گرہیں - (افسانہ)۔ ازقلم: رہبر تماپوری۔


 
 گرہیں - (افسانہ)
ازقلم: رہبر تماپوری۔

رات کا پچھلا پہر تھا۔ باہر موسلا دھار بارش برس رہی تھی۔ آسمان پر سیاہ بادل گہرے دبیز پردوں کی طرح چھائے ہوئے تھے۔ بجلی کی ہلکی سی چمک کبھی کمرے کی دیواروں کو روشن کر دیتی اور پھر فوراً اندھیرا چھا جاتا۔ کھڑکی کے شیشوں سے ٹکراتی بارش کی بوندیں ایک مسلسل آواز پیدا کر رہی تھیں، جیسے وقت کسی ادھوری کہانی کو دہرا رہا ہو۔
کمرے کے اندر مدھم زرد روشنی جل رہی تھی۔ پچیس سالہ عامر میز کے سامنے سر جھکائے بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے بکھری ہوئی فائلیں، بینک کے نوٹس، ناکام کاروبار کے کاغذات اور ٹوٹے ہوئے خواب اس کی حالت کی مکمل تصویر پیش کر رہے تھے۔ اس کے چہرے پر تھکن، آنکھوں میں مایوسی اور دل میں ایک ایسی بے بسی تھی جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
عامر کئی دنوں سے اسی کیفیت میں تھا۔ کاروبار مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا، شراکت دار اعتماد توڑ کر جا چکے تھے اور قرض کا بوجھ بڑھتا جا رہا تھا۔ اسے لگتا تھا جیسے زندگی نے اسے ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہر راستہ بند ہے اور ہر امید ایک نئی گرہ میں بدل چکی ہے۔
اسی لمحے کمرے کا دروازہ آہستہ سے کھلا۔ لکڑی کے چڑچڑانے کی آواز نے خاموشی کو توڑ دیا۔ اس کے والد امجد صاحب اندر داخل ہوئے۔ ان کے سفید بال، جھکی ہوئی کمر اور چہرے کی جھریاں برسوں کے تجربات کا آئینہ تھیں۔ وہ خاموشی سے بیٹے کے قریب آئے اور اس کے سامنے بیٹھ گئے۔ ایک لمحے میں انہوں نے سب کچھ سمجھ لیا۔
عامر نے رندھی ہوئی آواز میں کہا،
“ابا جان… میں ہار گیا ہوں۔ یہ زندگی بہت مشکل ہے۔ جتنا اسے سلجھانے کی کوشش کرتا ہوں، اتنا ہی الجھتی جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے میری تقدیر میں صرف ناکامی کی گرہیں لکھی ہیں۔”
امجد صاحب نے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ان کے چہرے پر ایک گہری مگر پُرسکون مسکراہٹ تھی۔ وہ اٹھے اور کمرے کے ایک کونے میں رکھی پرانی لکڑی کی پیٹی کھول لی۔ اس میں مختلف رسیوں کے ٹکڑے اور دھاگے رکھے تھے۔ انہوں نے ایک موٹی رسی نکالی اور اس میں تین مضبوط گرہیں لگا دیں۔
پھر وہ رسی عامر کے سامنے رکھتے ہوئے بولے،
“بیٹا عامر! یہ صرف رسی نہیں ہے، یہ زندگی ہے۔ اور یہ جو گرہیں تم دیکھ رہے ہو، یہ زندگی کی بنیادی مشکلات ہیں۔ انسان اگر انہیں سمجھ نہ پائے تو یہ مزید سخت ہو جاتی ہیں۔”
عامر خاموش ہوگیا۔ اس کی آنکھوں میں سوال ابھر آیا تھا۔
امجد صاحب نے پہلی گرہ پر انگلی رکھی اور بولے،
“یہ پہلی گرہ امید اور جلد بازی کی ہے۔ انسان جب کسی کام کی ابتدا کرتا ہے تو چاہتا ہے کہ سب کچھ فوراً ہو جائے۔ جب نتیجہ دیر سے ملے تو وہ گھبرا کر زور لگاتا ہے، اور یہی گرہ مزید سخت ہو جاتی ہے۔”
وہ لمحہ بھر رکے اور پھر بولے،
“میں نے بھی تمہاری عمر میں پہلی نوکری کھو دی تھی۔ مجھے لگا میری دنیا ختم ہوگئی ہے۔ مگر وقت نے مجھے سکھایا کہ صبر ہی وہ طاقت ہے جو اس گرہ کو آہستہ آہستہ کھولتی ہے۔ جلد بازی ہمیشہ نقصان دیتی ہے۔”
عامر کی نظریں زمین پر جم گئیں۔ اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ شاید ناکامی انجام نہیں بلکہ ایک سبق ہے۔
امجد صاحب نے دوسری گرہ کی طرف اشارہ کیا، جو زیادہ سخت اور الجھی ہوئی تھی۔
“یہ دوسری گرہ رشتوں اور توقعات کی ہے۔ انسان جب لوگوں سے غیر حقیقی امیدیں باندھ لیتا ہے تو یہی گرہ بنتی ہے۔ جب کوئی اپنا بدل جاتا ہے یا شراکت دار دھوکہ دیتا ہے تو انسان ٹوٹ جاتا ہے۔”
وہ ہلکے سے مسکرائے،
“میں نے ایک قریبی دوست پر بھروسہ کیا تھا۔ ہم نے مل کر کاروبار کیا، مگر اس نے موقع ملتے ہی سب کچھ لے لیا۔ اس دن مجھے سمجھ آیا کہ ہر انسان سے وہی توقع رکھنی چاہیے جو اس کی حقیقت ہو، نہ کہ جو ہم چاہتے ہیں۔”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ باہر بارش اب ہلکی ہو چکی تھی۔
امجد صاحب نے تیسری گرہ کو چھوا اور ان کی آواز مزید سنجیدہ ہوگئی۔
“یہ تیسری گرہ خوف اور ماضی کی ہے۔ یہ سب سے خطرناک گرہ ہے۔ انسان جب ماضی کی ناکامیوں کو اپنے حال پر مسلط کر لیتا ہے تو وہ آگے بڑھنے کی ہمت کھو دیتا ہے۔”
انہوں نے عامر کی طرف دیکھ کر کہا،
“ماضی ایک بند کمرہ ہے۔ اگر تم اسی میں رہو گے تو روشنی کبھی نہیں دیکھ پاؤ گے۔”
عامر کے دل میں کچھ ٹوٹ بھی رہا تھا اور کچھ جڑ بھی رہا تھا۔ اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ اس کے والد صرف نصیحت نہیں دے رہے بلکہ زندگی کا تجربہ اس کے سامنے رکھ رہے ہیں۔
امجد صاحب نے رسی عامر کے ہاتھ میں تھما دی اور کہا،
“زندگی تمہیں ہمیشہ ایسی ہی رسی دے گی جس میں گرہیں ہوں گی۔ تمہارا امتحان یہ ہے کہ تم انہیں چھوڑ دیتے ہو یا کھولنے کی کوشش کرتے ہو۔”
عامر نے رسی مضبوطی سے تھام لی۔ اب وہ پہلے جیسی بھاری نہیں لگ رہی تھی۔ شاید اس لیے کہ اس کے دل میں امید کی ایک ہلکی سی روشنی جاگ چکی تھی۔
اس نے آہستہ سے کہا،
“ابا جان… میں سمجھ گیا ہوں۔ میں اب ان گرہوں سے نہیں ڈروں گا۔ میں انہیں ایک ایک کر کے کھولنے کی کوشش کروں گا۔”
امجد صاحب کی آنکھوں میں اطمینان پھیل گیا۔ انہوں نے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھا۔
رات کی تاریکی آہستہ آہستہ صبح میں بدلنے لگی۔ کھڑکی سے پہلی سنہری کرن اندر داخل ہوئی اور پورے کمرے کو روشن کر گئی۔ بارش رک چکی تھی اور فضا میں ایک نئی تازگی تھی۔
عامر نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ آسمان صاف ہو رہا تھا۔ اس کے دل میں بھی ایک نئی روشنی اتر چکی تھی۔ اسے محسوس ہوا کہ زندگی ختم نہیں ہوئی، بلکہ ابھی شروع ہوئی ہے۔
وہ آہستہ سے بولا،
“ابا جان… شاید زندگی واقعی گرہوں کا سفر ہے، مگر اصل طاقت انہیں سمجھ کر آگے بڑھنے میں ہے۔”
امجد صاحب نے مسکرا کر جواب دیا،
“اور جو گرہوں کو سمجھ لے، وہی اصل میں زندگی جینا سیکھ لیتا ہے۔”
اسی لمحے ہوا کا ایک نرم جھونکا کمرے میں داخل ہوا، پردے ہلے اور روشنی پھیل گئی—جیسے زندگی نے خود اعلان کیا ہو کہ ہر گرہ کھل سکتی ہے، اگر انسان ہار نہ مانے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔