انسان کتنا چھوٹا ہے،اور قانون فطرت کتنی عظیم۔۔ تحریر: مولانا میر ذاکرعلی محمدی پربھنی۔

انسان کتنا چھوٹا ہے،اور قانون فطرت کتنی عظیم۔
تحریر: مولانا میر ذاکرعلی محمدی پربھنی۔
 9881836729 

 کائنات کی ہر چیز اور دنیا میں ہر پیدا ہونے والا انسان خدا کے وجود کو فطری طور پر مان ہی نہیں رہا ہے بلکہ اللہ کے وجود کو ثابت کررہا ہے۔ اور دنیا کا ہر انسان عین ( Islamic nature) اسلام کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ آپ اللہ کے وجود کی دلیل پیش کریں تب بھی وہ موجود ہے۔ اور دلیل نہ دیں تب بھی، خدا اس کائنات کا پالنہار اور کائنات میں موجود ہے۔ اور اس کے موجود ہونیکی ہر تخلیق خداے برتر کی گواہی دیتی ہے کہ وہ کائنات کا خالق مالک ہے۔ قرآن کریم کی پہلی آیت جس میں اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑ،ھنے کا حکم صادر فرمایا،اور گویا کہ اللہ نے یہ سارے انسانوں کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ تعلیم اور علم کا فیض فرمایا۔ جو اللہ کے وجود اور اسکی معرفت اور حقانیت کو پہچاننے کا ذریعہ یے۔ ایک شعر یے جو علم کی ضرورت اور اسکی افادیت جو خدا کی معرفت اور اسکے ( Omnipotent ) قادر مطلق ہونے کی دلالت کرتا ہے۔ پگھلنا علم کے خاطر مثال شمع زیبا ہے۔ بغیر علم کے نہیں جانتے کہ ہم خدا کیا ہے۔ گویا کہ اللہ نے انسان کی تخلیق سے قبل علم کو اولیت دی کہ میرے بندے علم کی روشنی کے ذریعہ مجھ تک رسائ کریں، اور میرے رب ہونے کا اقرار کریں۔ یہی نہیں آج ہم اللہ کی وحدانیت پر اور اس کے موجود ہونے پر ڈیبیٹ اور مناظرہ کی تقریبات منعقد کرتے جو قابل تحسین اور خوش آئیند بات ہے۔ لیکن ہم تمام جو قیامت تک پیدا ہوتے رہینگے۔ ہم نے اللہ کے حضور عالم ارواح میں اللہ نے ہم سے سوال کیا تھا۔ کیا میں تمہارا رب نہیں؟ ہم تمام نے بزبان ایک کہا تھا، اور اقرار کیا تھا کہ قالوا بلی ، یعنی ہاں آپ ہمارے رب ہیں۔ اس طرح یہ اللہ کی وحدانیت اور قادر مطلق ہونے کی واضح دلیل ہے۔ دنیا میں ہر شعبہ ہر یونیورسٹی، ہر جامعہ، اسکول اور ہر محکمہ کا ایک سربراہ یا صدر ہوتا ہے۔ جو اپنے اپنے شعبہ کے سسٹم کو مینیج کرتا ہے ۔ہم نے یہ نہیں سنا کہ کسی شعبہ میں دو صدر ہیں کسی جامعہ میں دو یا تین پرنسپال ہیں، یا کسی ہائ اسکول میں دو صدر مدرس ہیں۔ گویا کہ کسی بھی شعبہ میں ایسا عمل ممکن نہیں۔ پھر اللہ کا ارشاد ہے۔ کہ اگر اس کائنات کو تخلیق کرنے میں دو خالق، دو کریٹر ہوتے تو یہ دنیا تہس ہوجاتی ،اور اس دنیا کا اور انسانوں کا وجود خطرہ میں ہوتا۔ لوکان فیھما آلھہ الا اللہ لفسدتا فسبحن اللہ رب العرش عما یصفون۔لا یسٔل عما یفعل وھم یسئلون۔ ام التخذوامن دونہ آلھہ۔ قل ھاتوا برھانکم ۔ چناں چہ رب کریم کا ارشاد ہے۔ اگر کائنات میں دو خدا ہوتے تو کائنات کا نظام درہم برہم ہوتا۔ خدا ان سب سے مبرا یے ،اور ( Omnipotent) قادر مطلق ہے۔ اللہ نے اس دنیا میں نا فرمانوں کو بھی رزق عطا کررہا ہے، اور مومنوں کو بھی، صرف فرق اتنا یے کہ مومنوں کی حیثیت اعلی و ارفع یے۔ لیکن دنیا ان کے لیے قید خانہ ہے, یعنی وہ اس دنیا میں محتاط زندگی گذاریں۔ اور نا فرمانوں کے لیے جنت ہے، یعنی وہ عیش کی زندگی میں مصروف ہیں،اور خدا سے غافل۔ اللہ کی پکڑ بہت ہی سخت ہوتی ہے جب وہ انتقام لینے پر آتا ہے۔ بقول مولانا وحیدالدین خان دامت برکاتہم العالیہ رحمت اللہ علی رقم طراز ہیں کہ روٹی چوہے کو بھی کھٹکے میں دی جاتی ہے تاکہ وہ پکڑا جاے۔ اور روٹی طوطے کو بھی پنجرہ میں دی جاتی تاکہ وہ اس کے لیے غذا بن سکے۔ بس اسی طرح یہ قادر مطلق کا نظام ہے کہ وہ مومنوں کے لیے عافیت والی زندگی اس دنیا کے پنجرہ میں رکھا ہے کہ وہ ہر شر سے محفوظ رہے۔ اس دنیا میں کسی چیز کو پانے کے لیے انتھک جد و جہد کرنی پڑتی ہے۔ جو انسان کرتا ہے۔ اور خالق کائنات کو پانے کے لیے معرفت ضروری ہے۔ اور معرفت علم کے ذریعہ آتی ہے۔ انسان کو جب پیاس لگتی ہے تو وہ مٹکے کے قریب جاتا ہے، نہ کہ مٹکا اس کے قریب آتا ہے۔ اسی طرح اللہ کو اور اس کے ( Existence) وجود کو سمجھنے کے لیے اسکی خوبصورت تخلیق جس میں سب سے خوبصورت انسان کی تخلیق یے۔ اور اس کے بعد انسان کو یہ اختیار دیا گیا اور مکلف بنایا ہے کہ صحیح کیا یے،اور غلط کیا ہے، اس کا انتخاب کرے۔ اللہ کا شکر کرکے خدا کا مقرب بن جاے، یا پھر نافرمان اور نا شکرا بنکر اللہ کے عذاب کا شکار۔ غرض کہ کرہ ارض پر انسانی وجود اور اسکی تخلیق محض ایک امتحان ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں ۔اس وسیع وعریض کائنات میں اور اس میں رواں دواں اجسام فلکی کو ہرموٹ کرنے والی خداے برتر کی قدرت ہے جس نے اس سسٹم کو ایسا مزین اور ایک وقت مقررہ تک مصروف بہ عمل رکھا ہے۔ اس روے زمین پر انسان کی اہمیت اللہ اور رسول کی پاسداری میں مضمر ہے۔ جو انسان سے مطلوب ہے۔ ورنہ اس کرہ ارض پر انسان کی کوئ اہمیت نہیں۔ کرہ ارض پر روز سورج طلوع ہوتا ہے، اور روزانہ غروب ہوجاتا ہے۔ چاند روز شب میں نمودار ہوتا ہے، اور دن میں غائب ہوجاتا ہے۔ ( Natur law) قانون فطرت نے جو ہمیں سکھایا ہے وہ انسان اور انسانیت کے لیے مفید ہے۔ خدا کا دستور العمل ساری دنیا کے لیے کامیابی کا ضامن ہے۔ ( Nature law is perfect system created by God. These are fixed rules entire universe. They never cheat. Never change. Follow them and you succeed) لیکن قانون فطرت کی خلاف ورزی ناقابل تلافی نقصان کا باعث ہے۔ خدا کی اس کائنات میں زمین کی حیثیت صفر کے برابر ہے۔ سوچیے اس پر بسنے والوں کی حیثیت کیا ہوگی۔ قانون فطرت انسان کو کائنات کے حسین نظارے بھی دکھاتی ہے ،اور ہوش اڑانے والے منظر بھی۔ رحمتوں کی بارش بھی نازل کرتی ہے،اور زلزلوں سے قیامت کی ہولناکی کا منظر بھی یاد دلاتی ہے۔ جس دن آدمی اپنے بھائ اور ماں باپ سے ،اور بیٹوں سے بھاگتا پھریگا۔ قانون فطرت نے سمندورں کو انسانوں کے لیے مسخر کیا، کہ انسان اسکی سطح پر جہاز رانی کرے ،اور سمندورں سے تیل حاصل کرے۔ رات میں ستاروں کو منور کیا کہ انسان سمندری راستوں کی سمت طے کریں۔ خداے برتر سمندروں کی گہرائ اور اندھیروں کا علم رکھتا ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے کہ انسان ضعیف یعنی کمزور پیدا کیا گیا۔ قانون فطرت اور خدا کی قدرت ہی عظیم ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔