بھارت سپر پاور کب بنے گا؟ - مصنف: سید فاروق احمد قادری۔


بھارت سپر پاور کب بنے گا؟
مصنف: سید فاروق احمد قادری۔

میں نے اپنی کتاب "سلگتا احساس" جو 2011 میں شائع ہوئی تھی، اس میں ایک سوال اٹھایا تھا: "کیا بھارت 2020 تک سپر پاور بن جائے گا؟" اس سوال کے آخر میں میں نے جان بوجھ کر سوالیہ نشان لگایا تھا، کیونکہ مجھے محسوس ہوتا تھا کہ صرف دعووں، نعروں اور اعداد و شمار سے کوئی ملک سپر پاور نہیں بنتا۔ اس کے لیے مضبوط معیشت، معیاری تعلیم، سائنسی ترقی، قومی اتحاد، انصاف اور عوامی خوشحالی ضروری ہوتی ہے۔
اس وقت میں نے مہنگائی، بدعنوانی، مختلف گھوٹالوں، قومی اتحاد و انتشار، اقلیتوں کی نمائندگی، عالمی سیاست، فلسطین کے مسئلے اور ملک کے مستقبل سے متعلق کئی موضوعات پر لکھا تھا۔ میری فکر صرف یہ تھی کہ ہمارا ملک جس راستے پر چل رہا ہے، کیا وہ راستہ واقعی اسے عالمی طاقت بنا سکے گا؟
آج جب میں پندرہ برس بعد اپنے اس سوال پر نظر ڈالتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ وہ سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ 2020 گزر گیا، لیکن ملک کے سامنے کھڑے کئی بنیادی مسائل آج بھی حل طلب ہیں۔ مہنگائی عام آدمی کی زندگی پر اثر انداز ہے، بے روزگاری نوجوانوں کی پریشانی کا سبب بنی ہوئی ہے، کسان مختلف مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور تعلیم کا نظام بھی نئے چیلنجز سے دوچار ہے۔
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور اس کی اصل طاقت اس کا آئین اور اس کے عوام ہیں۔ یہاں ہر شہری کو بولنے، لکھنے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے۔ جمہوریت کی کامیابی اسی میں ہے کہ اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے اور عوامی مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جائے۔
مجھے سب سے زیادہ فکر نئی نسل کی ہے۔ آج کے نوجوان کل کے ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، استاد، جج اور قومی رہنما ہیں۔ اگر ان کی تعلیم، ان کا روزگار اور ان کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہوگا تو ملک کی ترقی کا خواب بھی متاثر ہوگا۔ حالیہ برسوں میں امتحانات، بھرتیوں اور تعلیمی نظام سے متعلق پیدا ہونے والے سوالات نے نوجوانوں کے ذہنوں میں بے چینی پیدا کی ہے۔ ایک مضبوط قوم وہی ہوتی ہے جو اپنی نئی نسل کو اعتماد، مواقع اور انصاف فراہم کرے۔
تاریخ گواہ ہے کہ بڑی قومیں علم، تحقیق، صنعت، انصاف اور عوامی فلاح کے ذریعے ترقی کرتی ہیں۔ دنیا کی ترقی یافتہ ریاستوں نے تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کو اپنی ترجیح بنایا۔ ہندوستان کے پاس بھی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ ہماری نوجوان آبادی، قدرتی وسائل، علمی ورثہ اور جمہوری نظام دنیا میں منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ قومی توانائی کو ترقی، تعلیم، تحقیق اور روزگار کی سمت میں زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے۔
میں نے 2011 میں اپنی کتاب "سلگتا احساس" میں جو سوال اٹھایا تھا، وہ آج بھی میرے ذہن میں زندہ ہے:
"بھارت سپر پاور کب بنے گا؟"
یہ سوال کسی ایک حکومت، کسی ایک جماعت یا کسی ایک دورِ اقتدار سے متعلق نہیں، بلکہ پورے ملک کے مستقبل سے وابستہ ہے۔ جب ملک کا نوجوان پراعتماد ہوگا، تعلیم مضبوط ہوگی، کسان خوشحال ہوگا، روزگار کے مواقع بڑھیں گے، انصاف عام ہوگا اور قومی اتحاد مضبوط ہوگا، تب ہی بھارت حقیقی معنوں میں ایک عظیم طاقت بن سکے گا۔
میری عمر آج اسی برس کے قریب ہے۔ ایک بزرگ شہری اور مصنف کی حیثیت سے میری خواہش صرف اتنی ہے کہ آنے والی نسلیں ایک ایسے بھارت کو دیکھیں جو علم، ترقی، انصاف، بھائی چارے اور خوشحالی کی مثال بنے۔
یہی میری دعا ہے، یہی میری آرزو ہے اور یہی میری فکر بھی۔
— سید فاروق احمد قادری
مصنف: "سلگتا احساس"

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔