ ملا اور دامن ِ احمد اسے
یاحسین ؑ ابن ِ علی ؑ جو آپ ؑ پر قربان ہے
مرزا ؔچشتی صابری نظامی
حوصلہ زیست پر حسینؓ کا ہے
عشق کو بال وپر حسین ؓ کا ہے
میرؔبیدری
مثل حسین ؓہم کو شہادت تو ہے قبول
ظالم کے حکم کا کبھی لیتے نہیں اثر
اشراق جمال اشہر چشتی
اک پل کی تھی بس حکومت یزید کی
صدیاں حسین ؓ کی ہیں زمانہ حسین ؓ کا
شاعر:۔نامعلوم
ادراک تھا امام کو کیا ہے مقامِ عشق
سب کچھ نثار کر دیا اپنا بنامِ عشق
لے جا کے کربلا میں بھرا گھر لٹا دیا
حقا حسینؓ ابنِ علیؓ ہیں امام عشق
محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی
تکمیل دین آپ ہیں احسان آپ کا
ہر دل میں شمع نور جلایا حسین ؓ نے
محمد عبدالکریم کریم ؔ
کربلا:۔
ایک ایسی مظلوم زمین جہاں نہتوں پر ہزاروں نے وارکرتے ہوئے نعرہ لگایاکہ ہم نے حسینؓ اور ان کے خاندان اور ان کے حامیوں کو تہہ تیغ کردیا۔ طاقت کے بدمست نشے میں چُور کم ظرف قاتلوں کی نگاہ حکمرانی نے یہ نہیں دیکھاکہ دراصل تہہ تیغ تو وہ اور ان کی طاقت اور ان کااقتدار ہوگیا ہے۔قیامت تک یہ طاقت شیطانی طاقتوں میں شمار ہوگی۔ اسی سرزمین ِ کربلا کی بابت شعر اء نے لکھاہے ؎
تا قیامت ذکر سے روشن رہے گی یہ زمیں
ظلمتوں کی شام میں اک روشنی ہے کربلا
نزہت عباسی
پھر کربلا کے بعد دکھائی نہیں دیا
ایسا کوئی بھی شخص کہ پیاسا کہیں جسے
منور رانا
دل ہے پیاسا حسین کے مانند
یہ بدن کربلا کا میداں ہے
محمد علوی
وہ دشتِ کربلا، وہ حسین ؓ ستم زدہ
وہ کوفیوں کاغیض وغضب، صاف وبرملا
حضرت رشید احمد رشید ؔ
تنہا کھڑا ہوں میں بھی سر کربلائے عصر
اور سوچتا ہوں میرے طرفدار کیا ہوئے
محسن احسان
مصحفیؔ کرب و بلا کا سفر آسان نہیں
سینکڑوں بصرہ و بغداد میں مر جاتے ہیں
مصحفی غلام ہمدانی
سید الشہداء ہے اک اور کربلا ہی کربلا
کربلا کو جس نے جانا صاحب ِ عرفان ہے
مرزاؔچشتی صابری نظامی
شعور تشنگی اک روز میں پختہ نہیں ہوتا
مرے ہونٹوں نے صدیوں کربلا کی خاک چومی ہے
ضیا فاروقی
دے کے سر شبیر نے اسلام زندہ کردیا
کربلا کو جس کے سجدے نے معلی' کردیا
نامعلوم
وہ جس نے میدان ِ کربلا میں لٹادیا اپنے گھر کے گھر کو
مٹادِیا جس نے زورِ باطل، دبادِیا جس نے شوروشر کو
ابوالمجاہد زاہدؔ
آپ کو شاید نظر آتانہیں میرؔ
دین ِ احمد کے مکاں تک کربلا ہے
میرؔبیدری
یزید:۔
قیامت تک سینہ بہ سینہ، کاغذوں پر لکھ کر، ڈیجیٹل کے علاوہ ہرآنے والے دور کے اپنے طریق اور وساطت سے یزید کے ظلم وستم کی داستان انسانوں کو سنائی جاتی رہے گی۔ اور پیغام دیاجائے گاکہ یزید بننے سے بچو، یہ وہ بیماری ہے جو آدمی، علاقہ، قطعہ، قبیلہ، ملک ہی نہیں پوری دنیا کو کھاجاتی ہے۔ یزید کے سان وگمان میں بھی نہیں ہوگاکہ وہ قیامت تک ظلم کی نشانی کے طورپر یادرکھاجائے گا۔ اوراس کے مظالم انسانیت کو لہورلاتے رہیں گے۔ یزید نے صرف حضرت حسین ؓ کے گھرانے پر ظلم نہیں کیابلکہ اس نے ہر معصوم، ہربے گناہ، اور اس کے ظلم پر بیعت نہ کرنے والے پر ظلم کیا ہے۔ یزید یت دراصل کسی نسل سے جنم نہیں لیتی۔ وہ خود اپنے آپ میں ظلم کاایک ناقابل بیان ظالم وقاتل قبیلہ ہے، ایک استعارہ ہے۔ اسی یزیدیت کے بارے میں اُردوشاعروں نے اہم شعر کہے ہیں۔ اور یزیدکے ظلم کو تاریخ کے صفحات سے نکال کر ہر دورکی تاریخ میں ظالموں کے سردار کے طورپر گاڑھ دیاہے۔ آنے والے شعراء بھی ان ہی کے نقشِ قدم پر چلیں گے۔ اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎
یزید آج بھی بنتے ہیں لوگ کوشش سے
حسینؓ خود نہیں بنتے خدا بناتا ہے
قاصر
یہی کرشمہ ہے سچ کاواصفؔ،یہی کرامت ہے کربلا کی
شہید کرکے یزیدفانی،شہید ہوکر حسینؓ باقی
واصف علی واصفؔ
سر اٹھاتے ہیں یہاں بھی عصر حاضر کے یزید
کل یہ خطہ بھی محاذ کربلا ہو جائے گا
اعجاز انصاری
یزید وقت مرا خوں بہانا چاہتا ہے
وہ کربلا میں مجھے پھر سے لانا چاہتا ہے
امتیاز دانش ندوی
ہر اک جانب یزیدوں کی کمیں گاہیں
توسید کا گھرانہ بھی ضروری ہے
میرؔبیدری
سنو ائے وقت کے یزیدو، بتاؤ کہاں ہے تمہارا یزید
حسین ؓآج بھی زندہ باد ہے مگر مر گیا ہے تمہارا یزید
فاروق شہزاد ملکانی
کٹ جائے غم نہیں،نہ جھکے گا کبھی یہ سر
سجدہ کسی یزید کو ہوگا نہیں ادھر
اشہر چشتی
ختم بے شک یزیدیت ہوگی
زندگی میں اثر حسین ؓ کا ہے
میرؔبیدری
اللہ تعالیٰ ہماری اورہماری نسلوں کی زندگی کوحسین ؓ ابن ِ علی کے نقشِ قدم پر چلائے۔ آمین
Comments
Post a Comment