والدین کی حقوق اور آج کا معاشرہ - سید فاروق احمد قادری۔
والدین کی حقوق اور آج کا معاشرہ -
سید فاروق احمد قادری۔
اج کے نوجوانوں سے چند سوالات
آج کل اکثر سننے میں آتا ہے کہ بعض نوجوان کہتے ہیں:
"ماں باپ نے ہمارے لیے کیا کیا؟"
یہ جملہ سن کر دل کانپ اٹھتا ہے۔
کیا اولاد واقعی یہ سمجھتی ہے کہ وہ خود بخود بڑی ہو گئی؟
کیا اسے یاد ہے کہ جب وہ چل نہیں سکتی تھی تو کس نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا؟
جب وہ بول نہیں سکتی تھی تو کس نے لفظ لفظ بولنا سکھایا؟
جب وہ بیمار ہوتی تھی تو کس نے رات بھر جاگ کر اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا؟
جب اسے بھوک لگتی تھی تو کس نے اپنی بھوک مار کر اس کا پیٹ بھرا؟
جب اس کی فیس دینی ہوتی تھی تو کس نے اپنی ضروریات قربان کر کے اس کی تعلیم کا بندوبست کیا؟
ایک مزدور باپ صبح اندھیرے میں گھر سے نکلتا ہے۔ دھوپ، گرمی، بارش اور تھکن برداشت کرتا ہے۔ کبھی جسم جواب دے رہا ہوتا ہے لیکن پھر بھی کام کرتا ہے کیونکہ گھر میں بچے اس کے منتظر ہوتے ہیں۔ وہ اپنے لیے نہیں، اپنی اولاد کے لیے جیتا ہے۔
بہت سے باپ ایسے ہوتے ہیں جو پرانے کپڑے پہن لیتے ہیں لیکن اپنے بچوں کے لیے نئے کپڑے خریدتے ہیں۔ خود سادہ کھانا کھا لیتے ہیں لیکن اولاد کی پسند کا کھانا لاتے ہیں۔ اپنی خواہشات دفن کر دیتے ہیں تاکہ بچوں کے خواب زندہ رہ سکیں۔
ماں کی قربانیاں نظر آ جاتی ہیں کیونکہ وہ گھر میں ہوتی ہے، مگر باپ کی قربانیاں اکثر خاموش ہوتی ہیں۔ باپ اپنے دکھ، اپنی بیماریاں، اپنی پریشانیاں اور اپنے آنسو چھپا لیتا ہے۔ وہ اس لیے خاموش رہتا ہے کہ اس کی اولاد بے فکر زندگی گزار سکے۔
آج جو نوجوان یہ کہتے ہیں کہ "ماں باپ نے ہمارے لیے کیا کیا؟" انہیں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنا چاہیے کہ اگر ماں باپ نے ان کے لیے کچھ نہ کیا ہوتا تو کیا وہ آج اس مقام پر ہوتے؟
انسان دنیا کا ہر قرض شاید ادا کر دے، لیکن ماں باپ کی ایک رات کی بے خوابی، ایک آنسو اور ایک قربانی کا پورا بدلہ ادا نہیں کر سکتا۔
آج جو اولاد اپنے والدین کی قدر نہیں کرتی، کل وہ خود والدین بن کر انہی احساسات سے گزر سکتی ہے۔ وقت انسان کو بہت کچھ سکھا دیتا ہے، لیکن بعض سبق اس وقت سمجھ آتے ہیں جب ماں باپ دنیا میں نہیں رہتے۔
اس لیے والدین کو بوجھ نہیں، نعمت سمجھو۔ ان کی موجودگی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ ان کی خدمت کرو، ان کا احترام کرو اور ان کے دل کو خوش رکھو، کیونکہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب انسان کے پاس سب کچھ ہوگا، مگر ماں باپ نہیں ہوں گے۔
Comments
Post a Comment