بیدر ضلع میں کھاد کی شدید قلت، مرکزی حکومت کی بے توجہی پر رکن پارلیمان ساگر کھنڈرے کا سخت اظہارِ برہمی۔


بیدر، 2 جون (نامہ نگارمحمد عبدالصمد) بیدر ضلع میں خریف سیزن کے آغاز کے ساتھ ہی کھاد کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے، جس کے باعث کسانوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بیدر لوک سبھا حلقہ کے رکن پارلیمان ساگر کھنڈرے نے مرکزی حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ضلع کو درکار مقدار میں بروقت کھاد فراہم نہیں کی گئی۔
اپنے ایک پریس بیان میں ساگر کھنڈرے نے بتایا کہ اپریل تا جون مدت کے دوران بیدر ضلع کو مجموعی طور پر 21,559 ٹن کھاد کی ضرورت ہے، لیکن اب تک مرکزی حکومت کی جانب سے صرف 9,144 ٹن کھاد فراہم کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں 12,415 ٹن کھاد کی شدید کمی پیدا ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مون سون اور خریف سیزن میں کھاد کی طلب میں اضافہ ہونا ایک فطری امر ہے، اس کے باوجود مرکزی حکومت نے پیشگی منصوبہ بندی نہیں کی اور کسانوں کی ضروریات کو نظر انداز کیا۔ ساگر کھنڈرے نے الزام عائد کیا کہ حکومت کسانوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے سیاسی سرگرمیوں اور انتخابی مہمات میں مصروف رہی، جس کا خمیازہ کسانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کھاد کی قلت کے سبب بازار میں قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور کسان دوگنی قیمت ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ کئی کسان کھاد حاصل کرنے کے لیے دکانوں کے باہر طویل قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں، جو انتہائی افسوسناک صورتحال ہے۔
رکن پارلیمان نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے بقیہ 12,415 ٹن کھاد بیدر ضلع کو فراہم کرے اور کسانوں کو درپیش بحران کا فوری حل نکالے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اَن داتا کسانوں کو اس مشکل گھڑی میں تنہا چھوڑنا کسی بھی صورت مناسب نہیں ہے اور حکومت کو سیاست سے بالاتر ہو کر کسانوں کی مدد کے لیے آگے آنا چاہیے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔