الہام پونے کے زیر اہتمام ماہانه طرحی نشست اور کتاب کی رسم اجراء۔
پونے ۔ ۱۵جون (محسن رضا ضیائی کی رپورٹ) ۱۴جون بروز اتوار صبح گیارہ بجے اینا فاؤنڈیشن، کونڈ وا پونے میں الہام فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ماہانہ طرحی نشست منعقد ہوئی، جس میں پروفیسر کوثر جہاں کی کتاب " نذیر فتح پوری کا سفر نامہ سوئے حرم چلے مسافر، مبصرین کی نظر میں" کی رسم اجراء بھی عمل میں آئی۔ اس موقع پر معروف ادیب و شاعر نذیر فتح پوری، مولانا اسلم رضوی اور مولانا محسن رضا ضیائی بطور مہمانان خصوصی شریک ہوئے جب کہ جناب رفیق قاضی نے صدارت کے فرائض انجام دیے۔ اس کے علاوہ ادارہ الہام کے صدر جناب عبد الحمید ہنر، تنویر احمد تنویر اور دیگر شعراء و ادباء کی کثیر تعداد تقریب میں موجود تھی۔
چونکہ جون ماہ میں مشہور شاعر سیماب اکبر آبادی کا یوم پیدائش بھی ہے، اس مناسبت سے جناب رفیق قاضی اور تنویر احمد تنویر نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی شعری و ادبی خدمات بالخصوص قرآن کریم کے منظوم ترجمے کو بھرپور انداز میں سراہا۔
تمام مہمانان گرامی نے کتاب اور صاحبۂ کتاب پر یکے بعد دیگرے اپنے قیمتی تاثرات پیش کیے، جن میں انہوں نے نذیر فتح پوری کے اس سفرنامے "سوئے حرم چلے مسافر" کا خصوصی ذکر کیا، جو ایک سال قبل منظر عام پر آیا تھا اور جس پر ملک و بیرون ملک کے ادباء، شعراء اور دانشوران نے اپنے وقیع تبصرے قلم بند کیے تھے۔ بعد ازاں محترمہ کوثر جہاں صاحبہ نے تمام تبصروں کو یکجا کر کے کتابی شکل میں جمع کر کے ایک قابل قدر کارنامہ انجام دیا۔
اس تقریب کا دوسرا سیشن طرحی نشست کی شکل میں منعقد ہوا، جس میں سیماب اکبر آبادی کے درج ذیل مصرعے:
جو سنتا ہے اسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے
اور
ایک دل دے کر خدا نے دے دیا کیا کیا مجھے
ان مصرعوں پر پونے شہر کے معروف شعراء عبدالحمید ہنر، تنویر احمد تنویر، ڈاکٹر طوبیٰ چودھری، پروفیسرکوثر جہاں، حمیدہ حکیم، دانش جعفری، رفیق قاضی، مہیش بجاج، میڈی کرسٹی اور دیگر شعراء نے اپنے کلام پیش کیے، جن سے سامعین خوب محظوظ ہوئے۔
آخر میں جناب رفیق قاضی نے اپنا صدارتی خطبہ پیش کیا، جس کے بعد الہام فاؤنڈیشن کے صدر جناب عبد الحمید ہنر صاحب نے تمام شرکاء اور مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایک کامیاب اور یادگار تقریب کے اختتام کا اعلان کیا۔
Comments
Post a Comment