جل گیا گھر ہمارا - اخری قسط کتاب سلگتا احساس - ازقلم : سید فار وق احمد قادری۔
جل گیا گھر ہمارا -
اخری قسط کتاب سلگتا احساس -
ازقلم : سید فار وق احمد قادری۔
جاوید کی آواز آہستہ آہستہ سسکیوں۔
میں بدل گئی۔ وہ دونوں ہاتھوں میں قبر کی مٹی تھامے سڑک کے کنارے بیٹھ گیا۔ انسپکٹر خاموش کھڑا تھا جاوید کی آواز آہستہ آہستہ سسکیوں میں بدل گئی۔ وہ دونوں ہاتھوں میں قبر کی مٹی تھامے سڑک کے کنارے بیٹھ گیا۔ انسپکٹر خاموش کھڑا تھا۔ شاید اس کے پاس بھی ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا جو جاوید کی آنکھیں پوچھ رہی تھیں۔
دور کہیں آگ کے شعلے آسمان کو چھو رہے تھے۔ دھواں فضا میں پھیل رہا تھا اور انسانیت ایک بار پھر نفرت کے ہاتھوں زخمی ہو رہی تھی۔
جاوید نے مٹی کو اپنے سینے سے لگایا اور آہستہ سے بولا:
"صاحب! گھر اینٹوں اور دیواروں کا نام نہیں ہوتا۔ گھر تو ماں کی دعا، باپ کی شفقت، بہن کی محبت اور بچوں کی ہنسی سے بنتا ہے۔ جب یہ سب چھن جائے تو صرف راکھ باقی رہ جاتی ہے۔"
انسپکٹر نے بے اختیار سر جھکا لیا۔
کچھ دیر بعد جاوید اٹھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر چہرے پر عجیب سی سنجیدگی تھی۔ اس نے ایک بار پھر جلتے ہوئے شعلوں کی طرف دیکھا اور پھر آسمان کی طرف نظریں اٹھا دیں۔
اس رات نہ آگ بجھی، نہ نفرت ختم ہوئی، مگر جاوید کے دل میں ایک دعا ضرور جاگ اٹھی کہ شاید آنے والی نسلیں مذہب، ذات اور نفرت کی دیواروں سے اوپر اٹھ کر انسان کو صرف انسان سمجھیں۔
وہ آہستہ آہستہ اندھیرے میں گم ہو گیا، مگر اس کے الفاظ فضا میں دیر تک گونجتے رہے:
"خدا کرے کسی کا گھر نہ جلے... کیونکہ گھر جلتا ہے تو صرف دیواریں نہیں گرتیں، پوری زندگیاں بکھر جاتی ہیں۔"
اس کے پاس بھی ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا جو جاوید کی آنکھیں پوچھ رہی تھیں۔
دور کہیں آگ کے شعلے آسمان کو چھو رہے تھے۔ دھواں فضا میں پھیل رہا تھا اور انسانیت ایک بار پھر نفرت کے ہاتھوں زخمی ہو رہی تھی۔
جاوید نے مٹی کو اپنے سینے سے لگایا اور آہستہ سے بولا:
"صاحب! گھر اینٹوں اور دیواروں کا نام نہیں ہوتا۔ گھر تو ماں کی دعا، باپ کی شفقت، بہن کی محبت اور بچوں کی ہنسی سے بنتا ہے۔ جب یہ سب چھن جائے تو صرف راکھ باقی رہ جاتی ہے۔"
انسپکٹر نے بے اختیار سر جھکا لیا۔
کچھ دیر بعد جاوید اٹھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر چہرے پر عجیب سی سنجیدگی تھی۔ اس نے ایک بار پھر جلتے ہوئے شعلوں کی طرف دیکھا اور پھر آسمان کی طرف نظریں اٹھا دیں۔
اس رات نہ آگ بجھی، نہ نفرت ختم ہوئی، مگر جاویدکے دل میں ایک دعا ضرور جاگ اٹھی کہ شاید آنے والی نسلیں مذہب، ذات اور نفرت کی دیواروں سے اوپر اٹھ کر انسان کو صرف انسان سمجھیں۔
وہ آہستہ آہستہ اندھیرے میں گم ہو گیا، مگر اس کے الفاظ فضا میں دیر تک گونجتے رہے:
"خدا کرے کسی کا گھر نہ جلے... کیونکہ گھر جلتا ہے تو صرف دیواریں نہیں گرتیں، پوری زندگیاں بکھر جاتی ہیں۔"
اختتام
Comments
Post a Comment