اولاد کی تربیت میں ماں اور باپ کا مشترکہ کردار - ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
اولاد کی تربیت میں ماں اور باپ کا مشترکہ کردار -
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
M A M Ed
8904317986
اولاد کی تربیت میں ماں اور باپ کا مشترکہ کردار
اولاد کی صحیح تربیت صرف ماں یا صرف باپ کی ذمہ داری نہیں، بلکہ دونوں اس عظیم فریضے میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ماں اور باپ دونوں کو الگ الگ صفات اور ذمہ داریاں عطا فرمائی ہیں تاکہ وہ مل کر اولاد کی بہترین تربیت کر سکیں۔
ماں اپنی محبت، شفقت، نرمی اور قربت کے ذریعے اولاد کے دل میں جگہ بناتی ہے۔ وہ بچے کے جذبات کو سمجھتی ہے، اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور محبت کے ساتھ اس کی اصلاح کرتی ہے۔ دوسری طرف باپ اپنی سنجیدگی، نگرانی، نظم و ضبط اور ذمہ داری کے احساس کے ذریعے اولاد کی شخصیت کو مضبوط بناتا ہے۔ بچے کی تربیت میں محبت بھی ضروری ہے اور حدود و قیود کا احساس بھی۔
اگر ماں صرف محبت کرے اور اصلاح سے غفلت برتے، یا باپ صرف سختی کرے اور شفقت سے محروم ہو جائے، تو تربیت کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ کامیاب تربیت وہی ہے جس میں ماں کی محبت اور باپ کی رہنمائی ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔
اکثر گھروں میں اختلافات اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب ماں اولاد کی ہر غلطی پر پردہ ڈالنے لگتی ہے اور باپ اصلاح کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے حالات میں ماں اور باپ کو ایک دوسرے کا مخالف بننے کے بجائے ایک ٹیم کی حیثیت سے کام کرنا چاہیے۔ ان کا مقصد ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنا نہیں بلکہ اولاد کو صحیح راستے پر چلانا ہونا چاہیے۔
والدین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ضرورت سے زیادہ نرمی بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے اور ضرورت سے زیادہ سختی بھی۔ محبت اور نظم و ضبط، شفقت اور نگرانی، نرمی اور مضبوطی؛ جب یہ سب صفات متوازن انداز میں جمع ہو جائیں تو اولاد اچھے اخلاق، مضبوط کردار اور ذمہ دار شخصیت کی مالک بنتی ہے۔
لہٰذا ماں اور باپ دونوں کو اپنی اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر سمجھنا چاہیے اور باہمی تعاون کے ساتھ اولاد کی تربیت کرنی چاہیے، کیونکہ آج کی صحیح تربیت ہی کل ایک صالح، باکردار اور کامیاب نسل کی ضمانت ہے۔
ایک جملے میں کہا جا سکتا ہے:
"ماں کی محبت اور باپ کی رہنمائی جب ایک راستے پر چلیں تو اولاد کی تربیت سنور جاتی ہے، لیکن جب دونوں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہو جائیں تو تربیت کمزور پڑ جاتی ہے۔"
Comments
Post a Comment