جنگل میں جو ہوا - ( ادبی اصلاحی کہانی)۔ از قلم: رہبر تماپوری۔



 جنگل میں جو ہوا - ( ادبی اصلاحی کہانی)
از قلم: رہبر تماپوری۔

ایک خوبصورت، گھنے اور پُرسکون جنگل کے بیچوں بیچ آم کا ایک بہت پرانا اور دیو قامت درخت کھڑا تھا۔ یہ عظیم درخت صدیوں سے پورے جنگل کی شان سمجھا جاتا تھا، کیونکہ اس پر لگنے والے آم بے حد رسیلے اور میٹھے ہوتے تھے۔ گرمی کے موسم میں اس کی گھنی شاخوں اور چوڑے پتوں کے سائے میں جنگل کے تمام جانور اور پرندے پناہ لیتے تھے۔
اس جنگل کے جانور عام جانوروں کی طرح نہیں تھے۔ وہ عقل و شعور رکھتے تھے، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے اور اپنے مسائل کو باہمی مشورے سے حل کیا کرتے تھے۔ ان سب میں سب سے زیادہ دانا اور سمجھدار ہوشو الو تھا، جو اسی آم کے درخت کی سب سے اونچی کھوکھلی شاخ میں رہتا تھا۔ جنگل کے تمام جانور اسے اپنا رہنما، استاد اور منصف مانتے تھے۔
ایک دن سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ موسم خوشگوار تھا، مگر اچانک جنگل کا سکون ایک بحث نے توڑ دیا۔ آم کے درخت کو اپنی خوبصورتی اور تعریفوں پر کچھ زیادہ ہی ناز ہو گیا تھا۔ اس نے فخر سے اپنی شاخیں ہلائیں اور نیچے بچھی ہوئی مٹی سے کہا:
"اے مٹی! ذرا میری شان تو دیکھو۔ میں کتنا اونچا، ہرا بھرا اور خوبصورت ہوں۔ لوگ میرے پھل کھاتے ہیں، پرندے مجھ پر آشیانے بناتے ہیں اور جانور میرے سائے میں آرام کرتے ہیں۔ تمہاری میرے سامنے کیا حیثیت ہے؟"
مٹی نے تحمل سے جواب دیا:
"آم بھائی! اپنی خوبیوں پر خوش ہونا اچھی بات ہے، مگر غرور کرنا مناسب نہیں۔ یہ مت بھولو کہ تمہاری جڑیں میرے اندر ہیں۔ میں ہی تمہیں پانی اور غذا پہنچاتی ہوں۔"
آم کے درخت نے قہقہہ لگایا اور بولا:
"جو بھی ہو، عزت اور شہرت تو مجھے ہی حاصل ہے۔"
دونوں کے درمیان بحث بڑھتی گئی۔ شور سن کر چنٹو بندر، شالو سانپ، خرگوش، گلہری اور دوسرے جانور وہاں جمع ہو گئے۔ سب نے محسوس کیا کہ اگر یہ اختلاف بڑھ گیا تو جنگل کا سکون خراب ہو جائے گا۔
چنٹو بندر نے کہا:
"اس معاملے کا فیصلہ ہوشو الو ہی کر سکتے ہیں۔"
سب جانور فوراً متفق ہو گئے۔ چنانچہ ہوشو الو کو بلایا گیا۔
ہوشو الو اپنی شاخ سے نیچے اڑا، ایک مضبوط ٹہنی پر بیٹھا اور بولا:
"ایک اچھا منصف پہلے دونوں فریقوں کی بات سنتا ہے، پھر فیصلہ کرتا ہے۔"
پہلے آم کے درخت نے اپنی اہمیت بیان کی۔ اس نے اپنے پھلوں، سایے اور خوبصورتی کا ذکر کیا۔ پھر مٹی نے عاجزی سے بتایا کہ وہ درخت کی جڑوں کو پانی اور ضروری غذائیت فراہم کرتی ہے۔
ہوشو الو نے کچھ دیر غور کیا، پھر جانوروں سے پوچھا:
"اگر آم کا درخت نہ ہو تو کیا ہوگا؟"
طوطا بولا:
"پھر ہمیں میٹھے آم نہیں ملیں گے۔"
گلہری نے کہا:
"اور سایہ بھی کم ہو جائے گا۔"
ہوشو الو نے سر ہلایا اور دوبارہ پوچھا:
"اور اگر مٹی نہ ہو تو؟"
اس بار سب خاموش ہو گئے۔ آخر خرگوش بولا:
"پھر تو درخت ہی نہیں اگ سکیں گے۔"
ہوشو الو مسکرایا اور بولا:
"بالکل درست! یہی اصل حقیقت ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی چیز اکیلے مکمل نہیں۔ ہر ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ آم کا درخت مٹی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور مٹی بھی درختوں کے ذریعے اپنی زرخیزی برقرار رکھتی ہے۔ تم دونوں ایک دوسرے کے لیے ضروری ہو۔"
پھر اس نے نہایت دانائی سے کہا:
"غرور انسان ہو یا کوئی اور مخلوق، اسے حقیقت سے دور کر دیتا ہے۔ اصل عظمت عاجزی، شکرگزاری اور دوسروں کی قدر کرنے میں ہے۔"
ہوشو الو کی دانشمندانہ باتیں سن کر آم کے درخت کا غرور ٹوٹ گیا۔ اس نے شرمندگی سے سر جھکا کر کہا:
"مٹی بہن! مجھے معاف کر دو۔ میں اپنی اہمیت کے گھمنڈ میں تمہاری قدر بھول گیا تھا۔"
مٹی نے مسکرا کر جواب دیا:
"معافی مانگنے والا ہمیشہ عزت پاتا ہے۔ میں نے تمہیں معاف کیا۔"
یہ سن کر تمام جانور خوش ہو گئے۔ جنگل میں ایک بار پھر امن، محبت اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو گئی۔

سبق:
پیارے بچو! اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اپنی خوبیوں پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔ دنیا کی ہر چیز اور ہر فرد کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ جو دوسروں کا احترام کرتا ہے، ان کی قدر کرتا ہے اور مل جل کر رہتا ہے، وہی حقیقی عزت اور کامیابی حاصل کرتا ہے۔ عاجزی انسان کو بلند کرتی ہے جبکہ غرور اسے دوسروں کی نظروں میں چھوٹا کر دیتا ہے۔ :::

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔