"ڈگری بمقابلہ ہنر : وقت کی اصل ضرورت کیا ہے؟"۔۔ از قلم: رہبر تماپوری۔


 "ڈگری بمقابلہ ہنر : وقت کی اصل ضرورت کیا ہے؟"۔
از قلم: رہبر تماپوری۔

جدید دور کے بدلتے تقاضوں اور معاشی حالات نے آج کی نسل کو ایک اہم موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ ہماری معاصر دنیا میں تعلیم اور مہارت دونوں کی اہمیت مسلمہ ہے، مگر بڑا سوال یہ ہے کہ آج کے وقت کی اصل ضرورت کیا ہے؟ کیا محض ڈگریوں کی فائلیں اور اعلیٰ تعلیمی اسناد مستقبل کی ضامن ہیں؟ یا موجودہ دور میں کسی ہنر، مہارت اور پریکٹیکل اسکلز کا ہونا زیادہ ناگزیر ہو چکا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ محض ڈگری کا حصول اب کامیابی کی سو فیصد ضمانت نہیں رہا، بلکہ حقیقی پیش رفت کے لیے ہنر کا ہونا بے حد ضروری ہے۔
ڈگری ایک نقشہ ہے، جو انسان کو فکری، شعوری اور نظریاتی بنیاد فراہم کرتی ہے، جس کی اہمیت سے معاشرے میں کبھی انکار ممکن نہیں ہو سکتا۔ لیکن دوسری طرف ہنر وہ طاقتور مہارت ہے جو اس فکری نقشے کو حقیقت کا عملی روپ دیتی ہے۔ جیسے کسی فیکٹری میں خام مال موجود ہو، لیکن جب تک ہنر مند ہاتھ اسے تراشتے نہیں، اس کی کوئی قیمت اور افادیت نہیں ہوتی۔ یہی حال ہماری روایتی تعلیم کا ہے؛ جب کتابی علم عملی ہنر اور جدید تکنیک سے جڑتا ہے، تو وہ ایک قیمتی زیور بن جاتا ہے۔
آج کی اس تیز رفتار دنیا میں جہاں مقابلہ بے انتہا سخت ہے، ہنر آپ کو دوسروں سے نمایاں اور ممتاز کرتا ہے۔ وہ نوجوان جو اپنی تعلیمی اسناد کے ساتھ ساتھ عملی مہارتیں اور ڈیجیٹل اسکلز بھی سیکھتے ہیں، وہ آج کی اس متغیر اور مشکل معیشت میں آسانی سے اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ اس لیے وقت کی سب سے بڑی پکار یہ ہے کہ ہم تعلیمی اسناد کے ساتھ عملی مہارتوں پر بھی برابر توجہ دیں۔ ڈگری اور ہنر کا یہی بہترین امتزاج وقت کا اصل تقاضا ہے، جو ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل اور ملکی ترقی کی راہوں کو سنوار سکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔