افسانہ شک — ایک ٹوٹتا گھر، بکھرتے سائے - ازقلم : راشیدہ یاسمین، سکلیشپور، ضلع ہاسن(کرناٹک )


افسانہ 
شک — ایک ٹوٹتا گھر، بکھرتے سائے
ازقلم :  راشیدہ یاسمین، سکلیشپور، ضلع ہاسن(کرناٹک )
9035972491


آج کا زمانہ روشنیوں کا زمانہ کہلاتا ہے، مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ انہی روشنیوں کے ہجوم میں سچائی سب سے زیادہ دھندلا گئی ہے۔ اب فریب چہروں پر نہیں، اسکرینوں پر جنم لیتا ہے، اور اعتماد دلوں میں نہیں، ڈیٹا اور تصویروں کے ترازو میں تولا جانے لگا ہے۔

یہ کہانی ایک ایسے ہی گھر کی ہے، جہاں محبت کی خوشبو تھی، سکون کی چھاؤں تھی اور خوابوں کی ایک روشن دنیا آباد تھی۔ مگر پھر "شک" نے دستک دی، اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ بکھرنے لگا۔
سمیرا اور سہیل صرف دو نام نہیں تھے، بلکہ ایک مکمل داستان تھے۔ پانچ برس کی ازدواجی زندگی میں انہوں نے محبت، قربت اور باہمی اعتماد کی بنیادوں پر ایک چھوٹی سی دنیا بسائی تھی۔ ان کے دو بچے تھے؛ احمد، جو اپنے باپ کی انگلی پکڑ کر دنیا کے رنگ پہچانتا تھا، اور عائشہ، جو ماں کی آغوش میں پوری کائنات کا سکون محسوس کرتی تھی۔
یہ گھر اینٹ، پتھر اور سیمنٹ سے نہیں بنا تھا، بلکہ محبت، اعتبار اور خاموش دعاؤں سے تعمیر ہوا تھا۔
مگر ایک دن ایک نامعلوم نمبر سے ایک پیغام آیا۔
ایک تصویر...
اور ایک لمحہ...
جس نے برسوں کی رفاقت کو سوالیہ نشان بنا دیا۔
تصویر میں سہیل ایک اجنبی لڑکی کے ساتھ کھڑا تھا۔ دونوں مسکرا رہے تھے، جیسے کوئی قربت ہو، کوئی راز ہو، کوئی ناگفتہ تعلق ہو۔
سمیرا کے لیے وہ تصویر محض ایک تصویر نہیں تھی؛ وہ اس کے اعتماد کی دیوار پر پڑنے والی پہلی دراڑ تھی۔
"یہ کیا ہے سہیل؟"
اس کی آواز میں کپکپاہٹ تھی، آنکھوں میں بے یقینی اور دل میں خوف۔
"سمیرا، یہ جھوٹ ہے... یہ مصنوعی ذہانت (AI) سے بنائی گئی تصویر ہے۔"
سہیل نے وضاحت کی، مگر بعض اوقات وضاحتیں اس وقت پہنچتی ہیں جب شک اپنے قدم جما چکا ہوتا ہے۔
شک ایک ایسا بیج ہے جو اگر دل کی زمین میں گر جائے تو دلیل کی بارش، محبت کی دھوپ اور یقین کی ہوائیں بھی اسے آسانی سے نہیں اکھاڑ سکتیں۔
سمیرا کے دل میں بھی یہی بیج جڑ پکڑ چکا تھا۔
اب سہیل کا ہر عمل مشکوک لگنے لگا۔ اس کا دیر سے گھر آنا، فون پر بات کرنا، خاموش رہنا، حتیٰ کہ مسکرانا بھی سوال بن گیا۔
یوں ہر روز ایک نئی کہانی جنم لینے لگی، اور ہر کہانی کا اختتام ایک ہی لفظ پر ہوتا تھا: "دھوکہ"۔
گھر کی فضا بدل گئی۔
جہاں کبھی بچوں کی ہنسی گونجتی تھی، وہاں اب تلخ جملے، اونچی آوازیں اور خاموش آنسو بسیرا کرنے لگے۔
احمد، جو کبھی باپ کے کندھوں پر بیٹھ کر دنیا کو اونچائی سے دیکھتا تھا، اب دروازے کے پیچھے چھپ کر ماں باپ کی لڑائیاں سنتا اور چپکے سے اپنی آنکھیں پونچھ لیتا۔
عائشہ راتوں کو ڈر کر جاگ اٹھتی۔
"ماما... پاپا لڑ کیوں رہے ہیں؟"
یہ سوال چھوٹا تھا، مگر اس کا درد بہت بڑا تھا۔
کیا قصور تھا ان بچوں کا؟
کیا انہوں نے کبھی اس گھر کو ٹوٹتا دیکھنے کی دعا کی تھی؟
یا وہ صرف اس محبت کے وارث تھے جو اب نفرت اور بدگمانی کی نذر ہو رہی تھی؟
ہر روز کے جھگڑے اور ہر روز کی تلخی ان کے معصوم ذہنوں پر ایسے نقوش چھوڑ رہے تھے جنہیں شاید وقت بھی مکمل طور پر نہ مٹا سکے۔
ایک دن احمد نے اسکول میں اپنے استاد سے پوچھا:
"سر، اگر ماما اور پاپا الگ ہو جائیں تو میں کس کے ساتھ رہوں گا؟"
یہ سوال نہیں تھا، ایک زخمی بچپن کی خاموش فریاد تھی۔
دن گزرتے گئے، فاصلے بڑھتے گئے، اور معاملہ طلاق کے دروازے تک جا پہنچا۔
کاغذات تیار تھے، صرف دستخط باقی تھے۔
برسوں کا رشتہ ایک تصویر کے سہارے ٹوٹنے کے قریب تھا۔
مگر پھر اچانک اسی نامعلوم نمبر سے ایک اور پیغام آیا:
"یہ تصویر AI کے ذریعے بنائی گئی تھی۔"
کچھ لمحوں بعد ایک اور سطر ابھری:
"مقصد تمہارے درمیان شک پیدا کرنا نہیں، بلکہ تمہارے بھروسے اور محبت کا امتحان لینا تھا۔"
سمیرا کے ہاتھ لرزنے لگے۔
اسے محسوس ہوا جیسے زمین اس کے قدموں کے نیچے سے سرک رہی ہو۔
اس کی آنکھوں کے سامنے وہ تمام لمحے گردش کرنے لگے جب اس نے یقین کو شک کے ہاتھوں فروخت کر دیا تھا۔
وہ دوڑتی ہوئی احمد کے پاس گئی۔
وہ ایک کونے میں خاموش بیٹھا تھا۔
"ماما... آپ پاپا کو چھوڑ دیں گی؟"
اس کی آنکھوں میں خوف نہیں، ایک پورا مستقبل لرز رہا تھا۔
سمیرا کے پاس الفاظ نہیں تھے، صرف آنسو تھے۔
اسی لمحے سہیل دروازے پر کھڑا دکھائی دیا۔
اس کے چہرے پر نہ غصہ تھا، نہ شکایت۔
صرف ایک تھکا ہوا سکون۔
وہ دھیرے سے بولا:
"سمیرا... جس محبت کو ہر لمحہ ثبوت درکار ہو، وہاں اعتماد دم توڑ چکا ہوتا ہے۔ محبت کی بنیاد سوال نہیں، یقین ہوتا ہے۔"
آج کے اس جدید دور میں، جہاں ٹیکنالوجی انسان کی خدمت کے لیے وجود میں آئی تھی، وہی بعض اوقات انسانوں کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کا ذریعہ بن رہی ہے۔
مصنوعی ذہانت تصاویر بنا سکتی ہے، آوازیں نقل کر سکتی ہے، حقیقت کا گمان پیدا کر سکتی ہے، مگر وہ اعتماد پیدا نہیں کر سکتی۔
اعتماد انسان کے کردار، اخلاص اور باہمی احترام سے جنم لیتا ہے۔
کچھ معاشروں میں اگر والدین اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کریں تو ریاست بچوں کی کفالت اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے، مگر ہمارے معاشرے میں ہزاروں بچے والدین کے اختلافات اور انا کی جنگ کے درمیان پس کر رہ جاتے ہیں۔
وہ زندہ رہتے ہیں، مگر سکون کے بغیر۔
ہنستے ہیں، مگر بے فکری کے بغیر۔
بڑھتے ہیں، مگر اعتماد کے بغیر۔
سمیرا آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔
آج اسے اپنا عکس بھی اجنبی محسوس ہو رہا تھا۔
اس نے نم آنکھوں سے خود کو دیکھتے ہوئے آہستہ سے کہا:
"ہم نے اپنے شک کی قیمت اپنے بچوں کے بچپن سے ادا کی ہے۔"
اور شاید یہی اس عہدِ جدید کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ہم سچائی کو دیکھ کر بھی یقین نہیں کرتے، اور جھوٹ کے سائے سے بھی اپنے رشتوں کو جلا ڈالتے ہیں۔
کیونکہ رشتے جھوٹ سے کم، اور شک سے زیادہ ٹوٹتے ہیں۔
اور جب اعتماد مر جائے تو محبت کی سب سے خوبصورت عمارت بھی محض ایک کھنڈر بن کر رہ جاتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔