اور! بچپن کہاں کھو گیا؟۔ از قلم : رہبر تماپوری۔
اور! بچپن کہاں کھو گیا؟
از قلم: رہبر تماپوری۔
زندگی کا ہر دن ایک نئی صبح کی نوید لے کر آتا ہے۔ ہر نئی کرن امید کا ایک تازہ پیغام دیتی ہے، مگر انسانی زندگی کا سب سے خوبصورت، دلکش اور سنہری دور “بچپن” کا زمانہ ہوتا ہے۔ بچپن وہ بے فکری کی مقدس دنیا ہے جس میں ہم نے پہلی بار اپنی معصوم آنکھوں سے رنگین خواب دیکھے تھے۔ یاد آتا ہے کہ جب ہر صبح آنکھ کھلتی تھی تو دل کے کسی کونے میں یہ گمان ہوتا تھا کہ یہ دن ہمیشہ ایسا ہی رہے گا، وقت یہیں تھم جائے گا اور ہم کبھی بڑے نہیں ہوں گے۔ معصوم ذہن اس حقیقت سے بالکل بے خبر تھا کہ وقت کے دھارے کو آج تک کوئی روک نہیں سکا۔
مگر وقت نے اپنی بے رحم چال چلی اور جیسے ہی ہم نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا، بچپن کا وہ سنہری، رنگین اور بے فکر سفر آہستہ آہستہ پیچھے چھوٹتا چلا گیا۔ نہ جانے کیسے اور کب، وہ انمول لمحے زندگی کی مصروفیات کے ہجوم میں خاموشی سے گم ہو گئے۔ آج وہ یادیں زندگی کے ہر موڑ پر ہمارے ساتھ تو ہیں، مگر دنیاوی الجھنوں کے بوجھ تلے ہم انہیں اس طرح محسوس کرنے سے محروم ہو چکے ہیں جیسے کبھی بچپن کے ان سنہری دنوں میں کیا کرتے تھے۔
ہمارا بچپن کسی پرتعیش محل یا مہنگے مصنوعی کھلونوں کا محتاج نہیں تھا، بلکہ ہم چھوٹے گاؤں کی ان تنگ اور کچی گلیوں میں کھیلتے تھے جہاں مٹی کی سوندھی خوشبو روح کو معطر کرتی تھی اور فضا میں بچوں کے بے ساختہ قہقہے گونجتے تھے۔ ہمارے لیے اس کائنات کا ہر پتھر ایک انوکھا کھلونا تھا اور ہر پرانا، گھنا درخت ایک جیتی جاگتی کہانی سناتا محسوس ہوتا تھا۔ وہ دور محبت، خلوص اور سادگی کا دور تھا۔ ہمیں اپنے دوستوں کو بلانے کے لیے کسی موبائل فون یا پیغام کی ضرورت نہیں ہوتی تھی، بلکہ ہم گلیوں میں کھڑے ہو کر ایک دوسرے کو زور زور سے آوازیں لگاتے، پل بھر میں اکٹھے ہو جاتے، کھیلتے کودتے، آپس میں روٹھتے اور پھر لمحے بھر میں مان بھی جاتے۔
بچپن کی معصومیت کو چار چاند لگانے میں ہمارے بزرگوں کا سایہ سب سے اہم اور قیمتی تھا۔ دادی امّاں کی وہ پیار بھری لوریاں، جو رات کی خاموشی میں دل کے تاروں کو چھوتی تھیں، ماں کی گود کی وہ مخملی ٹھنڈک، جو ہر درد کا علاج تھی، نانی کے منہ سے پریوں اور بادشاہوں کے وہ قصے، جو سوتے سوتے کانوں میں گھلتے تھے، اور آنگن میں بچوں کا وہ شورِ قیامت، جس پر بزرگوں کی پیار بھری ڈانٹ سن کر ہم سب سہم جاتے تھے — یہ وہ لازوال نعمتیں تھیں جن کی قدر ہم نے اُس وقت نہ جانی، مگر آج ان کا تصور بھی دل کو تڑپا دیتا ہے اور آنکھوں کو نم کر دیتا ہے۔
ہمارے کھیل ہماری ذہنی اور جسمانی نشوونما کا سب سے فطری اور مؤثر ذریعہ تھے۔ جب ہم سب دوست مل کر لیلیٰ ڈنڈا اور گلی ڈنڈا کھیلتے، پکڑم پکڑائی کے لیے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے، یا اندھیری راتوں میں آنکھ مچولی کے دوران چھپ چھپ کر کھیلنے کا مزہ لوٹتے، تو وہ محض تفریح نہیں ہوتی تھی بلکہ ہماری روح کی اصل غذا ہوا کرتی تھی۔ ان کھیلوں میں اتحاد تھا، برداشت تھی، ہار کو قبول کرنے کا حوصلہ تھا اور جیت پر بے ساختہ خوشی کا وہ احساس تھا جو آج کسی ورچوئل گیم میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔
مگر افسوس کہ وقت کا پہیہ گھومتا رہا اور جیسے ہی ہم نے میٹرک کی دہلیز پار کی، بچپن کی شگفتہ، لاڈلی اور لاپرواہ دنیا یکدم بدل گئی۔ زندگی کے حالات اچانک سنجیدہ ہو گئے، پڑھائی اور مستقبل کی فکر نے آ گھیرا، اور دیکھتے ہی دیکھتے کندھوں پر معاشرتی اور خانگی ذمہ داریوں کا بوجھ آ گیا۔ وہ بے فکری، جو کبھی ہماری پہچان تھی، رفتہ رفتہ دنیا کے ہنگاموں میں اوجھل ہوتی چلی گئی۔
مگر آج بھی جب ہم زندگی کی تیز رفتاری سے تھک کر اپنے بچپن کی ان پرانی گلیوں سے گزرتے ہیں تو دل کے نہاں خانے میں ایک ہلکی سی شیریں مسکراہٹ جاگ اٹھتی ہے اور یادوں کا ایک پورا جہان آنکھوں کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ وہ لمحے، وہ کھیل، وہ دوست، وہ گلیاں — سب آج ہمارے پاس ایک بیش بہا خزانے کی صورت محفوظ ہیں، جنہیں یاد کر کے انسان چند لمحوں کے لیے پھر سے بچہ بن جاتا ہے۔
معاشرے کا سب سے بڑا اور سب سے دردناک المیہ یہ ہے کہ آج کے بچے اس حقیقی معصومیت اور بچپن کے اصل حسن سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، اسمارٹ فونز، سوشل میڈیا اور مصنوعی طرزِ زندگی نے معصوم بچوں کو ان کے حسین بچپن سے بہت دور کر دیا ہے۔ آج گاؤں اور شہروں کی وہ گلیاں ویران ہیں، کھیل کے میدان سنسان پڑے ہیں اور بچے دن رات اسکرین کی نیلی روشنی میں قید ہو کر اپنا بچپن خود اپنے ہاتھوں سے دفن کر رہے ہیں۔
وہ بچہ، جو کبھی مٹی میں گھروندے بنا کر خود کو کائنات کا مالک سمجھتا تھا، آج کمپیوٹر اور ورچوئل گیمز کی فرضی دنیا میں کھو چکا ہے۔ وہ ہنسی، جو کبھی کسی دوست کی معصوم شرارت پر بے ساختہ نکلتی تھی، آج موبائل اسکرین پر محض ایک بے جان “ایموجی” بن کر رہ گئی ہے۔ کیمیکل زدہ غذاؤں اور پڑھائی کے بے جا دباؤ نے بچوں کی فطری نشوونما کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ چھ سال کی عمر میں بستے کا بوجھ، آٹھ سال میں ٹیوشنوں کا سلسلہ اور دس سال میں امتحانات کا خوف — یہ وہ زنجیریں ہیں جن میں بچپن کی معصوم روح جکڑی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا نے بچوں کو وہ دنیا دکھائی ہے جس کے لیے وہ ابھی ذہنی اور جذباتی طور پر بالکل تیار نہیں تھے۔ نفرت، مقابلہ بازی، ناکامی کا خوف اور مصنوعی معیارات کا دباؤ — یہ وہ بھاری بوجھ ہیں جو ایک ننھی اور کومل روح پر لاد دیے گئے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج کا بچہ جسمانی طور پر تو بڑا ہو رہا ہے مگر جذباتی اور روحانی طور پر کھوکھلا ہوتا جا رہا ہے۔
ہم جیسے لوگ جب آج گلیوں میں یا اسکولوں کے باہر کھیلتے ہوئے چند بچوں کو دیکھتے ہیں تو بے اختیار ان کے چہروں میں اپنا کھویا ہوا بچپن تلاش کرتے ہیں۔ یہ گہرا احساس ہمارے دلوں کو جھنجھوڑتا ہے اور ہمیں اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو دوبارہ بچپن کی اسی سادگی، سچی محبت اور فطری معصومیت سے آشنا کریں۔ یہ ہم سب کی اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو موبائل کی اسکرین سے نکال کر کھیل کے میدان دیں، مصنوعی گیجٹس کی بجائے کتابیں اور قلم دیں، اور تنہائی کے اندھیروں سے نکال کر بزرگوں کی محبت بھری صحبت میں بٹھائیں۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ بچپن محض عمر کا ایک عارضی حصہ نہیں، بلکہ انسانی روح کی وہ تازگی، پاکیزگی اور معصومیت ہے جو پوری زندگی کو معنویت اور جینے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ اگر ہم نے آج سنجیدگی سے اپنے بچوں کا بچپن بچا لیا تو کل ہمارے سامنے ایک روشن، خوش اخلاق، پُرامید اور ذہنی طور پر صحت مند نسل کھڑی ہوگی۔
آج بھی کہیں کسی گلی میں کوئی بچہ مٹی میں گھروندے بنا رہا ہے، کوئی لڑکی گڑیا کو لوری سنا رہی ہے، اور کوئی لڑکا پتنگ اڑا رہا ہے — یہ مناظر بتاتے ہیں کہ بچپن ابھی مرا نہیں، بس زخمی ہے۔ ہمیں اسے بچانا ہے — اپنی توجہ سے، اپنی محبت سے اور اپنی ذمہ داری کے گہرے احساس سے۔
---
“بچپن وہ چراغ ہے جو ایک بار بجھ جائے تو دوبارہ نہیں جلتا —
اسے روشن رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔”
ازقلم : رہبر تماپوری.
Comments
Post a Comment