جسم اور روح - از قلم : نورجہاں بانو بنت عبد العزیز خان طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں۔
جسم اور روح -
از قلم : نورجہاں بانو بنت عبد العزیز خان طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں۔
روح — وہ راز جسے آج تک
کوئی سمجھ نہ سکا
...رات کے کسی سے پوچھنا.
میں کون ہوں؟
یہ جسم؟
یہ چہرہ؟
یہ آنکھیں؟
یہ ہاتھ؟
یا ان سب کے اندر موجود کوئی اور حقیقت؟
ذرا غور کرو...
جب ایک انسان مرتا ہے...
تو اس کے جسم میں سب کچھ موجود ہوتا ہے۔
وہی آنکھیں۔
وہی دل۔
وہی دماغ۔
وہی ہاتھ۔
وہی پیر۔
پھر آخر ایسی کون سی چیز نکل جاتی ہے.
کہ بولنے والا خاموش ہو جاتا ہے؟
چلنے والا رک جاتا ہے؟
دیکھنے والا بے حس ہو جاتا ہے؟
وہ چیز...
روح ہے۔
...روح
انسان کی اصل حقیقت ہے۔
جسم تو صرف ایک لباس ہے۔
ایک عارضی مکان ہے۔
ایک سواری ہے۔
اصل مسافر تو روح ہے۔
قرآن نے روح کو رب کا ایک عظیم راز قرار دیا۔
اور انسان کو بتا دیا...
کہ تمہیں اس بارے میں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔
سائنس نے سمندر ناپ لیے۔
آسمانوں کی وسعتیں جان لیں۔
چاند پر قدم رکھ دیا۔
انسان کے جسم کے اندر موجود خلیات تک پہنچ گئی گئی۔
لیکن...
روح کیا ہے؟
آج بھی سائنس اس سوال کے سامنے خاموش کھڑی ہے۔
نہ کوئی خوردبین روح کو دیکھ سکی۔
نہ کوئی مشین روح کو ناپ سکی۔
نہ کوئی لیبارٹری روح کو قید کر سکی۔
کیونکہ روح...
مٹی کی دنیا کی چیز نہیں۔
غیب کی دنیا کا راز ہے۔
جب ماں کے پیٹ میں ایک بے جان جسم پڑا ہوتا
یہ رہا اللہ کے حکم سے روح اس میں داخل ہوتی ہے۔
اور اچانک زندگی شروع ہو جاتی ہے۔
دل دھڑکنے لگتا ہے۔
جسم حرکت کرنے لگتا ہے۔
آنکھیں دنیا دیکھنے کے لیے تیار ہونے لگتی ہیں۔
اور پھر...
زندگی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔
لیکن افسوس...
انسان ساری زندگی جسم کو سنوارتا رہتا ہے۔
روح کو بھول جاتا ہے۔
جسم کو دھوتا ہے۔
روح کو نہیں دھوتا۔
جسم کو خوشبو لگاتا ہے۔
روح کو معطر نہیں کرتا۔
گھر کو صاف رکھتا ہے۔
دل کو صاف نہیں رکھتا۔
کپڑوں پر داغ برداشت نہیں کرتا۔
لیکن روح پر گناہوں کے داغ دیکھ کر بھی بے فکر رہتا ہے۔
ذرا سوچو...
تم روز نہاتے ہو۔
اپنے جسم کو چمکاتے ہو۔
اپنے بال سنوارتے ہو۔
اپنے کپڑے بدلتے ہو۔
لیکن آخری بار اپنی روح کو کب صاف کیا تھا؟
آخری بار سچے دل سے توبہ کب کی تھی؟
یہ رہا "
آخری بار تنہائی میں بیٹھ کر اپنے گناہوں پر روئے کب تھے؟
حقیقت یہ ہے...
بہت سے لوگ صاف جسم لے کر چل رہے ہیں۔
مگر ان کی روحیں گندگی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔
بہت سے چہرے روشن ہیں۔
لیکن دل تاریک ہیں۔
بہت سے لوگ خوشبوؤں میں بسے ہوئے ہیں۔
لیکن ان کی روحیں گناہوں کی بدبو میں لپٹی ہوئی ہیں۔
حسد...
روح کو کھا جاتا ہے۔
تکبر...
روح کو سیاہ کر دیتا ہے۔
جھوٹ...
روح کو زخمی کر دیتا ہے۔
غیبت...
روح کو بدبودار کر دیتی ہے۔
نافرمانی...
روح کو بیمار کر دیتی ہے۔
اور سب سے خطرناک بیماری...
غفلت ہے۔
وہ غفلت...
جو انسان کو اپنی روح کا حال ہی بھلا دیتی ہے۔
پھر ایک دن...
موت آ جاتی ہے۔
...وہ لمحہ
جس سے کوئی نہیں بچ سکا۔
اس وقت...
فرشتے آتے ہیں۔
اور روح کو جسم سے الگ کر دیتے ہیں۔
اس لمحے...
ساری دولت ختم۔
ساری طاقت ختم۔
ساری شہرت ختم۔
صرف روح باقی۔
اور اس کے اعمال باقی۔
لوگ جسم کے پاس کھڑے ہوتے ہیں۔
رو رہے ہوتے ہیں۔
لیکن روح...
ایک نئے سفر پر نکل چکی ہوتی ہے۔
عالمِ برزخ کی طرف۔
وہاں نہ بینک بیلنس کام آتا ہے۔
نہ عہدہ۔
نہ شہرت۔
وہاں صرف اعمال ساتھ جاتے ہیں۔
سوچو...
اگر آج تمہاری روح تمہارے سامنے لا کھڑی کی جائے...
تو کیا تم اسے دیکھنا پسند کرو گے؟
کیا وہ روشن ہوگی؟
یا گناہوں کے دھبوں سے بھری ہوئی ہوگی؟
کیا وہ اللہ سے ملنے کے لیے بے تاب ہوگی؟
یا خوف سے کانپ رہی ہوگی؟
اے انسان!
جسم کی صفائی اچھی بات ہے۔
اسلام نے بھی صفائی سکھائی ہے۔
مگر جسم سے زیادہ قیمتی تمہاری روح ہے۔
جسم چند سال بعد مٹی میں مل جائے گا۔
لیکن روح...
ہمیشہ زندہ رہے گی۔
اس لیے جسم کے آئینے کے سامنے کھڑے ہونے سے پہلے...
روح کے آئینے کے سامنے بھی کھڑے ہو جاؤ۔
اپنے دل کا جائزہ لو۔
اپنے گناہوں کو دیکھو۔
اپنی غفلت کو پہچانو۔
اپنی روح کو توبہ سے دھو لو۔
اپنی روح کو قرآن سے روشن کر لو۔
اپنی روح کو ذکر سے زندہ کر لو۔
اپنی روح کو سجدوں سے پاک کر لو۔
اس سے پہلے کہ لوگ تمہارے جسم کو غسل دیں...
اپنی روح کو خود پاک کر لو۔
اس سے پہلے کہ تمہارا نام صرف ایک یاد بن جائے...
اپنی روح کو اللہ کے قریب کر لو۔
کیونکہ ایک دن...
یہ جسم مٹی میں سو جائے گا۔یہ جسم مٹی میں سو جائے گا۔
یہ آنکھیں بند ہو جائیں گی۔
یہ زبان خاموش ہو جائے گی۔
یہ دل دھڑکنا چھوڑ دے گا۔
مگر روح...
اپنے رب کے سامنے کھڑی ہوگی۔
اور اُس دن...
سب سے اہم سوال یہ نہیں ہوگا کہ تمہارا جسم کتنا خوبصورت تھا۔
بلکہ یہ ہوگا...
کہ تمہاری روح کس حال میں تھی؟
اور کیا وہ اپنے رب سے ملنے کے لیے تیار تھی؟
Comments
Post a Comment