گرام پنچایت کونتان پلی،منڈل شیوم پیٹ میں استاد و شاعرجناب فرید سحر کو تہنیت - ہندو مسلم شاگردوں نے اپنے استاد سے والہانہ عقیدت کا اظہار کیا-جذباتی مناظر دیکھے گئے۔


حیدرآباد 19/جون( پریس رلیز) ضلع پریشد ہائی اسکول کونتان پلی، منڈل شیوم پیٹ ضلع میدک کے طلباء و طالبات نے اپنے مشفق و ہردلعزیز استاد و شاعرجناب سید فرید احمد المعروف بہ “فریدسحر” کے اعزاز میں ایک منفرد و شاندار تہنیتی تقریب کا اہتمام کیا! جس میں اُن کی اس مدرسہ میں بیس سالہ شاندار خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اُن کی گُلپوشی،شال پوشی کے علاوہ ایک بہترین قیمتی کلائ گھڑی تحفتا” پیش گی! اس موقع پر اس اسکول کے لگ بھگ پچاس غیر مسلم طلباء و طالبات نے جناب فریدسحر اور اُن کے ہمسفر ساتھیوں ، جواں سال ایوارڈ یافتہ ٹیچر سید غازی الدین صاحب، مصنف “وقار اردو” جناب مسیح الدین صاحب اور ممتاز ین آر آئ و محب اردو جناب ضمیرالدین احمد کا کونتان پلی پہنچنے پر تیس سال پہلے امتحان یس یس سی میں کامیابی حاصل کرنے والی طالبات اور طلباء نے گُلاب کے پھول نچھاور کرتے ہوئے استقبال کیا اور شہ نشین تک رہنمائ کی! قبل ازیں کونتان پلی دو کلو میٹر پہلے ایک گاؤں “دنتان پلی” پر وقفہ کے دوران ایک نوجوان اچانک آیا اور اپنے استاد کی قدمبوسی کرتے ہوئے کہا کہ “سر میں آپ کا شاگرد نرسمہلو ہوں اور اب اس گاؤں کا سرپنچ ہوں پھر اس نے اپنے استاد محترم اور اُن کے ساتھیوں کو گرام پنچایت آفس لے گیا وہاں شال پوشی اور چائے نوشی کے بعد رخصت کیا!یہاں اس بات کا تذکرہ بے محل نہیں ہو گا کہ جناب فرید سحر نے اس اسکول میں سن 1981 تا 2001 تک مسلسل بیس سال بحیثیت صدر مدرس اپنی خدمات انجام دیں! اس دوران تمام طلباء و طالبات اپنے چہیتے موظف صدرمدرس سے بہت عقیدت و احترام سے ملنے کے لئیے ایک دوسرے پر بازی لے جا رہے تھے!اپنے استاد محترم سے ملنے کے دوران بہت ادب سے اُن کی قدمبوسی کرتے ہوئے دُعاؤں کی درخواست کر رہے تھے! یہ منظر اتنا جذباتی تھا کہ تقریب کے مہمان خصوصی جناب فرید سحر کی آنکھیں نم ہو گئیں!بالخصوص طالبات کی عقیدت گویا اپنی انتہا پر تھی! ایک طالبہ نے قریب آ کر پوچھا،”سر کیا آپ نے مجھے پہچانا؟” تب فریدسحر نے کہا میری عزیز بیٹی تیس سال پہلے تُم تو بہت چھوٹی بچی تھیں اب ماشاءاللہ ایک سلیقہ مند خاتون ہو! میں کیسے پہچانوں گا؟”لفظ “بچی”سُنتے ہی تقریب میں موجود سب شرکاء بےساختہ ہنسنے لگے اور اُسے بچی بچی کہنے لگے! پھر اس طالبہ نے ایک نیا انکشاف کرتے ہوئے سب کو حیرت زدہ کردیا! اس نے کہا”سر میرا نام “روزا رانی” ہے اور یہ نام آپ نے رکھا تھا اور آپ کا مجھ پر بہت بڑا احسان ہے”! فرید سحر نے حیرت سے پوچھا وہ کیسے؟ اس نے کہا “سر میرے والد چندر شیکھر جب مجھے اسکول میں شریک کروانے آئے تو انہوں میرا نام صرف “روزا” لکھوایا تھا، لیکن آپ نے مشورہ دیا تھا “روزا” نہیں “روزا رانی” لکھواؤ تُمہاری بیٹی رانی بن کر رہے گی!”میرے ڈیڈی نے آپ کا مشورہ مان لیا اور آج میری لائف ایک رانی کی طرح ہے” یہ کہہ کر اس نے فورا” اپنے مشفق استاد کے قدموں پر سر رکھ دیا!پھر اس نے سوال کیا “سر آج میرے ڈیڈی نہیں ہیں لیکن آپ میرے ڈیڈی جیسے ہیں، آپ مجھے بُھولیں گے تو نہیں نا! یہ سنتے ہی مشفق استاد کی زبان سے نکلا،”ارے نہیں بیٹا، تُم تو میری بیٹی جیسی ہو،بھلا کوئ باپ اپنی بیٹی کو بُھول سکتا ہے؟” تب وہ بہت خوش ہو گئی اور بہت عاجزی کے ساتھ گجویل میں دو دن کے لئیے اس کا مہمان بننے کی گزارش کی! گنگا جمنی تہذیب کی ایسی شاندار مثال بہت کم دیکھنے میں آتی ہے! اس طالبہ کے علاوہ دیگر طالبات نے بھی ماضی کی بہترین یادوں کو شئیر کیا! ایک طالب علم ورون کمار نے جو ان دنوں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں بحیثیت سی ای او کاگزار ہے، اپنی تقریر میں یہ کہہ کر استاد محترم کو ذبردست خراج تحسین پیش کیا کہ جب وہ آفس میں انگریزی میں بات کرتا ہے تو اس کے ساتھی پوچھتے ہیں کہ وہ اتنی اچھی انگلش کیسے کہتا ہے تو اس کا جواب یہ ہوتا ہے کہ “یہ تو میرے بیسٹ استاد جناب سید فرید احمد سر کی مہربانی اور ٹیچنگ کا طفیل ہے! الغرض ہر طالب علم اور طالبہ نے اپنے بچپن کے استاد محترم کی شان میں تعریفوں کے پُل باندھ دئے! آخر میں جناب فریدسحر نے اپنی صدارتی تقریر میں اپنے تمام شاگردوں کا شُکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنے ضعیف والدین کا بطور خاص خیال رکھیں، اُن سے اونچی آواز میں بات کر کے اُن کا دل نا دُکھائیں اور اپنی بیوی و بچوں کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آئیں، کسی کے ساتھ دھوکہ اور فریب نا کریں! تقریبا” شاگردوں نے اپنے مشفق استاد کے ساتھ سیلفی لے کر خوشی و مسرت کا اظہار کیا!دوپہر تین بجے پُر تکلف ظہرانہ کے بعد یہ یادگار تہنیتی تقریب پایۂ اختتام کو پہنچی!

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔