اسلامی سال کا آغاز محرم سے اور اختتام ذی الحجہ پر قربانی، محبتِ الٰہی اور حق پر استقامت کا واضح پیغام ۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی۔(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد، مہاراشٹر۔)
اسلامی سال کا آغاز محرم سے اور اختتام ذی الحجہ پر قربانی، محبتِ الٰہی اور حق پر استقامت کا واضح پیغام ۔
تحریر: ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی۔
(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد، مہاراشٹر۔)
موبائل نمبر: 9325217306
اسلامی تقویم کا مطالعہ کیا جائے تو ایک نہایت ایمان افروز اور فکر انگیز حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسلامی سال کا اختتام بھی قربانی کے عظیم پیغام پر ہوتا ہے اور اس کا آغاز بھی قربانی، ایثار، صبر اور حق پر استقامت کی لازوال داستانوں سے ہوتا ہے۔ گویا اسلامی سال کا پہلا اور آخری باب انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا، دین کی سربلندی اور ابدی کامیابی کا راستہ قربانیوں سے ہو کر گزرتا ہے۔
اسلامی سال کا آخری مہینہ ذوالحجہ اپنے اندر بے شمار روحانی، تاریخی اور تربیتی اسباق سموئے ہوئے ہے۔ یہی وہ مبارک مہینہ ہے جس میں حج جیسی عظیم عبادت ادا کی جاتی ہے اور دنیا بھر کے مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی بے مثال قربانیوں کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ حج اسلام کا پانچواں عظیم رکن ہے۔ اگر اس عظیم عبادت کے تمام ارکان و مناسک کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو اس کے ہر مرحلے میں محبتِ الٰہی، اطاعتِ ربانی، ایثار اور کامل سپردگی کے دل نشین مظاہر نمایاں نظر آتے ہیں۔ احرام باندھنے سے لے کر طوافِ کعبہ، صفا و مروہ کی سعی، وقوفِ عرفات، مزدلفہ میں قیام اور منیٰ میں قربانی تک ہر عمل بندے اور اس کے رب کے درمیان محبت اور وفاداری کے رشتے کو مضبوط کرتا ہے۔
صفا و مروہ کی سعی میں حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کا اپنے رب پر غیر متزلزل اعتماد اور کامل توکل جلوہ گر نظر آتا ہے۔ ایک بے آب و گیاہ وادی میں اپنے شیر خوار بچے کے لیے پانی کی تلاش میں ان کی بے مثال جدوجہد درحقیقت یقینِ محکم اور توکل علی اللہ کا ایسا نمونہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے حج کا مستقل جزو بنا دیا۔
اسی طرح منیٰ کی قربان گاہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اطاعت و فرمانبرداری کی یاد تازہ کرتی ہے۔ جب والد نے اللہ تعالیٰ کا حکم سنایا تو بیٹے نے بلا تردد عرض کیا:
"يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ"
"ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اسے پورا کیجیے۔"
دوسری جانب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذاتِ باری تعالیٰ سے بے مثال محبت اور وفاداری اس وقت اپنے عروج پر نظر آتی ہے جب وہ اپنے بڑھاپے کے سہارے اور نورِ نظر کو اللہ تعالیٰ کے حکم پر قربان کرنے کے لیے آمادہ ہوجاتے ہیں۔ گویا حج کا ہر رکن اور ہر مناسک محبتِ الٰہی سے سرشار ہونے کا عملی درس دیتا ہے۔
ذوالحجہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنی خواہشات، مفادات، انا اور نفسانی تقاضوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کردینے کا نام ہے۔ یہی وہ روح ہے جس کے بغیر نہ قربانی کا مقصد حاصل ہوسکتا ہے اور نہ ہی حج کی حقیقی معنویت کو سمجھا جاسکتا ہے۔
ذوالحجہ کے اختتام کے ساتھ اسلامی سال ختم ہوتا ہے، لیکن قربانی کا یہ درس وہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ نیا اسلامی سال محرم الحرام کی صورت میں ایک بار پھر قربانی، صبر اور استقامت کی یاد دلاتا ہے۔
محرم الحرام ان چار مقدس مہینوں میں شامل ہے جنہیں قرآن کریم نے "اشہرِ حرم" قرار دیا ہے۔ اس مہینے میں کئی عظیم تاریخی واقعات پیش آئے۔ یومِ عاشوراء اسی مہینے میں آتا ہے جس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و ستم سے نجات عطا فرمائی۔ چنانچہ یہ دن حق کی باطل پر فتح، صبر کی کامیابی اور اللہ تعالیٰ کی نصرت کی روشن علامت بن گیا۔
محرم الحرام کی تاریخ کا سب سے درخشاں باب واقعۂ کربلا ہے۔ نواسۂ رسول ﷺ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء نے باطل قوتوں کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق و صداقت کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ کربلا کا پیغام یہ ہے کہ اصول، ایمان اور حق کی حفاظت کے لیے اگر جان بھی قربان کرنی پڑے تو اہلِ ایمان دریغ نہیں کرتے۔
اگر غور کیا جائے تو ذوالحجہ اور محرم ایک ہی حقیقت کے دو روشن عنوان ہیں۔ ذوالحجہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی محبتِ الٰہی، اطاعت اور قربانی کا درس دیتا ہے، جبکہ محرم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی استقامت اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی کے ذریعے حق پر ثابت قدم رہنے کا پیغام دیتا ہے۔
گویا اسلامی سال کا اختتام بھی قربانی پر ہوتا ہے اور آغاز بھی قربانیوں کی یاد سے۔ سال کے آخری دنوں میں مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ادا کرتے ہیں اور سال کے ابتدائی دنوں میں عاشوراء اور کربلا کے عظیم اسباق سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔ یہ محض تاریخی واقعات نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے دائمی تربیت گاہیں ہیں۔
آج امتِ مسلمہ کو سب سے زیادہ ضرورت اسی روحِ قربانی، محبتِ الٰہی، توکل، اطاعت اور استقامت کو اپنانے کی ہے۔ جب مسلمان حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کے توکل، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی فرمانبرداری، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی محبتِ الٰہی اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی استقامت کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنالیں گے تو انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر مثبت تبدیلیاں رونما ہوں گی۔
اسلامی سال کا آغاز اور اختتام درحقیقت ایک ہی پیغام دیتا ہے: اللہ تعالیٰ کی محبت سب سے بڑی محبت ہے، اس کی رضا سب سے بڑی کامیابی ہے، اور اس کے راستے میں دی جانے والی ہر قربانی دنیا و آخرت کی سعادت کا ذریعہ ہے۔ یہی انبیاء علیہم السلام، صالحین اور شہداء کا راستہ ہے اور یہی امتِ مسلمہ کی حقیقی کامیابی کا راستہ بھی ہے۔
Comments
Post a Comment