دو مقدمے، دو معیار — قانون کی آنکھوں پر پٹی ہے یا پردہ؟تحریر: جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور -


دو مقدمے، دو معیار — قانون کی آنکھوں پر پٹی ہے یا پردہ؟
تحریر: جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور -
 9845498354 

انصاف کی اصل آزمائش وہاں نہیں ہوتی جہاں قانون ہمارے پسندیدہ افراد پر نافذ ہو، بلکہ وہاں ہوتی ہے جہاں وہی قانون ان لوگوں پر بھی یکساں طور پر نافذ کیا جائے جن سے ہم اختلاف رکھتے ہوں۔ دستورِ ہند نہ ہندو انصاف کو جانتا ہے، نہ مسلم انصاف کو، نہ اکثریتی انصاف کو اور نہ اقلیتی انصاف کو۔ اس کی نگاہ میں صرف ایک ہی اصول ہے: قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ جب اسی اصول کے اطلاق میں شناخت، مذہب یا نام کی بنیاد پر فرق محسوس ہونے لگے تو سوال صرف کسی ایک مقدمے کا نہیں رہتا، بلکہ پورے نظامِ انصاف کی غیر جانب داری زیرِ بحث آجاتی ہے۔

حال ہی میں دریائے گنگا میں غیر سبزی غذا کے استعمال سے متعلق پیش آنے والے دو واقعات نے ایک بار پھر اسی بنیادی سوال کو زندہ کر دیا ہے۔ دونوں واقعات میں گنگا کے تقدس اور اس سے وابستہ مذہبی جذبات کے مجروح ہونے کا دعویٰ سامنے آیا۔ دونوں نے عوامی ردِّعمل پیدا کیا۔ دونوں میں ہندوستانی شہری ملوث تھے۔ لیکن دونوں مقدمات کے قانونی سفر اور نتائج میں نمایاں فرق دکھائی دیتا ہے۔

پہلے واقعے میں چودہ مسلم نوجوانوں کے خلاف شکایت درج ہوئی کہ انہوں نے کشتی میں غیر سبزی غذا کھائی اور اس کا بچا ہوا حصہ دریائے گنگا میں پھینکا۔ ان پر مذہبی جذبات مجروح کرنے، عوامی خلل پیدا کرنے اور آبی آلودگی سمیت متعدد سنگین دفعات عائد کی گئیں۔ انہیں گرفتار کیا گیا، بار بار ضمانت مسترد ہوئی اور دو ماہ سے زیادہ عرصہ جیل میں رہنے کے بعد بالآخر انہیں ضمانت حاصل ہوئی۔

اس کے برعکس دوسرے واقعے میں پانچ ہندو نوجوانوں کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں انہیں گنگا میں کشتی پر مرغی پکاتے، کھاتے اور شراب ساتھ رکھتے ہوئے دکھایا گیا۔ پولیس نے از خود نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کیا، گرفتاری بھی عمل میں آئی، مگر نسبتاً کم سنگین دفعات عائد کی گئیں اور ملزمان کو اگلے ہی دن ضمانت مل گئی۔

یہاں اصل بحث کسی فرد کے مجرم یا بے گناہ ہونے کی نہیں ہے، کیونکہ ہر ملزم کو عدالت میں جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب دونوں مقدمات میں مذہبی حساسیت، عوامی ردِّعمل اور بنیادی نوعیت کے الزامات تقریباً یکساں تھے، تو پھر قانونی کارروائی کا معیار اور رفتار اس قدر مختلف کیوں رہی؟

دستورِ ہند کا آرٹیکل 14 ہر شہری کو قانون کے سامنے برابری اور قانون کے مساوی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مقدمے کا فیصلہ لازماً ایک جیسا ہوگا، کیونکہ ہر کیس کے اپنے حقائق اور قانونی پہلو ہوتے ہیں۔ لیکن اگر فرق کی بنیاد حقائق کے بجائے شناخت، مذہب یا نام محسوس ہونے لگے تو آئینی مساوات کا اصول سوالات کے گھیرے میں آ جاتا ہے۔

قانون کی غیر مساوی سختی صرف چند افراد کو متاثر نہیں کرتی بلکہ عوام کے دلوں میں پورے نظامِ انصاف کے بارے میں بداعتمادی پیدا کرتی ہے۔ اگر ایک طبقہ یہ محسوس کرے کہ اس کے خلاف قانون غیر معمولی سختی سے حرکت میں آتا ہے جبکہ دوسرے طبقے کے لیے اسی قانون کی گرفت نرم پڑ جاتی ہے، تو آئینی اداروں پر اعتماد کمزور ہونا ایک فطری امر ہے۔

یہ معاملہ کسی ایک مذہب کے حق یا مخالفت کا نہیں ہے۔ اگر گنگا کے تقدس کو مجروح کرنا ایک قابلِ سزا فعل ہے تو اس کا معیار ہر شہری کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ نہ مذہبی شناخت کسی کو رعایت دے، نہ مذہبی شناخت کسی کے لیے اضافی سختی کا سبب بنے۔ آئین کی روح یہی تقاضا کرتی ہے کہ قانون کی ترازو دونوں طرف برابر رہے۔

بدقسمتی سے آج ملک کے مختلف حلقوں میں یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ بعض اوقات قانون کی رفتار جرم کی نوعیت سے زیادہ ملزم کی شناخت دیکھ کر بدلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ چاہے یہ تاثر حقیقت ہو یا محض عوامی احساس، ایک جمہوری معاشرے کے لیے یہ خود ایک سنگین تشویش کا موضوع ہے۔ انصاف صرف ہونا کافی نہیں، بلکہ انصاف ہوتا ہوا دکھائی بھی دینا چاہیے۔

اگر دونوں مقدمات کے حقائق واقعی مختلف تھے تو متعلقہ اداروں پر لازم ہے کہ وہ اس فرق کی قانونی بنیاد واضح کریں تاکہ عوامی اعتماد برقرار رہے۔ لیکن اگر فرق کی کوئی معقول قانونی توجیہ موجود نہیں، تو پھر یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر ایک ہی قانون کے دو الگ معیار کیوں؟

کیونکہ دستور ایک ہے۔

قانون ایک ہے۔

شہریت ایک ہے۔

تو پھر انصاف دو چہروں کے ساتھ کیوں نظر آتا ہے؟

اگر جرم ایک جیسا ہو تو سزا اور قانونی رویّہ مختلف کیوں؟

اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو پھر اس کے اطلاق میں یہ تفاوت کیوں؟

اگر دستور ایک ہے تو انصاف بھی ایک ہی ہونا چاہیے۔
دو مقدمے۔ دو معیار۔ ایک دستور۔
آخر برابر انصاف کہاں ہے؟ - قانون کی آنکھوں پر پٹی ہے یا پردہ؟

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔