شعلہ فاؤنڈیشن کا پانچ سالہ تعلیمی سفر: اردو ذریعۂ تعلیم کے طلبہ کے لیے ایک مثالی خدمت - یادگیر کے ہونہار طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے "ٹاپرس اپریسی ایشن ایوارڈ" تقریب کا شاندار انعقاد۔


شاہ پور (نامہ نگار: رہبر تماپوری):اردو زبان کے فروغ، مادری زبان میں معیاری تعلیم کی ترویج اور طلبہ کی تعلیمی حوصلہ افزائی کے مقصد سے شعلہ فاؤنڈیشن، ایجوکیشنل اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ، شاہ پور کے زیرِ اہتمام، مرحوم الحاج سید فضل الرحمن شعلہ کی یاد میں ضلع یادگیر کے ایس ایس ایل سی (دسویں) اور پی یو سی دوم کے امتحانات میں اردو ذریعۂ تعلیم سے نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے اعزاز میں "ٹاپرس اپریسی ایشن ایوارڈ" کی پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں اساتذۂ کرام، تعلیمی ماہرین، سماجی و ملی شخصیات، والدین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
شعلہ فاؤنڈیشن گزشتہ پانچ برسوں سے مسلسل اردو ذریعۂ تعلیم کے فروغ، طلبہ کی رہنمائی اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے نمایاں خدمات انجام دے رہی ہے۔ فاؤنڈیشن ہر سال اردو میڈیم میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کی اعزاز افزائی کرتے ہوئے انہیں اعزازی اسناد، یادگاری شیلڈز، تہنیتی اسناد اور امدادی تحائف پیش کرتی ہے، تاکہ ان کے اندر تعلیمی شوق، خود اعتمادی اور آگے بڑھنے کا جذبہ مزید مضبوط ہو۔
فاؤنڈیشن کی خدمات صرف ایوارڈ تقریب تک محدود نہیں بلکہ دسویں اور پی یو سی کے طلبہ کے لیے سال بھر تعلیمی ورکشاپس، امتحانی رہنمائی، کیریئر کونسلنگ اور خصوصی تربیتی نشستوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان ورکشاپس کے نتیجے میں اردو میڈیم کے طلبہ کی تعلیمی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور ہر سال معیاری نتائج سامنے آ رہے ہیں، جو فاؤنڈیشن کی مسلسل محنت کا واضح ثبوت ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اردو زبان کی اہمیت اور مادری زبان میں تعلیم کی افادیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مادری زبان میں تعلیم بچوں کی ذہنی، فکری اور تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشتی ہے۔ اردو ذریعۂ تعلیم کسی بھی طالب علم کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بلکہ مضبوط علمی بنیاد فراہم کرتا ہے، جس کی بدولت طلبہ جدید علوم اور دیگر زبانوں میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔
مقررین نے ایک اہم سماجی پہلو کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں اردو میڈیم کے اداروں میں طالبات کی تعداد اور کامیابی کا تناسب قابلِ اطمینان حد تک بڑھا ہے، تاہم طالب علموں کی تعداد نسبتاً کم دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بیٹوں کو بھی اردو ذریعۂ تعلیم کی طرف راغب کریں تاکہ معاشرے کے دونوں طبقات یکساں طور پر تعلیم کے میدان میں آگے بڑھ سکیں۔
تقریب کا ایک مؤثر اور یادگار مرحلہ وہ تھا جب نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی کامیابی کا سہرا والدین کی دعاؤں، اساتذۂ کرام کی انتھک محنت اور شعلہ فاؤنڈیشن کی مسلسل رہنمائی کے سر باندھا۔ انہوں نے کہا کہ اس اعزاز نے ان کے حوصلوں کو نئی توانائی بخشی ہے اور وہ مستقبل میں بھی علم، کردار اور خدمتِ قوم کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
یہ کامیاب تقریب شعلہ فاؤنڈیشن کے صدر سید ضیاء الرحمن شعلہ اور جنرل سیکرٹری سید مصباح الرحمن شعلہ کی متحرک اور دور اندیش قیادت میں منعقد ہوئی، جبکہ نظامت کے فرائض گورنمنٹ اسکول ساگر کے معروف اردو استاد مختار احمد نے اپنے منفرد اور پُراثر انداز میں انجام دیے۔
تقریب میں مصطفیٰ دربان (سابق چیئرمین، ٹاؤن پلاننگ، شاہ پور)، ایڈوکیٹ یوسف اطہر الرحمن (صدر، بار ایسوسی ایشن، شاہ پور)، خواجہ معین الدین (ایف ڈی اے، آدرش ودیالیہ، شاہ پور) اور مقبول احمد (وائس پرنسپل، گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول، شاہ پور) سمیت متعدد معزز شخصیات نے شرکت کی۔ مقررین نے شعلہ فاؤنڈیشن کی پانچ سالہ مسلسل تعلیمی خدمات کو اردو برادری کے لیے ایک مثالی اور قابلِ تقلید کارنامہ قرار دیتے ہوئے اس کے ذمہ داران کی کاوشوں کو سراہا۔
تقریب کے اختتام پر نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات میں اعزازی اسناد، شیلڈز، تہنیتی اسناد اور امدادی تحائف تقسیم کیے گئے۔ حاضرین نے اس امید کا اظہار کیا کہ شعلہ فاؤنڈیشن آئندہ بھی اسی خلوص، عزم اور جذبۂ خدمت کے ساتھ اردو زبان، معیاری تعلیم اور باصلاحیت طلبہ کی سرپرستی کا یہ روشن سفر جاری رکھے گی اور آنے والی نسلوں کے لیے علم و شعور کی نئی راہیں ہموار کرتی رہے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔