غزل - ازقلم : سرفراز حسین فراز پیپل سانہ مرادآباد۔
غزل -
ازقلم : سرفراز حسین فراز پیپل سانہ مرادآباد۔
کچھ تو بتاؤ اے مرے دلدار بیچ کر
کیا زندہ رہ سکو گے یہ دستار بیچ کر
عزت نصیب ہو نہ سکے گی تمام عمر
دولت کما تو لو گے یہ کردار بیچ کر
چلنے نہ دینگے دہر میں تیغ ستم کو اب
ہم نے قلم خریدہ ہے تلوار بیچ کر
بچوں کو راس آنے لگی شہر کی فضا
جانا پڑے گا گاؤں کا گھر بار بیچ کر
چھٹی کے پیسے کاٹیے پر یہ تو دیکھیے
کتنا کما رہا ہوں میں اخبار بیچ کر
لالچ میں سودا کر ہی دیا بے بقوف نے
کشتی ڈبو ہی بیٹھا وہ پتوار بیچ کر
فٹ پاتھ پر ملے گا کسی روز وہ فراز
خرچہ چلا رہا ہے جو گھربار بیچ کر
Comments
Post a Comment