انٹرویو نگاری اور کالم نگاری پر ایک روزہ ورکشاپ منعقد - اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ہماری تہذیب، ثقافت اور شناخت کا اہم حصہ ہے : مفتی محمدعلی قاضی۔
انٹرویو نگاری اور کالم نگاری پر ایک روزہ ورکشاپ منعقد - اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ہماری تہذیب، ثقافت اور شناخت کا اہم حصہ ہے : مفتی محمدعلی قاضی۔
دھارواڑ:ـ(راست)شعبہ اردو وفارسی کرناٹک آرٹس کالج دھارواڑ میں انجمن آرٹس، سائنس، کامرس کالج اینڈ پی جی اسٹڈیز دھارواڑ اور نہرو آرٹس، سائنس اور کامرس کالج ہبلی نے مشترکہ طور پرانٹرویو نگاری اور کالم نگاری کے عنوان پر ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ مہمانِ خصوصی کرناٹک اردو اکیڈمی بنگلورو کے چیئرمین مفتی محمد علی قاضی نے اپنے خطاب میں اردو زبان و ادب کی موجودہ صورتِ حال اور اس کے فروغ کے امکانات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اردو ایک زندہ، ترقی یافتہ اور وسیع ادبی سرمایہ رکھنے والی زبان اوراردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ہماری تہذیب، ثقافت اور شناخت کا اہم حصہ ہے جس کے فروغ کے لیے حکومت اور اردو اکیڈمی مختلف سطحوں پر سرگرم عمل ہیں۔
انہوں نے طلبہ کو اردو زبان سے وابستگی برقرار رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اردو اکیڈمی کی جانب سے طلبہ، اساتذہ، محققین اور نوآموز قلم کاروں کے لیے متعدد اسکیمیں جاری ہیں، جن کے ذریعے تحقیقی، ادبی اور تخلیقی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اکیڈمی کی جانب سے کتابوں کی اشاعت، ادبی اعزازات، مالی امداد، تحقیقی منصوبوں اور ادبی پروگراموں کے انعقاد کے ذریعے اردو کے فروغ کی سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو ان سہولتوں سے بھرپور استفادہ کرنے کی تلقین کی۔اعزازی مہمان ڈاکٹر سیدفیروز احمد، پرنسپل نہرو آرٹس، سائنس اور کامرس کالج ہبلی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم اور ادب کسی بھی معاشرے کی فکری تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مطالعے کی عادت اپنانے اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ انٹرویو نگاری اور کالم نگاری صحافت کے اہم شعبے ہیں جو نہ صرف اظہارِ خیال کا مؤثر ذریعہ ہیں بلکہ سماجی شعور بیدار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ زبان و ادب کے ساتھ ساتھ عصری تقاضوں سے ہم آہنگ صحافتی مہارتیں بھی حاصل کریں۔ایک اور اعزازی مہمان ڈاکٹر این۔ بی۔ نالتواڑ، پرنسپل انجمن ڈگری کالج دھارواڑ نے اپنے خطاب میں اردو صحافت، ترجمہ نگاری، کالم نگاری، انٹرویو نگاری، تدریس، تحقیق اور ذرائع ابلاغ کے مختلف شعبوں میں موجود روزگار کے مواقع پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں زبان کی مہارتیں نوجوانوں کے لیے نئی راہیں کھول سکتی ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو اپنی تحریری اور ابلاغی صلاحیتوں کو فروغ دینے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان میں بے شمار امکانات موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر نوجوان اپنا روشن مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں۔تقریب کے صدر پروفیسر آئی۔ سی۔ ملگند نے اپنے صدارتی خطاب میں اردو طلبہ کی گھٹتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اردو زبان کو مضبوط بنیادوں پر فروغ دینا ہے تو ابتدائی اور پرائمری سطح سے ہی مؤثر منصوبہ بندی اور محنت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیب، ثقافت اور تاریخی ورثے کی نمائندہ ہے۔ اس زبان کے تحفظ اور فروغ کے لیے اساتذہ، والدین اور سماجی اداروں کو مشترکہ طور پر سنجیدہ کوششیں کرنی ہوں گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئی نسل کو اردو زبان کی ادبی اور تہذیبی اہمیت سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس موقع پر تین طالبات جو کنڑا میڈیم سے ہیں اور بی اے میں آفشنل اردو پڑھ رہی ہیں سمیہ ڈگلی،نبیلہ نداف اور اسرا سونے خاں کوان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئےتہنیت پیش کی گئی۔پروگرام کا آغاز صائمہ رامدرگ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا،عائشہ پانی گٹی نے بارگاہ رسالت میں نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔پروگرام کی نگراں کار پروفیسر سلیمہ بی کولو ر نے مہمانِ خصوصی کا تعارف پیش کرتے ہوئے استقبالیہ کلمات ادا کیے اور ورکشاپ کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے علمی و تربیتی پروگرام طلبہ میں صحافتی اور ادبی شعور پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ڈاکٹر الیاس احمدپٹویا ر نے اعزازی مہمان ڈاکٹر سیدفیروز احمد کا تعارف پیش کیا، جبکہ ڈاکٹر بی۔ بی۔ عائشہ چکولی نے ڈاکٹر این۔ بی۔ نالتواڑ کا تعارف حاضرین کے سامنے پیش کیا۔ریسرچ اسکالرمحترمہ نور جہاں نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دیے۔ بی۔ اے۔ سالِ آخر کی طالبہ بشرکہ نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا، جبکہ امِ فضل انکلگی نے شکریہ کی رسم ادا کی۔ورکشاپ کے دوران ماہرین نے انٹرویو نگاری اور کالم نگاری کے فنی،تکنیکی اور عملی پہلوؤں پر تفصیلی رہنمائی فراہم کی۔ اس تقریب میں ڈاکٹرسیدہ یاسمین فاطمہ اور محترمہ شبانہ بیگم تیغ برہانہ موجود تھیں ۔شرکاء نے پروگرام کو بے حد معلوماتی، مفید اور بامقصد قرار دیتے ہوئے منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔اس موقع پر مختلف کالجوں کے اساتذہ، محققین، طلبہ و طالبات اور ادب دوست حضرات کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے ورکشاپ سے بھرپور استفادہ حاصل کیا۔(رپورٹ: ڈاکٹر بی بی عائشہ چکولی ،صدرشعبہ اردو ،انجمن ڈگری کالج ،دھارواڑ)
Comments
Post a Comment