عالمی یومِ ماحوليات اور ہماری ذمہ داریاں - از قلم : عثمان احمد (مدرس ڈاکٹر اقبال نگر پریشد اردو گرلز مڈل اسکول عمرکھیڑ ضلع ایوت محل)


عالمی یومِ ماحوليات اور ہماری ذمہ داریاں - 
از قلم : عثمان احمد (مدرس ڈاکٹر اقبال نگر پریشد اردو گرلز مڈل اسکول عمرکھیڑ ضلع ایوت محل)

 5 جون 2026 : اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کا اعزاز عطا کیا ہے اور اس کا مسکن اس زمین کو بنایا ہے ۔ انسان اتنا قیمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں موجود سونے چاندی اور دیگر معدنیات کے خزانے اس کے قدموں کے نیچے ڈال دیے ہیں تا کہ انسان اپنے دنیا میں آنے کے مقصد کو سمجھے ۔
کرۂ ارض پر موجود قدرتی ماحول اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔ ہوا، پانی، مٹی، درخت اور نباتات مل کر ایک ایسا نظام بناتے ہیں جو زمین پر زندگی کو ممکن اور خوبصورت بناتا ہے۔ تاہم، بڑھتی ہوئی صنعتی ترقی، آلودگی اور ہماری لاپرواہی کی وجہ سے ہمارا ماحول تیزی سے تباہی کی طرف گامزن ہے۔ اسی احساس اور شعور کو بیدار کرنے کے لیے ہر سال 5 جون کو دنیا بھر میں "عالمی یومِ ماحوليات" (World Environment Day) منایا جاتا ہے، اس دن کو منانے کا اصل مقصد انسان کو یہ یاد دلانا ہے کہ زمین ہمارا واحد گھر ہے اور اس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آؤ مل کر زمین کو سرسبز بنائیں
 ہمارا عہد: "آؤ مل کر زمین کو سرسبز بنائیں" اور "ہماری زمین، ہمارا مستقبل"۔ یہ نعرے ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ اگر ہم نے آج اپنی زمین کو بچانے کی کوشش نہ کی، تو ہمارا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ زمین کی ہریالی اور سرسبز و شاداب ماحول ہی انسانی بقا کی ضمانت ہے۔
ماحول کو صاف ستھرا اور صحت مند رکھنے کے لیے انتہائی اہم نکات: 
1۔ درخت لگائیں
درخت زمین کے پھیپھڑے ہوتے ہیں جو ماحول سے زہریلی گیسیں جذب کر کے ہمیں صاف آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی گرمی (گلوبل وارمنگ) کو روکنے کا سب سے سستا اور مؤثر حل زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں ۔
"آج ایک پودا لگائیں، کل ایک بہتر دنیا پائیں"
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آج کی گئی ایک چھوٹی سی کوشش ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند دنیا کا ضامن بنے گی۔
2۔ پانی بچائیں
پانی زندگی کا دوسرا نام ہے، لیکن پینے کے صاف پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ پانی کو بلاوجہ ضائع کرنے سے روکنا اور اس کا صحیح استعمال کرنا ماحول کو بچانے کا ایک اہم حصہ ہے۔ پانی کی ہر ایک بوند قیمتی ہے، اور اسے محفوظ کرنا ہمارا اخلاقی اور قومی فریضہ ہے۔
3۔ پلاسٹک کا کم استعمال کریں
پلاسٹک کی آلودگی موجودہ دور کا ایک سنگین ترین مسئلہ بن چکی ہے۔ پلاسٹک سینکڑوں سال تک مٹی میں گلتا نہیں ہے، جس کی وجہ سے زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے اور آبی حیات کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔ پلاسٹک کی تھیلیوں اور اشیاء کا استعمال کم سے کم کر کے اور ری سائیکلنگ (دوبارہ استعمال) کے عمل کو اپنا کر ہم اپنے ماحول پر ایک بڑا احسان کر سکتے ہیں۔
4۔ ماحول کو صاف اور محفوظ رکھیں
اپنے گھر، گلی، محلے اور اسکول و دفاتر کو صاف ستھرا رکھنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ کچرے کو کھلے عام پھینکنے کے بجائے کوڑے دان میں ڈالنا چاہیے تاکہ بیماریاں نہ پھیلیں اور ماحول خوشگوار رہے۔ جیسا کہ تصویر کے ایک دائرے میں لکھا ہے: "صاف ماحول، صحت مند زندگی"— یعنی ہماری تندرستی کا براہِ راست تعلق ہمارے اردگرد کی صفائی سے ہے۔
عالمی یومِ ماحوليات محض ایک دن تقریبات منعقد کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ روزمرہ کی زندگی میں اپنے رویوں کو بدلنے کا عہد ہے۔ اگر ہم سب مل کر چھوٹے چھوٹے اقدامات کریں—جیسے پودے لگانا، پانی کی بچت کرنا، اور پلاسٹک کا بائیکاٹ کرنا—تو ہم اس خوبصورت زمین کو تباہی سے بچا سکتے ہیں۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے ماحول کے محافظ بنیں گے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک صاف ستھری اور صحت مند فضا میں سانس لے سکیں۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی شجر کاری کو اہم قرار دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہم سب سے راضی ہو ۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔