میرا مقصد روشنی کا سفر ہے، نئی نسل کے لیے ادبی راستے ہموار کرنا چاہتا ہوں: سید حسین اختر۔مطلع ادب فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام صبا منیر احمد کے شعری مجموعہ "نئی خوشبو" کی رسمِ اجرا، نورالحسنین اور ڈاکٹر زادہ صدیقی کو جے پی سعید ایوارڈ سے نوازا گیا۔
اورنگ آباد (نامہ نگار):شہر اورنگ آباد خجستہ بنیاد کی معروف و فعال ادبی تنظیم مطلع ادب فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام 13 جون کو حج ہاؤس میں ایک یادگار، باوقار اور شاندار ادبی تقریب کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں اردو ادب کے فروغ، نئی نسل کی حوصلہ افزائی اور اہلِ قلم کی پذیرائی کے مختلف پروگرام منعقد کیے گئے۔ تقریب میں شہر و بیرونِ شہر سے تعلق رکھنے والی علمی، ادبی اور سماجی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے محفل کی رونق میں اضافہ کیا۔تقریب کا پہلا مرحلہ اورنگ آباد کی ابھرتی ہوئی نوجوان شاعرہ صبا منیر احمد کے شعری مجموعہ "نئی خوشبو" کی رسمِ اجرا پر مشتمل تھا۔ کتاب کی رونمائی کے موقع پر مقررین نے صبا منیر احمد کی شعری صلاحیتوں، فکری پختگی اور تخلیقی سفر کو سراہتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کے قلم کار اردو ادب کے مستقبل کی امید ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔بعد ازاں جے پی سعید ایوارڈ کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں اردو ادب اور تعلیم کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے والی دو اہم شخصیات کو اعزاز سے نوازا گیا۔ معروف فکشن نگار نورالحسنین کو ان کی گراں قدر ادبی خدمات کے اعتراف میں جبکہ ممتاز تعلیمی و ادبی شخصیت ڈاکٹر زادہ صدیقی کو ان کی تعلیمی و علمی خدمات کے اعتراف میں جے پی سعید ایوارڈ پیش کیا گیا۔ شرکائے محفل نے دونوں شخصیات کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کو اردو ادب کا قیمتی سرمایہ قرار دیا۔تقریب کے اختتام پر ایک عظیم الشان مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک کے مختلف علاقوں سے تشریف لانے والے معروف شعرائے کرام نے اپنے منتخب کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ شعری محفل دیر رات تک جاری رہی اور حاضرین نے شعرا کے خوبصورت کلام کو بھرپور داد و تحسین سے نوازا۔اس موقع پر مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود مہاراشٹر راجیہ اردو ساہتیہ اکیڈمی کے چیئرمین سید حسین اختر نے مطلع ادب فاؤنڈیشن کے ذمہ داران کو ایک کامیاب اور یادگار ادبی پروگرام کے انعقاد پر دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے نوجوان شاعرہ صبا منیر احمد کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے شعری سفر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ نئی نسل کے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی اردو ادب کے فروغ کے لیے بے حد ضروری ہے۔سید حسین اختر نے اپنے خطاب میں کہا کہ "میرا مقصد ہی روشنی کا سفر ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ نئے لکھنے اور پڑھنے والوں کے لیے ایسے راستے ہموار کیے جائیں جہاں وہ اردو زبان و ادب کی خدمت کرتے ہوئے آگے بڑھ سکیں اور انہیں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔"انہوں نے مزید کہا کہ اورنگ آباد کی سرزمین ہمیشہ سے علم و ادب کا مرکز رہی ہے اور یہاں کے ادیبوں، شاعروں اور دانش وروں نے اردو ادب کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ نئی نسل میں اردو کے فروغ کے لیے ادبی تنظیموں کی سرگرمیاں نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔اس موقع پر ڈاکٹر ارتکاز افضل، خالد سیف الدین، خان شمیم، ڈاکٹر مخدوم فاروقی، محمود شکیل، مسرت فردوس، مقیم خان، شارق نقشبندی، شعیب خسرو سمیت شہر کی متعدد علمی، ادبی اور سماجی شخصیات موجود تھیں۔تقریب کے شرکا نے مطلع ادب فاؤنڈیشن کی ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی سرگرمیاں نہ صرف اردو ادب کی روایت کو مضبوط کرتی ہیں بلکہ نئے قلم کاروں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بہترین پلیٹ فارم بھی فراہم کرتی ہیں۔
Comments
Post a Comment