امتیاز جلیل کی پکار، گوپی ناتھ منڈے کی یادگار، عوام کے نام سرکاری اسپتال - جانے والے کبھی واپس نہیں آتے - جانے والوں کی یاد آتی ہے - سید فاروق احمد قادری۔


امتیاز جلیل کی پکار، گوپی ناتھ منڈے کی یادگار، عوام کے نام سرکاری اسپتال - 
 جانے والے کبھی واپس نہیں آتے - جانے والوں کی یاد آتی ہے -  
سید فاروق احمد قادری۔

سن 2014 سے 2019 کے درمیان ایک اہم عوامی مسئلہ سامنے آیا۔ اس مقام پر گوپی ناتھ منڈے کی یادگار کے طور پر مجسمہ تعمیر کرنے کی تجویز تھی، لیکن اس وقت کے رکنِ اسمبلی امتیاز جلیل نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ عوام کو ایک مجسمے سے زیادہ ضرورت ایک ایسے سرکاری اسپتال کی ہے جہاں غریب، مزدور اور متوسط طبقے کے افراد بہتر علاج کی سہولت حاصل کر سکیں۔
اسی مقصد کے لیے انہوں نے عوامی آواز بلند کی، قانونی راستہ اختیار کیا اور ممبئی ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن نمبر 99/2017 دائر کی۔ مسلسل مخالفت، سیاسی دباؤ اور مشکلات کے باوجود وہ اپنے مؤقف پر قائم رہے کہ عوام کی خدمت ہر اختلاف سے بالاتر ہے۔
یہ جدوجہد کسی شخصیت یا جماعت کی مخالفت کے لیے نہیں، بلکہ عوام کی صحت، علاج اور بہتر مستقبل کے لیے تھی۔ آخرکار یہ کوشش کامیاب ہوئی اور گوپی ناتھ منڈے میموریل ہاسپٹل کا قیام عمل میں آیا، جو آج ہزاروں شہریوں کے لیے امید اور علاج کا مرکز ہے۔
اسپتال کی دیواریں خاموش ضرور ہوتی ہیں، مگر ان کے اندر ہر روز امید کی کرنیں جنم لیتی ہیں، ماؤں کی دعائیں گونجتی ہیں، بچوں کی مسکراہٹیں لوٹتی ہیں، بیماروں کو شفا ملتی ہے اور بے شمار خاندانوں کو نئی زندگی کا سہارا نصیب ہوتا ہے۔
پتھر کی عمارتیں ماضی کی عظمت کی گواہ ہوتی ہیں، مگر اسپتال کی دیواریں ہر روز انسانیت، امید اور شفا کی نئی داستان رقم کرتی ہیں۔
تاریخ پتھر سے نہیں، انسانیت کی خدمت سے بنتی

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔