آل انڈیا مانوتا پارٹی"۔ - تحرير : ظفر هاشمي ندوی۔(سابق فيملي كاونسلر دبئ كورٹ)
آل انڈیا مانوتا پارٹی"
تحرير : ظفر هاشمي ندوی۔
(سابق فيملي كاونسلر دبئ كورٹ)
ہندوستان کی آزادی سے لیکر آج تک مختلف سیاسی اور مذہبی پارٹیاں ، انڈیا میں وجود میں آئیں۔ ہم ہندوستانیوں کو ان جماعتوں اور پارٹیوں کا ہر طرح سے تجربہ ہے۔ ایک بالکل واضح حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی پارٹی اپنے کسی بھی امیدوار کو اعلی تعلیم سماجی خدمات اور مجرمانہ کردار سے خالی ہونے کی بنیاد پر منتخب نہیں کرتی ہے۔ ہمارے ملک میں جمہوریت کی یہی حقیقت رہ گئی ہے۔ تمام ہندستانیوں کا فرض ہے کہ وہ کسی مذہبی تعصب، ذات پات کا فرق اور اکثریت و اقلیت کا سوچے بغیر ، تمام سیاسی و غیر سیاسی پارٹیوں سے یہ مطالبہ کریں کہ اوپر ذکر کردہ تین اصولوں کی بنیاد پر ہی اپنی طرف سے کسی کو الیکشن میں کھڑا کریں ۔
مگر اس کے ساتھ ہر ہندوستانی کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ الیکشن لوک سبھا کے ہوں یا راجیہ سبھا کے کسی سیاسی پارٹی کی بحیثیت سیاسی پارٹی حمایت چھوڑ دیں۔ بلکہ الیکشن میں کھڑے ہر امیدوار کا جائزه ان تین اصولوں کی روشنی میں لیں
میرے خیال میں ہندوستان جیسے ملک میں جہاں کئی مذاہب کے لوگ رہتے ہیں، ان سب میں آل انڈیا مانوتا پارٹی ) کا قائم کرنا بے حد ضروری ہے تاکہ ہر زمانہ میں جب جب نفرت کی آگ بھڑکائی جائے اور خود ہندوستانی ہی اپنے ملک کی ترقی کے بجائے اس کو برباد کرنے لگے تب تب انسانیت پارٹی اس آگ پر محبت اور ہر ایک کی بھلائی کا پانی ڈالے
یہاں تک کہ وہ نفرتی آگ اپنے بجھ جائے۔ جب سارے ہندوستانی متحد ہو جائیں گے تب یہ ملک اپنے آپ سائنس ، تکنالوجی ، بر طرح کی انڈسٹری اور ایجوکیشن کی تمام قسموں میں سب سے زیادہ ترقی کرے گا
اب وقت آگیا ہے کہ سارے ہندوستانی " آل انڈیا مانو تا پارٹی قائم کریں۔ اس پارٹی کا ممبر ہر ہندوستانی ہوگا - اس پلیٹ فارم سے ہم آر ایس ایس و شواہندو پریشد ، بجرنگ دل، شیوسینا اور خود مسلم لیگ و مجلس اتحاد المسلمین سب کو دعوت دیتے ہیں۔ ہمارا کہنا یہ ہے کہ جو شخص جس سیاسی پارٹی کے لیئے کام کرتا ہے یا اس کا ممبر ہے وہ اسے نہ چھوڑے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ “ مانوتا پارٹی کا بھی اپنے آپ ممبر ہو اور جب بھی جہاں بھی اور جس قدر کسی انسان پر ظلم ہو یا اس کی جان و مال کو خطره بو مانوتا پارٹی کے ممبران اس مظلوم انسان کی حمایت میں کھڑے ہو جائیں۔ اس مقصد کے لیئے میں فخر کے ساتھ اگلی سطروں میں اس پارٹی کا خاکہ پیش کرتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ جس طرح تمام ہندوستانیوں نے 2024 کے لوک سبھا کے انتخابات میں جمہوریت کو بچایا ہے اور نفرت بھری سیاست کو شکست دی ہے وہ سارے ہندوستانی بھائی اس “ آل انڈیا مانوتا پارٹی میں ضرور شامل ہوں گے ۔
آئیے اس مانوتا پارٹی کے اصولوں کو سمجھنے اور اس کے بعد پوری طرح عمل کرنے کی کوشش کریں
نام آل انڈیا مانو تا پارٹی
* انسانیت مذہب
نعرہ :نفرت مرده باد انسانیت و محبت زنده باد
بر ہندوستانی جو دنیا میں کسی بھی ملک میں رہتا ہو ممبر شپ کا حقدار ہوگا-
انڈین پاسپورٹ ہولڈر ہو ادھار کارڈ اور راشن کارڈ وغیرہ بھی ہو تو زیادہ بہتر ہے
ممبر شپ کیسے ملے گی؟
اس پارٹی کی ممبر شپ کا نہ کوئی فارم ہے نہ ہی کوئی فیس ہر ہندوستانی جو اس بات کو سمجھ لے وہ خود ہی اپنے الله ، اور جس خدا پر یقین رکھتا ہو اسکی قسم خود ہی کھائے اور یہ عہد کرے کہ میں آج سے ہر طرح کی نفرت سے توبہ کرتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ میں ہر حال میں ہر انسان سے محبت کروں گا میں ہر انسان کے کام آونگا کسی بھی انسان کی جان و مال گھر بار اور عزت و آبرو کی حفاظت کروں گا -
جو پارٹی جو جماعت اور جو شخص بھی کسی انسان کو نقصان پہونچانے کی کوشش کرے گا میں اس کا ساتھ نہیں دوں گا میں ہر مسجد مندر گرجہ گھر ،دھرم شالہ، مدرسہ گردوارہ اور ہر طرح کے مذہب کا طریقہ کار ، اور عبادت گاہ کا احترام کروں گا-
یہ پارٹی کسی طرح کے چھوٹے بڑے سیاسی الیکشن میں حصہ نہیں لے گی۔ نہ ہی کسی سیاسی جماعت کا ساتھ دے گی نہ مخالفت کرے گی۔ مگر ہر الیکشن سے پہلے وہ ہر امیدوار سے اسکی انسانی سرویس کا ثبوت مانگے گی۔ ہر جگہ کے تمام امیدواروں سے ان کی انسانی سرویس اور خدمات کی تفصیل جمع کرے گی۔ اخبارات اور تمام سوشل میڈیا پر اسے نشر کرے گی اور فیصلہ عوام پر چھوڑے گی کہ وہ کس امیدوار کو ووٹ دینا پسند کرتے ہیں ۔
اگر ہر ہندوستانی یہ چاہتا ہے کہ اس کا ملک ترقی کرے تو اسے ہر حال میں مانوتا اور انسانیت کا ساتھ دینا ہوگا ورنہ یہ ملک دھیرے دھیرے جنگل بن جائے گا - جہاں جنگل کا راج چلے گا- جانتے ہو جنگل کا قانون کیا ہے- وہ قانون ہے خود غرضی اور ایک دوسرے کا خون وقتل-
اس کے ساتھ ساتھ وہ ہر امیدوار سے یہ بھی سوال کرے گی کہ اگر وہ الیکشن جیت جائے تو مستقبل میں اس کے اپنے دائرہ، گاؤں اور شہر میں وہ کس کس طرح کے انسانیت کے کام کرے گا۔ اس کام کے لئے مانوتا پارٹی کی طرف سے مختلف انسانی ضرورتوں کی ایک فہرست بنائی جائے گی اور ہر امیدوار سے الگ الگ اس کی مرضی اور وعدہ کے مطابق اس لسٹ پر دستخط لے گی۔ پھر وہ لسٹ اخبارات اور سوشل میڈیا پر نشر کی جائے گی اور کسی پارٹی یا امیدوار کی حمایت کے بغیر ہر ووٹ دینے والے کو اختیار ہوگا کہ وہ جسے چاہے ان معلومات کی روشنی میں ووٹ دے ۔
Comments
Post a Comment