حسینیت و یزیدیت - ازقلم : ابوذر صفدر نریاؤں امبیڈکر نگر۔
(حسینیت و یزیدیت)
از ابوذر صفدر نریاؤں امبیڈکر نگر
ذکرِ حسینؓ سے گھبرائیے نہیں، یزید کی وکالت سے باز آجائیے
ہر سال محرم الحرام آتا ہے، کربلا کی یادیں تازہ ہوتی ہیں، مگر افسوس! امت کے ایک طبقے کا رویہ آج بھی وہی ہے جس نے نئی نسل کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
جونہی امام حسینؓ کا ذکر محبت، عقیدت اور درد کے ساتھ شروع ہوتا ہے، فوراً کچھ آوازیں بلند ہونے لگتی ہیں:
"صحابہ کا بھی ذکر کرو!"
"یہ تو شیعوں کی روش ہے!"
"کوفیوں نے شہید کیا تھا، یزید کا کیا قصور؟"
گویا ذکرِ حسینؓ شروع ہوا نہیں کہ اصل مقصد ذکرِ حسینؓ نہیں، بلکہ اس کے اثر کو کم کرنا اور رخ موڑ دینا بن جاتا ہے۔
عرض ہے...
ذکرِ صحابہ کے لیے پورا سال پڑا ہے، ردِّ شیعت کے لیے بھی پورا سال موجود ہے؛ کم از کم دس محرم کو تو ذکرِ حسین محبت، عقیدت اور درد کے ساتھ ہونے دیجیے۔
آخر اس میں قباحت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نواسے کا ذکر احترام سے کیا جائے؟
افسوس تو اس بات پر ہوتا ہے کہ بعض مخصوص حلقوں کے چند افراد، اور بعض مخصوص حلقوں کے اکثر لوگ، سالہا سال ذکرِ حسینؓ کی توفیق سے محروم رہتے ہیں۔ لیکن جونہی کوئی امام حسینؓ کی مظلومیت بیان کرے، فوراً یا تو ذکرِ صحابہ کی تلقین شروع ہو جاتی ہے یا پھر یزید کا دفاع۔
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یزید ان کا کوئی قریبی عزیز ہو، جس کی صفائی دینا ان پر فرض ہو۔
ان کی پوری داستانِ کربلا مدینہ سے امام حسینؓ کے سفر سے شروع ہوتی ہے اور کوفیوں پر آ کر ختم ہو جاتی ہے۔ گویا اس کے بعد تاریخ رک گئی۔ نہ یزید کی حکومت، نہ اس کے مقرر کردہ گورنر، نہ اس کی فوج، نہ اس کے عہدِ حکومت کی ذمہ داری۔ ہر الزام دوسروں پر، مگر یزید ہر حال میں محفوظ!
حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کو ایک رخ سے نہیں، دونوں رخ سے پڑھنا چاہیے۔
یزید کے بارے میں تاریخ میں مثبت اور منفی دونوں طرح کی باتیں لکھی گئی ہیں، لیکن جب کربلا کا ذکر آئے تو ایک لمحے کے لیے اپنے دل سے پوچھیے:
حسینؓ کون ہیں؟
وہ رسول اللہ ﷺ کے نواسے ہیں۔
وہ حضرت فاطمہؓ کے نورِ نظر ہیں۔
وہ حضرت علیؓ کے فرزند ہیں۔
وہ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔
پھر سوچیے...
انہیں پیاسا رکھا گیا۔
ان کے اہل خانہ اور ساتھیوں کو شہید کیا گیا۔
ان کے مستورات کو مصیبتوں سے گزارا گیا۔
ان کے معصوم بچوں تک کو نہ بخشا گیا۔
اگر انسان کڑی سے کڑی ملائے، تاریخ کو دیانت داری سے پڑھے اور دل کو زندہ رکھ کر سوچے، تو کم از کم اتنا ضرور ہوگا کہ اسے یزید کی وکالت کرنے میں جھجک محسوس ہوگی۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ تاریخ کو جذبات سے پڑھا جائے، لیکن یہ بھی انصاف نہیں کہ جذبات کے نام پر رسول اللہ ﷺ کے نواسے کی مظلومیت کو پسِ پشت ڈال دیا جائے اور ہر بحث کا مرکز یزید کی صفائی بن جائے۔
یہی رویہ نئی نسل کو ہم سے دور کر رہا ہے۔
وہ دیکھ رہی ہے کہ جنہیں اہلِ بیت کی محبت کا سب سے بڑا دعویٰ ہے، وہی اہلِ بیت کے ذکر سے کتراتے ہیں۔ جب بھی حسینؓ کا ذکر آئے، فوراً موضوع بدل دیتے ہیں، یا یزید کی صفائی پیش کرنے لگتے ہیں۔
پھر ہم شکوہ کیوں کریں کہ نوجوان ہم سے متاثر نہیں ہوتے؟
اپنے کردار و عمل سے یہ ہرگز ثابت نہ کیجیے کہ اہلِ بیت کا ذکر صرف کسی ایک فرقے کا خاصہ ہے۔
اہلِ بیت سے محبت نہ شیعہ کی جاگیر ہے، نہ کسی جماعت کی میراث؛ یہ ہر اس مسلمان کا ایمان ہے جو رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتا ہے۔
یاد رکھیے! صحابۂ کرامؓ اور اہلِ بیتِ اطہارؓ دونوں ہماری روحِ ایمان ہیں۔ صحابہؓ کے ذریعے دین ہم تک پہنچا، اور اہلِ بیتؓ کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ جو ایک کی محبت کے نام پر دوسرے کو نظر انداز کرے، یا ایک کے ذکر کے موقع پر دوسرے کو مقابل بنا دے، وہ امت کے حقیقی مزاج اور اہلِ سنت کے منہج کی صحیح ترجمانی نہیں کرتا۔
اور یاد رکھیے...
حسینؓ حق کا استعارہ ہیں، اور یزید باطل کا استعارہ۔
کربلا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا جاتا، خواہ اس کی قیمت جان ہی کیوں نہ ہو۔
لہٰذا دس محرم کو یزید کی وکالت میں قلم گھسانے کے بجائے، حسینؓ کی قربانی، ان کی استقامت، ان کے صبر اور ان کی عظمت کا ذکر کیجیے۔
شاید یہی وہ طرزِ عمل ہے جو نئی نسل کو اہلِ سنت کے حقیقی مزاج سے روشناس کرائے گا، اور یہی رسول اللہ ﷺ کے نواسے کا کم سے کم حق بھی ہے۔
عقل کے ناخن لیجیے۔
ذکرِ حسینؓ سے گھبرائیے نہیں۔
یزید کی وکالت سے پہلے ایک بار دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے کہ اگر کربلا میں آپ موجود ہوتے تو آپ کا دل، آپ کی زبان اور آپ کا قلم کس کے ساتھ ہوتا؟
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
Comments
Post a Comment