علم و عرفاں اور شجاعت کے پیکر۔( مرادِ رسول، عمر الفاروق،)۔ ازقلم : افضال احمد ملّی محمدی، ( پوار واڑی، مالیگاؤں،ناسک )


علم و عرفاں اور شجاعت کے پیکر۔
( مرادِ رسول، عمر الفاروق،)
ازقلم : افضال احمد ملّی محمدی، ( پوار واڑی، مالیگاؤں،ناسک ) 

حلیہ : سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ دراز قامت، مضبوط جسم کے مالک تھے۔ سرخ وسفید رنگت، گھنی داڑھی، ان کے سر پر بال قدرے کم تھے۔ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کی آنکھوں میں بھی سرخ ڈورے تھے۔(ابن عبدالبر، الاستیعاب :236/3)

آپ کا تعارف : 
     امیر المومنین،خلیفہ دوم، مرادِ رسولؐ، عشرۂ مبشرہؓ کے بزم نشین، امام عادل، فاروق اعظم ، سیدنا حضرت عمر ؓ بن خطاب قریش کی مشہور شاخ بنو عدی سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا نام عمرؓ، لقب فاروق اور کنیت ابو حفص تھی۔ 
والد کا نام خطاب بن نفیل اور آپ کی والدہ کا نام خنتمہ تھا۔ 
حضرت عمر فاروقؓ کی پیدائش نبی کریم ﷺ کی ولادت کے تقریباً 13 سال بعد، سنہ 583 عیسوی میں، مکہ مکرمہ میں ہوئی، 
 آپؓ کا سلسلہ نسب آٹھویں پشت پر آنحضرت ﷺ سے مل جاتا ہے۔ 
قریش کی سفارت اور مقدمات کی ثالثی کا عہدہ آپؓ کے خاندان سے متعلق تھا. 
   یوں تو سارے ہی صحابہ علم و ہدایت کے روشن ستارے ہیں، لیکن عمر ابن خطاب ستاروں کے اس جھرمٹ کا وہ نام ہے جو اپنی منفرد پہچان، اور امتیازی خصوصیات رکھتا ہے.
ذیل میں آپ کی چند خصوصیات کو واضح کیا جا رہا ہے 
1) مرادِ رسول :  
آپ دبستان نبوت کے وہ گلِ سر سبد ہیں جنہیں خود سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا سے مانگ کر لیا ہے.
چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اللہ سے یہ دعا کی 

( اَللّٰھُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ ھٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ إلَیْکَ: بِأَبِيْ جَھْلٍ أَوْ بِعُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ)

اے اللہ! ان دو آدمیوں: ابو جہل اور عمر بن خطاب میں سے جو تیرے نزدیک محبوب ہے، اس کے ساتھ اسلام کو عزت دے یعنی اسے مسلمان کر دے۔
(سنن الترمذی: 3681 وسندہ حسن، وقال الترمذی: ’’ھٰذا حدیث حسن صحیح غریب‘‘)

2) بصیرت اور دوراندیشی : 
    آپ کی رائے اکثر احکاماتِ الہیٰ کے عین مطابق ہوتی تھی (جسے موافقاتِ عمر کہا جاتا ہے)
موافقاتِ عمر سے مراد وہ قرآنی آیات ہے جو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی رائے یا تجویز کے عین مطابق نازل ہوئیں جن میں آپ کی عظیم الشان بصیرت کی جھلک نظر آتی ہے. 

3) فاروق :
 اس سلسلے میں بنوری ٹاؤن کے فتوے کا ایک ٹکڑا پیش کردینا کافی سمجھتا ہوں.   
    "حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فاروق کا لقب خود رسول اللہ ﷺ نے دیا تھا، ـ"فاروق" کا مطلب فرق کرنے والا، تمیز کرنے والا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے پہلے مسلمانوں کو کفار کی طرف سے اذیت کے خوف کی وجہ سے اپنا ایمان چھپانا پڑتا تھا، لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایمان لائے تو انہوں نے بلا خوف و خطر اس کا اظہار کیا اور ان کے ساتھ مسلمانوں نے بھی کھلم کھلا اپنے ایمان کو ظاہر کیا، چناں چہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اسلام کی شان و شوکت کو ظاہر کیا اور حق و باطل کے درمیان فرق واضح ہوگیا، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو "فاروق" (حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والا) کا لقب دیا۔
( لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح)

4 ) اگر سلسلہ نبوت جاری ہوتا تو اگلے نبی عمر ہوتے : 
   "عن عقبة بن عامر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو كان نبي بعدي لكان عمر بن الخطاب» قال. «هذا حديث حسن غريب
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے“

آپ کی زندگی کے کچھ نمایاں اوصاف : 
    حضرت عمر فاروق بہترین انتظامی صلاحیتوں، اعلیٰ اوصاف، دبنگ اور بارعب شخصیت کے مالک تھے۔ ظہورِ اسلام کے وقت، اسلام اور مسلمانوں کے سخت دشمن تھے، لیکن جب اسلام قبول کر لیا، تو پھر اپنا تن، من، دھن سب اسلام کے لیے وقف کر دیا۔ سخت مزاجی کے باوجود، عاجزی، انکساری، تواضع اور عدل، مزاج کا حصہ تھے۔ خلافت کا بوجھ کندھوں پر آیا، تو گریہ اور رِقت میں اضافہ ہو گیا۔ شب کی تنہائیوں میں رب کے حضور آنسو بہانا اور گڑگڑانا ان کا معمول تھا۔

صفات عمر بزبانِ خیر البشر : 
  ١ رسول ا کرم ۖنے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان پر حق کو رکھ دیا ہے، وہ حق بات ہی کہتے ہیں ۔(مشکوٰة) 
  ٢ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جِن و انس کے شیاطین، عمر کو دیکھ کر راستہ بدل لیتے ہیں اور ڈر کر بھاگ جاتے ہیں۔(ترمذی) 
  ٣ حضرت فضل بن عباس فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ۖ نے ارشاد فرمایا؛عمر میرے ساتھ ہیں اورمیں عمرکے ساتھ ہوں اور حق عمر کے ساتھ ہوگاجہاں کہیں بھی ہو ۔(معجم طبرانی)

سانحۂ شہادت : 
            حضرت عمر فاروق ؓ نے دعا مانگی تھی کہ اے اللہ مجھے تیرے راستے میں موت آئے اورتیرے نبی ﷺ کا شہر نصیب ہو۔
اللہ تعالی نے آپ کی دعا کو قبول فرمایا اور اس کا عجیب انتظام فرما۔
حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کا ایک مجوسی غلام فیروز نامی تھا،اس نے ایک مرتبہ اپنے مالک حضرت مغیرہ کی شکایت کی کہ وہ مجھ سے زیادہ محصول طلب کرتے ہیں ،حضرت عمر ؓ نے اس بے جا شکایت پر کوئی توجہ نہیں دی ،اس نے غیض و غضب میں ایک تیز خنجر تیار کیا اور نمازِ فجر میں چھپ کر آکربیٹھ گیا،جب حضرت عمر ؓ نے تکبیرکہی، اس نے اس زورسے تین وار کیے جس سے امیر المؤمنین سیدناعمر فاروقؓ گر پڑے ،موت و حیات کی اس کشمکش میں حضرت عبد الرحمن بن عوف کو نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھایا ،نماز مکمل ہوئی تو آپ نے صحابہ کو کہا کہ قاتل کا پتہ لگاؤ کہ کس نے مارا ،ابولؤلؤ نے تقریبا تیرہ صحابہ کو زخمی کردیا اور جب وہ بالکل گرفت میں آچکا تو از خود خنجر مار کر ہلاک ہوگیا،حضرت عمرؓ کو ۲۶/ذی الحجہ۲۳ھ کو خنجرمارا گیااوریکم محرم الحرام ۲۴ھ کو شہادت عظمی کا سانحہ پیش آیااورتدفین عمل میں آئی ،آپ کی خلافت دس سال پانچ مہینے اکیس دن رہی۔(طبقات ابن سعد:۲/۱۲۳)آپ کی خواہش تھی کہ آپ کو اپنے دورفیقوں کے پہلو میں جگہ ملے ،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے امیر المؤمنین کی اس تمنا کو پورا کیا اور حجرہ میں تدفین کی اجازت دی۔

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔