غالب اکیڈمی کی ماہانہ نثری نشست : تجزیاتی جائزہ۔۔ - تجزیہ نگار : ٹی این بھارتی۔


غالب اکیڈمی کی ماہانہ نثری نشست : تجزیاتی جائزہ۔ 
تجزیہ نگار : ٹی این بھارتی۔ 

طویل مدت بعد مورخہ 23 مئی 2026 بروز ہفتہ شام پانچ بجے غالب اکیڈمی کی ما ہانہ نثری نشست میں شرکت کا موقع ملا 
مختصر نشست میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اسلامک اسٹڈی کے ریٹائرڈ پروفیسر اختر الواسع نے صدارت کے فرائض انجام دیئے 
اس روز کچھ سوالات ذہن میں بجلی کی مانند کو ند رہیے تھے 
- نثری نشست میں شعری مجموعہ کا اجراء چہ معنی؟ 
- اردو طلباء و طالبات کو نثری نشست میں شامل نہ کرنے کی وجوہات کیا ہیں ؟ 
- اردو نثری نشست میں ہندی زبان کا دبدبہ کیوں ؟ 
- اسٹیج پر ہندی زبان کے ادیب جلوہ افروز کیوں ؟ 
 - شعبہ اسلامک اسٹڈ یز سے سبکدوش پروفیسر اختر الواسع کو بطور صدر مدعو کیوں کیا گیا ؟ 
- صدارت کے لئے ماہر اردو زبان پروفیسر وں کو مدعو کیوں نہیں کیا گیا ؟ 
- نثری نشست کے دوران کتب خانہ میں تالہ کیوں ؟ 
- تندور کی مانند غالب اکیڈمی کے آڈیٹوریم میں پنکھوں کا انتظام کیوں نہیں ؟ 
- نشست میں نشہ پر پابندی کیوں نہیں ؟ 
- تقریب میں سامعین غائب کیوں ؟ 
- آن لائن کے وقت سامعین کو کیمرہ میں قید کیوں نہیں کیا جا تا ؟ 
- تقریب میں شامل مقالہ نگار ، افسانہ نگار ، انشائیہ نگار ، کالم نویس بے روزگار خواتین و مرد حضرات کو معاوضہ کیوں نہیں دیا جاتا؟ 
- غالب سیمینار میں اردو کے پروفیسر وں کو چیک کیوں تقسیم کئے جاتے ہیں ؟ 
- نثری نشست میں نظامت کی کمان ہمیشہ ڈاکٹر عقیل احمد ہی کیوں سنبھالنے ہیں ؟ 
- نسل نو کو نظامت کا موقع کیوں نہیں دیا جاتا ؟ 
- نشست کے دوران نہایت 
- بد زائقہ چائے اور بد زائقہ 
- سمو سہ کیوں پیش کیا جاتا ہے ؟ 
 آئیے اب پرت در پرت جائزہ لیا جائے کہ نثری نشست میں اردو زبان کو کس طرح ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ نثری نشست میں حشمت بھاردواج کے شعری مجموعے درد جیتا ہوں کا اجراء کرتے ہوئے ریٹائرڈ پروفیسر اختر الواسع نے مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ جب تک حشمت بھاردواج موجود ہیں تب تک اردو پر آنچ نہیں آ سکتی ہے ۔ علاوہ ازیں آلہ باد سے و گیان پریشد پریاگ کا خصوصی شمارہ بعنوان محمد خلیل نمبر کا اجراء بھی اسلامک اسٹڈ یز کے ریٹائرڈ پروفیسر اختر الواسع کے دست مبارک سے ادا کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ وگیان پریشد کا خصوصی شمارہ سائنس کی دنیا میگزین سے وابستہ محمد خلیل کے نام سے شائع ہونا قابل تحسین کام ہے۔ انھوں نے مسرت آمیز لہجہ میں کہا کہ محمد خلیل کو سائینسی مضامین کے لئے انعامات سے بھی نوازا گیا ۔ بزرگ مصنف محمد خلیل نے سائنس کی ترقی کے لئے اردو زبان میں کار ہائے نمایاں انجام دیا۔ اس موقع پر انگریزی زبان کے ضعیف العمر پروفیسر اور غالب اکیڈمی کے صدر ڈاکٹر جی آر کنول کا محمد خلیل کے بابت تحریری پیغام ڈاکٹر عقیل احمد نے سنا یا جو مائیک کی خرابی کے باعث سمجھ نہ آیا ۔ 
نثری نشست کا آغاز حسب روایت معروف ادیبہ چشمہ فاروقی نے اپنے مضمون امیر خسرو سے کیا موصوفہ نے امیر خسرو پر بہترین معلوما تی پرچہ پیش کیا،۔ ایم بی بی ایس ڈاکٹر شہلا احمد نے اسرالحق مجاز پر طویل مضمون پیش کیا ۔ راقم الحروف 
(ٹی این بھارتی ) نے انشائیہ 
  بعنوان میرا پہلا روزہ سا معین کے روبرو پیش کیا۔ شارق اعجاز عباسی نے افسانچہ پیش کیا۔ ایکتا سنگھ چوہان ، سیما کوشک ، سمن ناگر نے ہندی کہانیاں پیش کیں ۔ یاد رہے ایکتا سنگھ چو ہا ن ہندی کوی پروین ویاس اور گولڈی کی سفارش پر پہلی مرتبہ غالب اکیڈمی تشریف لائیں اور موصوفہ کو ڈاکٹر عقیل نے فورا اسٹیج پر جلوہ افروز کر دیا۔ تقریب کے دوران اسٹیج پر ماہر اردو زبان کی موجودگی قابل مذمت رہی ۔ بزرگ مصنف محمد خلیل اور ڈاکٹر اختر الواسع نے اردو زبان میں کوئی ڈگری حاصل نہیں کی  
پروفیسر اختر الواسع کا تعلق اسلامیات سے رہا ہے نجانے کب انھوں نے اسلامک اسٹڈی کو بالائے طاق رکھ کر اردو زبان کی تقریبات میں قدم جما لیئے ؟ ڈاکٹر عقیل نے اپنی پسند کے مطابق تین ہندی زبان کے ادیبوں کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دی اس کے علاوہ محمد خلیل اور پروفیسر اختر الواسع کل پانچ شخصیات نے اسٹیج کو رونق بخشی ۔ ہائے افسوس اردو داں بغلیں جھانکتے رہے ۔ ستم ظریفی یہ کہ بحیثیت صدر پروفیسر اختر الواسع نے ریختہ کے بانی سنجیو سراف کی تعریف کے پل باندھ دیئے ۔ باور رہے سنجیو سراف کو ریختہ تقریب میں اردو زبان کی ترقی کا ذرہ برابر خیال نہیں رہتا ہے ریختہ 
تقریبات میں تو اردو زبان کا نام و نشاں نظر ہی نہیں آتا ۔ سنجیو سراف تو اردو رسم الخط کو ہی ختم کرنے کے لئے کو شاں ہے ۔پروفیسر واسع نے جشن بہاراں ٹرسٹ کی با نی کامنا پرساد کے حوالے سے قصیدہ خوانی کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی جبکہ موصوفہ کو اردو زبان نہ لکھنا آتی ہے اور نہ ہی وہ اردو پڑھ سکتی ہیں ۔ 
قابل فکر المیہ یہ ریا کہ صدر کی مناسبت سے غیر جانبداری سے کام لیا گیا ۔ ڈاکٹر واسع سے راقم الحروف نے سوال کیا کہ آپ نے افسانہ نگار ، انشائیہ نگار ، مضمون نگار وں کی بابت رائے زنی کیوں نہیں کی ؟ ہم کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہماری تحریر میں کیا نقص ہے ؟ دو ٹوک جواب میں کہا کہ وہ مضمون نگاروں کے مضمون کا تجزیہ کرنے نہیں آئے ہیں ۔ کمال ہو گیا جناب صاحب صدر نے مضامین سنجیدگی سے سنے ہی نہیں بارہا وہ اسٹیج پر سوتے نظر آئے ۔ خیال من ہے کہ ڈاکٹر اختر الواسع کو تمام مضامین پر لب کشائی کرنا چاہیے تھی ۔ بہر کیف صدر کے خطبہ سے مایوسی ہاتھ لگی ۔ 
اب یہ بھی اہم مسئلہ ہے کہ غالب اکیڈمی میں ہندی زبان کا دبدبہ کیوں ؟ کیا اردو دشمن عناصر کے حامل افراد نے منصوبہ بند طریقہ سے اردو زبان کو پامال کرنے کا عہد کر لیا ہے ہندی زبان کے متوالے حضرات کے ذریعے ہندی شعرا و ادیبوں کے نئے چہرے ضرور شرکت کرتے ہیں کیونکہ غالب اکیڈمی کے اہل کار ہی ہندی زبان کی ترقی کے لئے کمر بستہ ہیں ۔ پروفیسر اختر الواسع بھی جا بجا ثقیل ہندی الفاظ کا استعمال کر نے میں پیش پیش نظر آتے ہیں ۔ موصوف نے درست فرمایا اردو زبان کو اردو زبان والے ہی ختم کر رہے ہیں زندہ مثال غالب اکیڈمی ہے جہاں مسلسل اردو زبان زوال پزیر ہے ۔ قا بل اعتراض امر ہے کہ نثری نشست میں شعری مجموعہ کا اجراء کیوں کیا گیا ؟ پروین ویاس اور گولڈی نے حشمت بھاردواج کے شعری مجموعے کا خالص ہندی زبان میں تبصرہ کیوں کیا؟ اجراء کے بعد کتابیں کہاں غائب ہو جاتی ہیں ؟ غالب اکیڈمی میں ہندی زبان کے ادیبوں کی بھر مار کیوں ؟ ہندی زبان کے لئے تو دیگر ادارے بھی موجود ہیں ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ غالب اکیڈمی میں اردو ادیبوں و شاعر وں کو منظر عام پر لانے کی کوشش کیوں نہیں کی جا رہی ؟ اردو طلباء و طالبات کو نثری و شعری نشست میں مدعو کرنا چاہیے۔ یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ ہندی اداروں میں اردو ادیبوں و شاعروں کو وہ عزت نہیں دی جاتی ہے جو عزت ہندی والوں کو اردو اداروں میں دی جاتی ہے ۔ 
 منشیات کا استعمال کرنے والے مرد حضرات کو غالب اکیڈمی آڈیٹوریم میں داخلہ کی اجازت کیوں دی جاتی ہے ؟ پان مسالہ ، بیڑی سگریٹ دیگر نشہ آور اشیاء پر پابندی اشد ضروری ہے ۔ کتب خانہ جو کسی بھی تعلیمی ادارے کی ریڑھ کی ہڈی تسلیم کیا جاتا ہے جہاں ادب کا خزانہ کی تلاش میں دور دراز سے طلباء و طالبات اور محقق مرزا غالب کی تحقیق کے لئے غالب اکیڈمی کی لا ئبریری میں مطالعہ کرنا چاہتے ہیں لیکن کتب خانہ میں تالہ بندی دیکھ کر سر دھنتے ہیں ۔ نثری و شعری نشست تقریب میں آن لائن ویڈیو ارسال کرنے کے لئے کسی ماہر ویڈیو گرافر اور فوٹو گرافر کی تقرری ہونا چاہیئے ۔ ماہ جون کی چلچلاتی گرمی میں تندور کے مانند آڈیٹوریم میں پنکھے اور کولر کا انتظام بھی ہونا چاہئے۔
 شام کے وقت ایک کپ چائے کی سخت ضرورت محسوس ہوتی ہے 
غالب اکیڈمی میں نہایت بد زائقہ چائے اور سموسہ دیکھ کر ہی منہ کا ذائقہ خراب ہو جاتا ہے ۔ لیکن انگریزی کے ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر جی آر کنول کی تشریف آوری کے وقت چائے کا زائقہ کچھ بہتر ہوتا ہے ۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔