مٹی کا انسان - تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی۔
مٹی کا انسان -
تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی۔
9881836729
قرآن کریم میں اللہ کا ارشاد ہے۔ اور اللہ کی نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ تمہیں مٹی سے پیدا کیا ،اور پھر تم انسان اس دنیا میں پھیلے۔ اور اس کے بعد یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا،اور موت کے بعد مٹی میں ہی سمادیا جائیگا۔ اللہ نے مٹی کو اتنی فوقیت اور عظمت عطا فرمائ کہ انسان زرخیز زمین اور مٹی میں بیج ہوتا ہے۔ اور خداے برتر اپنی قدرت سے انسان کے لیے دانہ پانی کا نظم کرتا ہے۔ مٹی کی یہ صفت ہے کہ نماز کے لیے پانی نہ ملنے ہر صاف مٹی پر نماز کے لیے تیمم کرسکتے ہیں۔ یہ وہ مٹی ہے جس سے اللہ نے دنیا کا سب سے پہلا انسان حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ اور یہ بھی قدرت ہے کہ اللہ نے زمین سے انسانوں، حیوانوں اور دیگر مخلوقات کے لیے اتنا اناج اور غلہ عطا کیا ۔اگر ہم زمین ،اور اناج کا موازنہ کریں تو اناج زمین سے زیادہ بھاری ہوگا۔ ازل سے اللہ نے مٹی تراب کو جو قدر و منزلت عطا کی ہے وہ کائنات کے تخلیق سے قبل ہی ثبت ہوچکی تھی۔ جب اللہ نے انسان کو بنانے اور اسکی تخلیق کا عزم کیا ۔ اور کائنات کو مزین اور سبز زار اور رونق کو دگنا کرنے کے لیے اللہ نے حضرت انسان کی تخلیق نو حضرت آدم علیہ السلام سے کی۔ اور اس سے ما قبل ان گنت فرشتے اللہ کے نذدیک اللہ کے حکم کے کار فرما تھے۔ اللہ نے تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ اس مٹی کے انسان کو سجدہ کریں ۔ تمام فرشتوں نے اللہ کے حکم کو بجا لایا بجز ایک فرشتہ جسکو قرآن کریم نے شیطان رجیم سے موسوم کیا۔ اس نے سجدہ سے انکار کیا،اور کہا میں اعلی و ارفع ہوں۔ اور ایسی آگ سے ہوں جس کا کام اوپر اٹھنا ہے۔ اور میں کیسے مٹی کے انسان کو سجدہ کرسکتا ہوں۔ جسکی صفت میں پستی ہو۔پھر اس کے بعد اس منکر فرشتہ کا جو حال ہوا، اور جو خمیازہ اٹھانا پڑا قرآن نے اسکی تفصیلی وضاحت سے کی ہے۔ اللہ کے اس پیغام میں اطاعت عبادت نرم روش انسانی ہمدردی خوش اسلوبی ۔ خوش گوئ اور اصل اطاعت خدا وندی مقصود تھی۔ حکم عدولی پر شیطان کو خارج کیا گیااور اللہ کی جانب سے دھتکار دیا گیا۔ پھر حضرت آدم نے بھی ایک غلطی کی جس چیز سے اللہ نے منع کیا تھا کر بیٹھے اسکی پاداش میں اللہ نے آدم کو زمین ہر بھیجا۔ اب دنیا میں انسانوں کی بھر مار ہے۔ اس روے زمین پر کھربوں انسان پیدا ہوے ،اور پھر اللہ کی رحمت میں منتقل ہوے۔ اور ان سب انسانوں کو بھی اللہ نے ایک خاص مقصد کے لیے دنیا میں پیدا کیا ہے۔ اور فرمایا میرا راستہ اپناو اور میرے راستہ کو اپنا مقصد حیات بنالو فرمایا اطیعو اللہ و اطیعو الرسول اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو قرآن کریم سے مستحکم رشتہ رکھو نماز قائم کرو زکواة ادا کرو۔ غریبوں مسکینوں کے لیے دست تعاون کریں۔ اور ہر اس چیز سے اعراض کریں جس کو اللہ نے منع کیا۔ لیکن آج انسان وہی روش پر چل رہا ہے جس کو اللہ نے منع کیا۔شیطان کو ( ego) غرور تھا اپنے علم پر جو اللہ نے عطا کیا تھا ۔ اور وہ تمام ملائکہ میں سب سے زیادہ ( knowledge) علم اسی کے پاس تھا۔ آج انسان بھی وہی روش پر چل رہا ہے۔ جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔ اللہ نے انسان کو ہر اعتبار سے قابل قدر اور قابل غور بنایا ۔ ہم اپنے وجود پر غور کریں کہ ہم کیا تھے، اور اللہ نے کتنا عظیم المرتبت انسان کو بنایا۔ تاکہ تم دین کے ساتھ ساتھ دنیا کو بھی اپنی ( Civilisation) تہذیب و تمدن سے سنواریں ۔ اور پوری دنیا میں اخوت بھائ چارگی انسانیت مساوات حقوق العباد کو اس دنیا میں عام کریں جو اللہ نے دین اسلام کی شکل میں ہمیں دیا ہے ۔ اور اس مناسبت سے آدم علیہ السلام کے بعد اللہ نے بہت سارے ( Messengers ) انبیاء مبعوث کیے اور بہت سارے صحیفے بھیجے۔ مقصد اور غایت یہی تھی کہ انسان کی تخلیق کا مقصد رضاے الہی اللہ کے احکام کی پاسداری اور اللہ کی مخلوق کے تئیں رواداری عدل و انصاف اللہ کے بندوں کے حقوق کی ادائگی مطلوب تھی۔ اور یہاں تک کہ آخری نبی ﷺ کے بعثت کا بھی اصل مقصد لب لباب یہی تھا کہ انسان اللہ کی ( Monotheism) وحدانیت اور اسکی ( Gloriousunivers) شاندار کائنات کی ( creation) تخلیق پر غور کرے۔ اور آپ ﷺ کے احکامات کو اپنی زندگی کا لازم حصہ بناے۔ ( Moral values) حسن اخلاق حسن کلام رواداری عدل و انصاف یہ انسان کا لازمی جز ہے۔ جدید بائیولوجی بھی یہ بتاتی ہے کہ جانداروں کے جسم ان ہی 6 عناصر سے تخلیق پاے ہیں ،جو زمین ( Earth) میں پاے جاتے ہیں۔ 1 کاربن 2 ہائیڈروجن 3 آکسیجن 4 نائٹروجن 5 فاسفورس6 سلفر۔ لیکن خدانے خصوصی طور پر انسان کا ذکر کیا ہے۔ کیوں کہ اس زمین پر صرف اور صرف انسان کا ہی امتحان ہے۔ چوپاہیوں اور جانوروں کا نہیں۔ اسی لیے قرآن کریم میں اللہ بار بار انسانوں سے ہی مخاطب ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے ۔کیا آپ نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ آپ یوں ہی پیدا کیے گئے ہو ؟ اور کیا آپ مرنے کے بعد میری طرف لوٹ کر نہیں آوگے ؟ مٹی کی سب سے بڑی خاصیت ( _Modesty) یعنی عاجزی بھی ہے۔ اور ہمارا دین اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ آپ جس جگہ اور رہتے ہو وہاں کی مٹی اور وطن سے ( Patriotism) محبت بھی لازمی ہے ۔ لیکن آج ہم مشاہدہ کر رہے ہیں کہ انسان ( Glamour) دل ربائ دنیا، عہدہ طلبی، شان و شوکت، کی طرف بے ساختہ دوڑے چلے جارہے ہیں۔ اور یہاں تک کہ ہم اپنے ( Religious knowledge) مذہبی تعلیمات سے دور ہورہے ہیں۔ اور غیروں کے رسم و رواج کی آمیزش کو اپنانے میں کوئ برا عمل نہیں سمجھ رہے ہیں۔ اور اسلامی تشخص کو پامال کررہے ہیں۔ جو ایک ( Food for thought) لمحہ فکریہ ہے ۔
Comments
Post a Comment