تازہ ہوا کے لیے شجرکاری ضروری - پلاسٹک کے بجائے اسٹیل کی بوتلیں استعمال کرنے کا مشورہ۔ اے آئی اور روبوٹ سے کہیں زیادہ ماحولیاتی تحفظ پر توجہ ضروری - گرین سیکیور فاؤنڈیشن کے سیمینار سےاین بالا رام 'راہل جادو اور دیگر ماہرین کا خطاب۔


حیدرآباد 8 جون ( پریس نوٹ )گرین سیکیور فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام بھاسکر آڈیٹوریم بی ایم برلا سائنس میوزیم حیدرآباد میں ماحولیاتی بحالی اور جنگلات کے تحفظ پر ایک عظیم الشان اجلاس منعقد ہوا جس میں ماحولیات کے تحفظ سے متعلق مختلف سائنس دانوں ،پروفیسرس،  ماہرین تعلیم، کاروباری شخصیات اور پالیسی سازوں نے اظہار خیال کیا اس اجلاس سے جناب این بالا رام آئی آر ایس، حیدرآباد،جناب راہل جادھو آئی ایف ایس منچریال، جناب اے ایل نتھن کمار بانی وہاری اوٹی ٹی، ڈاکٹر پونا سنگھل سینیئر پروجیکٹ سائنس داں ایچ سی یو، محترمہ شلپا گڈورو بانی ان میوٹ ،پروفیسر محمد حسین، فاؤنڈر و سی ای او گرین سیکیور فاؤنڈیشن مسٹر آدتیہ پالوی، آڈیو انجینیئر ماہر تعلیم و سماجی رہنما ڈاکٹر ساجدہ خان (صدر جمہوریہ ایوارڈ یافتہ )نے اجلاس کو مخاطب کیا اور کہا کہ قدرتی ماحول کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے موجودہ دور میں لوگ آرام پسند ہو گئے ہیں ماضی قریب میں بڑی تعداد میں لوگ ورزش کے عادی تھے لیکن اب رات دیر گئے تک جاگنا اور صبح میں دیر تک سونا معمول بن گیا ہے اب بعض لوگ تازہ ہوا کے لیے باغوں اور جنگلات کا رخ کرتے ہیں لیکن جنگلوں کی سیر کرنا کافی نہیں ہے اس ماحول سے اپنے آپ کو جوڑیں ، درختوں کا تحفظ اور اس سے انسانی تعلق کے لیے ان باتوں کو نصاب میں بھی شامل کرنا ضروری ہو گیا ہے حکومت ہمیں ہر قسم کی سہولت پہنچاتی ہے بطور خاص ہمیں جنگلوں کا تحفظ کرنا بے حد ضروری ہو گیا ہے مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چائے کے لیے کاغذی کپ کے بجائے اسٹیل کے کپس کا استعمال کریں کاغذ کے کپ سے کینسر جیسے بیماریوں کے خدشات بھی پائے جا رہے ہیں ٹکنالوجی نے کافی ترقی کر لی ہے لیکن ٹکنالوجی کی بعض ترقیات سے ماحولیات پر بھی اثر پڑ رہا ہے اس کو روکنے کے لیے عوامی شعور بیدار کرنا ضروری ہو گیا ہے مقررین نے کہا کہ تازہ ہوا انسانی صحت کے لیے بے حد ضروری ہے 99 فیصد لوگ تازہ ہوا سے محروم ہیں جنگلات کے قریب رہنے والے لوگ اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے درختوں کو کاٹتے ہیں جبکہ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ درخت بھی ہماری زندگی کے پھلنے اور پھولنے میں کافی معاون ہیں جنگلات کے تحفظ کے لیے حکومت عوامی شعور بیداری کا کام کر رہی ہے ہمیں بھی اس سلسلے میں اپنا حصہ ادا کرنا ضروری ہے اور ہمیں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ جنگلات سے ہمیں تازہ ہوا ملتی ہے صحت مند آب و ہوا کے بغیر انسانی زندگی ناممکن ہے مقررین نے کہا کہ تازہ ہوا کے لیے ہمیں جگہ جگہ درختوں کا لگانا ضروری ہے اور جہاں پہلے ہی سے درخت پائے جاتے ہیں وہاں پر ان کو پانی ڈالنا اور ان کا تحفظ کرنا ضروری ہے جہاں سائے دار درخت ہوں وہاں پر کچرا نہ ڈالنے اور گندگی نہ کرنے کے لیے عوام میں شعور بیدار کرنا وقت کا تقاضہ ہے صفائی اور ستھرائی پر زور دیتے ہوئے مقررین نے کہا کہ حیدرآباد اس وقت کانکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے ہر گھر ہر محلے میں صفائی ستھرائی کے لیے جب تک عوام میں شعور بیدار نہ ہوگا صفائی ممکن نہیں اس سلسلے میں مختلف رضاکارانہ تنظیمیں اور ادارے اپنا اپنا حصہ ادا کر رہے ہیں اساتذہ طلبہ اور شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ اس کام میں معاون بنیں طلباء کو چاہیے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو سکے اپنے اپنے اسکول کے پاس، محلے میں اور اپنے گھر کے پاس کم از کم ایک درخت ضرور لگائے اس کے علاوہ گھروں میں فریج میں پلاسٹک کی بوتلوں کے بجائے اسٹیل کی بوتلوں میں پانی بھر کر رکھا جائے اور پلاسٹک کے بوتلس کا کم سے کم استعمال کیا جائے عوام کو ایک مشورہ یہ بھی دیا گیا کہ غذائی اشیاء بالخصوص جب کھانا بچ جائے تو اسے پھینکنے کے بجائے اس کو دوبارہ کس طرح کام میں لایا جا سکتا ہے اس پر غور کیا جائے اور گھروں میں ارکان خاندان کی مناسبت سے ہی کھانا تیار کریں کھانے کو ضائع ہونے سے بچائیں دعوتوں میں بھی جب ہم جائیں اپنی پلیٹ میں اتنا ہی کھانا لیں جتنی ہمیں ضرورت ہے ایک ہی وقت میں پلیٹ بھر کھانا لینے کے بجائے تھوڑا تھوڑا کھانا اپنے پلیٹ میں ڈالیں مقررین نے اس بات پر بھی اظہار افسوس کیا کہ دعوتوں میں پینے کے بعد پانی کی بوتلوں میں پانی چھوڑ دیا جا رہا ہے پورا پانی استعمال نہیں کرنے کی وجہ سے کافی پانی ضائع ہو رہا ہے پانی انسانی زندگی میں بڑی ہی اہمیت رکھتا ہے اس کہ ایک ایک بوندکی کافی اہمیت ہوتی ہے ہمیں پانی کے تحفظ پر بھی توجہ دینا چاہیے بچپن سے ہی بچوں کو پانی کی اہمیت سے نہ صرف واقف کروایا جائے بلکہ پانی کے ایک ایک بوند کے تحفظ کے لیے انہیں ابتدا ہی سے شعور بیدار کیا جائے اس موقع پر جے سی آئی سکندرآباد کی جانب سے شلپا دیوتا لنگا نے تمام سامعین میں اسٹیل کے پانی کے بوتل مفت تقسیم کیے اس اجلاس کے تمام شرکاء میں گرین سیکیور فاؤنڈیشن کی جانب سے شرکت کے صداقت نامے اور چھوٹے چھوٹے درخت یعنی پودے بھی دیے گئے اس موقع پر ماہر تعلیم جناب محمد حسام ریاض،ممتاز شاعر جناب لطیف الدین لطیف ،جناب محمد حسین قادری عارف این آر ائی،ڈاکٹر زلیخہ،فیشن ڈیزائنر شہناز خان اور دیگر کو تہنیت پیش کی گئی تمام حاضرین نے اس موقع پر عہد کیا کہ وہ درختوں کے تحفظ کے لیے اپنے اپ کو پابند بناتے ہیں علاوہ اس کے اس اجلاس میں عوامی شعور بیداری سے متعلق جن جن باتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے اور جو اپیلیں وہ ہدایات دی گئی ہیں ان پر ضرور عمل کیا جائے گا

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔