حفصہ بیگم کی کتاب "نوشتہ حفصہ" فکر و فن کا امتزاج - ازقلم : واجد اختر صدیقی گلبرگہ، کرناٹک۔


حفصہ بیگم کی کتاب "نوشتہ حفصہ" فکر و فن کا امتزاج - 
از : واجد اختر صدیقی گلبرگہ، کرناٹک۔
9739501549

اردو ادب میں ان دنوں کتابوں کی اشاعت کا بازار خاصا گرم ہے۔ بالخصوص ترتیب، تدوین، تنقید اور جائزوں پر مشتمل کتابیں کثرت سے منظرِ عام پر آ رہی ہیں، جب کہ تخلیقی ادب کی اشاعت کا سلسلہ آج بھی نسبتاً سست روی کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تخلیقی عمل ریاضت، مطالعہ اور مسلسل فکری مشقت کا متقاضی ہوتا ہے، جبکہ موجودہ عہد میں تن آسانی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں حفصہ بیگم کی اردو ادب میں آمد نیک شگون کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی دو الگ الگ کتابوں کی اشاعت بیک وقت عمل میں آئی ہے۔ زیرِ مطالعہ کتاب "نوشتہ حفصہ" ان کے تحریر کردہ 30 مقالات اور 38 افسانوں کا مجموعہ ہے، جب کہ "علم الفلسفہ" کے زیر عنوان ان کی دوسری کتاب بھی شائع ہو چکی ہے، جس پر پھر کبھی اظہارِ خیال کیا جائے گا۔
حفصہ بیگم کا تعلق داونگیرہ، کرناٹک سے ہے اور وہ بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر شیموگہ یونیورسٹی میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ ابھی عمر کے ابتدائی مرحلے میں ہیں، لیکن کم سنی کے باوجود ان کے مشاہدات اور تجربات میں جو پختگی، سنجیدگی اور فکری بالیدگی نظر آتی ہے، وہ قابلِ ستائش ہے۔ ان کی یہ دونوں کتابیں میری اس رائے کی بھرپور تائید کرتی ہیں کہ ان کا خیال بلند اور تجربہ پختہ ہے۔
"عرضِ حال" کے عنوان سے حفصہ بیگم نے لکھا ہے کہ:
"اردو دنیا کی ایک لازوال زبان ہے۔ اردو زبان و ادب کی ہر دلعزیزی کا یہ عالم ہے کہ اردو نہ صرف برصغیر کے علاقوں میں بولی اور سنی جاتی ہے بلکہ بیرونِ ممالک میں بھی اپنی سحر انگیزی کا جلوہ دکھا رہی ہے۔"
حفصہ بیگم نے ان دو جملوں میں اردو زبان و ادب کی موجودہ صورتِ حال کا ایک خوش گوار اور امید افزا نقشہ پیش کیا ہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ اردو کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ:
"زیرِ نظر کتاب ان کے شب و روز کی محنت سے لکھے گئے مقالات اور افسانوں کا مجموعہ ہے۔"
حفصہ اگرچہ ادب کی دنیا میں نووارد ہیں، لیکن ان کی تحریروں کا مطالعہ یہ احساس دلاتا ہے کہ ان کے قلم میں پختگی، اظہار میں اعتماد اور پیش کش میں خوش سلیقگی پائی جاتی ہے۔ ان کی تحریریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ نئی نسل اردو زبان و ادب کے فروغ کے سلسلے میں سنجیدہ اور متحرک ہے۔
"نوشتہ حفصہ" کو تنظیم فروغِ اردو، تمل ناڈو نے نہایت اہتمام اور حسنِ طباعت کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں "مقدمہ" کے عنوان سے ممتاز ادیب و نقاد پروفیسر سجاد حسین رقم طراز ہیں کہ:
"زیرِ نظر کتاب اپنی نوعیت کی ایک الگ تصنیف ہے۔ اس میں تحقیقی و تنقیدی مضامین کے ساتھ مختصر کہانیاں بھی شامل ہیں۔ ماضی میں ایسا بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ مختصر کہانیوں کو مضامین کے ساتھ یکجا شائع کیا گیا ہو۔ حفصہ بیگم نے روایت سے انحراف کرتے ہوئے مضامین اور کہانیوں کو ایک ساتھ شائع کیا۔"
پروفیسر سجاد حسین کے اس بیان کو آگے بڑھاتے ہوئے میں بلا تردد اس بات کا اظہار کرنا چاہوں گا کہ اگر حفصہ بیگم اپنے مقالات اور افسانوں کو الگ الگ کتابی صورت میں شائع کرواتیں تو شاید ان کی معنویت اور افادیت میں مزید اضافہ ہوتا، کیونکہ ان دونوں اصناف کا مزاج، تقاضے اور فنی حدود ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کتاب کی ضخامت اور قاری کی توجہ کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ تاہم یہ امر خوش آئند ہے کہ پروفیسر سجاد حسین نے اپنے مقدمے میں حفصہ بیگم کی فنی صلاحیتوں اور ادبی امکانات کا اعتراف بھی کیا ہے۔
"حرفِ تحسین" کے عنوان سے ڈاکٹر خلیل تماندار اور "کلماتِ تبریک" کے زیر عنوان پروفیسر سید خلیل احمد کے مختصر تاثرات شامل ہیں، جب کہ ڈاکٹر تمیم احمد نے "عرضِ ناشر" کے عنوان سے اپنی گفتگو پیش کی ہے۔
"نوشتہ حفصہ" میں شامل چند مقالات کے عنوانات یہاں پیش کرتا ہوں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ حفصہ نے قلیل عرصے میں اپنے ہدف سے کہیں آگے کا سفر طے کیا ہے۔
1- جنوبی ہندوستان میں اردو صحافت اور مسلم شناخت، مولانا ابوالکلام آزاد کا فکری و خیالی ستون2- ٹیڑھی لکیر، عصمت چغتائی کی فکری جہات، اور موضوعاتی تنوع کی عکاسی3- جنوبی ہندوستان میں غیر مسلم اہلِ قلم4- آزادی کے بعد اردو ادب کا فکری و فنی منظرنامہ5- آگ کا دریا، برصغیر کی تاریخ، سیاست اور تہذیب کا ادبی تجزیہ
جہاں تک حفصہ کے افسانوں کا تعلق ہے، انہوں نے زمانے کے سرد و گرم اور معاشرتی حقائق ہی سے اپنے موضوعات اخذ کیے ہیں، لیکن ان کی پیش کش نہایت مؤثر، زرخیز اور دل نشیں ہے۔ موضوعات اگرچہ وہی ہیں جنہیں متعدد قلمکار اپنی کہانیوں کا حصہ بنا چکے ہیں، مگر حفصہ نے اپنے مشاہدات کو ایک حساس اور زیرک قلمکار کی طرح بیان کیا ہے۔ ان کا لہجہ بھی ان کی شخصیت کی طرح سادہ، خوب صورت اور شائستہ ہے، جبکہ زبان کی چاشنی اور بیان کی لطافت نے ان کے اسلوب کو مزید دل آویز بنا دیا ہے۔
جس کے باوجود ان کی ایک الگ اور منفرد شناخت بنتی جا رہی ہے۔ ان کے افسانوں کے چند عناوین ملاحظہ ہوں: چٹکی، مہک کی دعا، انتظار، عورت کا وقار وغیرہ۔
ان کے مقالات اور افسانوں سے دو دو اقتباسات یہاں پیش کرتا ہوں، جن سے ان کی فکر اور فن کے امتزاجی رنگ کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
"کلامِ غالب کی عظمت عصرِ حاضر کے تناظر میں" کا یہ اقتباس دیکھیے:
"غالب کے مزاج میں آزاد مشربی اور خوش طبعی پائی جاتی تھی۔ ان کی فکر صوفیانہ و فلسفیانہ تھی۔ انہیں زمانے کی بے قدری کا شکوہ رہا، لیکن ان کے صوفیانہ اندازِ فکر نے انہیں ہر قسم کے ترددات سے محفوظ رکھا۔"
"موجودہ دور میں صحافت کے جدید تقاضے" کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیے:
"صحافت کی اہمیت و افادیت سے کسی بھی صورت میں انکار نہیں کیا جا سکتا۔ صحافت انسانی اقدار کے تحفظ کی ضامن اور مظلوم و مجبور عوام کے جذبات و احساسات کی ترجمانی ہوتی ہے۔ آج کے اس دور میں جہاں بیشتر ممالک میں جمہوری حکومتیں نہیں، وہاں صحافت کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے۔"
"میں صفیہ ہوں" افسانے سے ایک اقتباس پیش ہے:
"زندگی کتنی کٹھن ہے۔ کیا یہ کرب صرف عورتوں کا مقدر ہے؟ یا فقط میرے ہی حصے میں آیا ہے؟ یا پھر اے میرے پروردگارا! تو مجھ پر اتنا بوجھ نہ ڈال جسے میں سنبھال نہ سکوں۔"
افسانہ "چٹکی" سے یہ اقتباس دیکھیے:
"گاؤں کی پگڈنڈیوں پر اکثر ایک دبلی سی بچی دکھائی دیتی تھی۔ بارہ سالہ چٹکی کی آنکھوں میں خواب تھے، مگر پیٹ کی بھوک نے ان خوابوں کو نگل لیا تھا۔"
بہر کیف، حفصہ بیگم اپنے ناتواں کاندھوں پر ادب کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہیں اور انہوں نے سماج و معاشرے کو یہ باور کرانے کی کامیاب کوشش کی ہے کہ تخلیق، تحقیق اور تنقید کے میدان میں نئی نسل بھی پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔
جہاں تک حفصہ کی زبان و بیان کا تعلق ہے، ان کی زبان سادہ، عام فہم اور اثر آفرین ہے۔ لہجے کی لطافت، بیان کی شگفتگی اور اسلوب کی سلاست انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز بناتی ہے۔ ان کے اندر ایک سنجیدہ اور توانا قلمکار کے آثار نمایاں ہیں، اس لیے مستقبل میں ان سے بہت سی اچھی اور معیاری ادبی کاوشوں کی توقع کی جا سکتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔