پاسپورٹ، شہریت اور عوامی تشویش۔ مضمون نگار: محمد عبدالصمد منجووالا۔
پاسپورٹ، شہریت اور عوامی تشویش۔
مضمون نگار: محمد عبدالصمد منجووالا۔
ملک کے مختلف حصوں میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کا عمل جاری ہے یا شروع ہونے والا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹروں کی تصدیق کے لیے مختلف دستاویزات طلب کیے جا رہے ہیں جن میں پاسپورٹ بھی ایک اہم دستاویز کے طور پر شامل ہے۔ ایسے وقت میں وزارتِ خارجہ کی جانب سے یہ بیان سامنے آنا کہ "پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں بلکہ صرف ایک سفری دستاویز ہے"، ملک کے لاکھوں شہریوں خصوصاً اقلیتی، پسماندہ اور غریب طبقات کے لیے تشویش کا باعث بنا ہے۔
عوام کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ اگر پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں تو پھر اسے الیکشن کمیشن کی جانب سے قابلِ قبول دستاویزات کی فہرست میں کیوں شامل کیا گیا ہے؟ اگر ایک شخص برسوں کی جانچ پڑتال کے بعد پاسپورٹ حاصل کرتا ہے تو پھر اس دستاویز کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ یہی سوالات آج ملک کے مختلف گوشوں میں زیرِ بحث ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاسپورٹ کا حصول کوئی آسان عمل نہیں۔ درخواست گزار کی شناخت، رہائش اور دیگر معلومات کی جانچ ہوتی ہے، پولیس ویریفکیشن انجام دی جاتی ہے اور اس کے بعد پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے۔ اسی لیے عام شہری کی نظر میں پاسپورٹ ہمیشہ ایک مضبوط اور معتبر سرکاری دستاویز رہا ہے۔ جب ایسی دستاویز کے بارے میں یہ کہا جائے کہ یہ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں تو عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔
ایس آئی آر کے تناظر میں یہ معاملہ مزید حساس ہو جاتا ہے۔ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل میں جب شہریوں سے مختلف دستاویزات طلب کی جا رہی ہیں اور پاسپورٹ کو بھی ایک قابلِ قبول دستاویز کے طور پر شمار کیا جا رہا ہے، تو ایسے موقع پر متضاد نوعیت کے بیانات عام لوگوں کو الجھن میں ڈال سکتے ہیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں، کم تعلیم یافتہ طبقات اور ان افراد کے لیے جو سرکاری دفاتر اور قانونی پیچیدگیوں سے واقف نہیں ہیں، اس قسم کی خبریں بے چینی اور عدمِ تحفظ کا احساس پیدا کرتی ہیں۔
جمہوریت کی بنیاد عوام کے اعتماد پر قائم ہوتی ہے۔ اس لیے حکومت، وزارتِ داخلہ اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے پر واضح اور یکساں موقف اختیار کریں۔ عوام کو یہ یقین دلایا جانا چاہیے کہ ان کے بنیادی حقوق، شہریت اور حقِ رائے دہی محفوظ ہیں اور کسی بھی قانونی یا انتظامی عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں، سماجی تنظیمیں اور ذرائع ابلاغ اس موضوع پر سنجیدگی سے گفتگو کریں اور عوام کو درست معلومات فراہم کریں۔ افواہوں، قیاس آرائیوں اور غیر مصدقہ خبروں سے حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اعتماد سازی کی فضا قائم کی جائے اور ہر شہری کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اس ملک کا برابر کا شہری ہے اور اس کے آئینی حقوق مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
عوامی تشویش کو نظر انداز کرنے کے بجائے اس کا ازالہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کیونکہ جب سوال شہریت، شناخت اور ووٹ کے حق کا ہو تو معمولی ابہام بھی بڑے خدشات کو جنم دے سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے فوری وضاحت پیش کریں تاکہ ملک کے شہری اطمینان اور اعتماد کے ساتھ جمہوری عمل میں اپنی شرکت جاری رکھ سکیں۔
Comments
Post a Comment