ایک قیدی پرندے کی آپ بیتی - از قلم : رہبر تماپوری۔
ایک قیدی پرندے کی آپ بیتی -
از قلم: رہبر تماپوری۔
میں ایک قیدی پرندہ ہوں۔ میری آنکھوں میں بھی کبھی آزاد فضاؤں کے خواب ہوا کرتے تھے۔ میں بھی آسمان کی وسعتوں کو اپنا مقدر سمجھتا تھا اور یقین رکھتا تھا کہ ایک دن اپنی محنت کے پروں سے کامیابی کی بلندیاں چھو لوں گا۔ مگر آج میری حالت ایک ایسے پرندے کی سی ہے جو اڑنے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود پنجرے میں بند ہے۔
میری کہانی دراصل اس نوجوان کی کہانی ہے جس نے برسوں تعلیم حاصل کی، کتابوں کے درمیان اپنی جوانی کا ایک بڑا حصہ گزار دیا اور مستقبل کے سنہرے خواب دیکھے۔ میں نے بھی یہی سوچا تھا کہ تعلیم مکمل ہوتے ہی زندگی کے راستے آسان ہو جائیں گے، والدین کی امیدیں پوری ہوں گی اور میں معاشرے میں اپنا مقام بنا سکوں گا۔ لیکن جب تعلیمی سفر ختم ہوا تو حقیقت میرے تصورات سے مختلف نکلی۔
میں روزگار کی تلاش میں نکلا۔ کئی اداروں کے دروازے کھٹکھٹائے، درخواستیں جمع کرائیں، امتحانات دیے اور انٹرویوز میں شرکت کی، مگر کامیابی ہاتھ نہ آ سکی۔ ہر ناکامی کے بعد ایسا محسوس ہوتا جیسے میرے پنجرے کی سلاخیں مزید مضبوط ہو گئی ہوں۔ وقت گزرتا گیا اور انتظار بڑھتا گیا۔
آج گھر کی چار دیواری میرے لیے ایک پنجرے کی مانند ہے۔ صبح امید کے ساتھ جاگتا ہوں اور شام تک سوچوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہوں۔ والدین کی محبت بھری نظریں میرے دل میں ایک عجیب سی بے چینی پیدا کرتی ہیں۔ میں ان کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں، ان کی محنت کا صلہ بننا چاہتا ہوں، مگر بے روزگاری میرے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
کبھی کبھار میں اپنے ہم عمر نوجوانوں کو کامیاب ہوتے دیکھتا ہوں۔ ان کی ترقی پر خوشی محسوس ہوتی ہے، لیکن دل کے کسی گوشے میں اپنی محرومی کا احساس بھی جاگ اٹھتا ہے۔ تب مجھے اپنے پنجرے کا احساس اور زیادہ ہونے لگتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ آخر میری تعلیم، میری محنت اور میرے خواب کب حقیقت کا روپ دھاریں گے؟
بے روزگاری صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ذہنی اور جذباتی آزمائش بھی ہے۔ یہ انسان کے اعتماد کو کمزور کرتی ہے اور اس کے خوابوں کو دھندلا دیتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ نوجوان جب مواقع سے محروم رہ جاتا ہے تو وہ خود کو اسی قیدی پرندے کی طرح محسوس کرتا ہے جو کھلے آسمان کو دیکھ سکتا ہے مگر وہاں تک پہنچ نہیں سکتا۔
اس کے باوجود میں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ میں جانتا ہوں کہ زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ جس طرح رات کے بعد صبح آتی ہے، اسی طرح مشکلات کے بعد آسانیاں بھی آتی ہیں۔ میں آج بھی یقین رکھتا ہوں کہ میری محنت ایک دن ضرور رنگ لائے گی اور میرے لیے بھی کامیابی کے دروازے کھلیں گے۔
جب وہ دن آئے گا تو میں اس قیدی پرندے کی طرح آزاد ہو جاؤں گا جس کے سامنے پنجرے کا دروازہ کھل گیا ہو۔ میں پھر اپنے خوابوں کی سمت پرواز کروں گا اور ثابت کر دوں گا کہ صبر، محنت اور امید کبھی ضائع نہیں جاتے۔
میری آپ بیتی کا پیغام یہی ہے کہ بے روزگاری اگرچہ ایک سخت قید ہے، لیکن امید کا چراغ روشن رہے تو آزادی کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔
Comments
Post a Comment