کیاتہران مشرق کاجنیوا ہوگا - سید مقصود، صدر راشٹریہ مسلم مورچہ آر۔ ایم۔ایم دہلی، حال مقم ظہیرآباد۔
کیاتہران مشرق کاجنیوا ہوگا -
سید مقصود، صدر راشٹریہ مسلم مورچہ (آر۔ ایم۔ایم) دہلی، حال مقم ظہیرآباد۔
موبائل:9440836492
E-mail:syedmaqsood5403@gmail.com
3/مارچ 1924 کو ترکی کی پارلیمنٹ نے خلافت عثمانیہ ختم کرنے کااعلان سرکاری طورپر کیا۔خلافت یوں تو 1918ء ہی میں کمزور ہوگئی تھی، پہلی جنگ عظیم یوروپ سے شروع ہوئی، مگر تقسیم مسلم ممالک ہوئے۔ خلافت عثمانیہ ختم ہوئی۔ یوروپی قوموں نے اس کو آپس میں بانٹ لیا۔ اس طرح مسلمانوں کی غلامی مسلم ہوگئی۔
خلافت کاخاتمہ، اس کے نقصانات:۔(۱) امت کی وحد ت ختم ہوگئی۔ (۲) امت مسلمہ وحدت کی بنیاد اسلام، توحید، رسالت کاعقید ہ نہیں رہا بلکہ یوروپی اقوام کی کھینچی ہوئی سرحدیں ہوگئیں اور یہ ملت قومی، ملکی زبان کی سرحدوں میں بٹ گئی۔ (۳)اب مسلمانوں کی پہچان عرب، عجم، مصری، ایرانی تورانی، عراقی وآفریقی، ہندی سے ہونے لگی۔ بات اتنی بڑھی کہ اپنارشتہ فرعون سے جوڑنے، آریہ نسل سے ہونے میں فخر محسوس کرنے لگے۔ مسلمان ان اثرات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ 1933ء میں مولانا حسین احمد مدنی ؒ نے مسئلہ ء قومیت پر تقریر کرتے ہوئے کہا”قومیں اوطان (وطن کی جمع) سے بنتی ہیں، مذہب سے نہیں“علامہ اقبال کو مجبوراًکہناپڑا ؎
مسلم نے بھی تعمیرکیااپناحرم اور
تہذیب کے آذر نے ترشوائے صنم اور
اقوام میں مخلوق ِ خدا بٹتی ہے اسی سے
قومیت ِ اسلام کی جڑکٹتی ہے اسی سے (اقبال کی نظم ”وطنیت“)
(۴)سرحدیں کھینچی گئیں۔ 1925ء میں پاسپورٹ متعارف ہوا۔جس کی بدولت مسلم پہچان ختم ہوئی، اور ملکی پہچان مسلمانوں کی اصل پہچان بن گئی۔ اس نئی پہچان نے مسلم ممالک کوایک دوسرے کے مقابل کھڑا کردیا(اور وہ ایک دوسرے کے خلاف صف آراء بھی ہوئے)
دورِ انحطاط کی ابتداء:۔ جب ہر چیز مکمل تھی، مذہب، فلسفہ، ادب، تعمیر، ذہانت، ایجادات، اور دریافت۔ ایسے دور میں زوال دستک دے رہاتھا۔ اور مسلم معاشرے کی حالت یوں ہورہی تھی ”مذہب کی جگہ خرافات، فکر کی جگہ بے فکری، صراطِ مستقیم کی جگہ بے راہ روی نے لے لی“ (بحوالہ آوازِ دوست۔ مختار مسعود۔ صفحہ نمبر 209) یہ حالت ایسی اس لئے ہوگئی تھی کیوں کہ مسجد یں بے رونق،جب کہ وہ عالی شان عمارتیں بن چکی تھیں۔ مسلمانوں کے مدرسے بے چراغ وہاں سے نور کے سوتے نکلنا بندہوگئے تھے۔ جہاد کی جگہ جمود، اور حق کی جگہ حکایت، ملی مفاد کی جگہ اپنی ذات مقدم ہوگئی۔ مصلحت کے نام پر راہ فراری، موت سے خوف، اور زندگی سے پیار ہوگیاتھا۔ مذہب میں تجدد پسندی، اور سیاست میں عقل پسندی کا فقدان ایسی حالت میں کسی ملت کا بیڑا غرق ہونا یقینی تھا۔ مسلمان غیر شرعی طورپر حد سے زیادہ خداپرست ہوگئے تھے۔ خدا پر بھروسہ اتنا بڑھ گیاتھاکہ ہمارے ذمہ خدا نے جوکام کردیاتھا، وہ کام بھی خدا سے کروانے کے لئے دعاؤں کاسہارا لینا شروع کردیا۔ اس کی ایک مثال وہ ہے، 1798ء میں جب نپولین نے مصر پر حملہ کیا، تو اس وقت کے سلطان مرادبخت، نے علماء سے دریافت کیاکہ ایسے وقت کیاکیاجائے؟سب نے متحدہ طورپر یہ جواب دیا”ختم ِ بخاری شریف کیاجائے، کیوں کہ یہ عمل مقاصد کے حصول کے لئے تیربہدف ہے مگر ختم بخاری شریف کے ختم کااعلان بھی نہیں ہواتھاکہ نپولین مصرمیں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوگیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے اس پر یوں تبصرہ کیا ”دعائیں ضرور فائدہ پہنچاتی ہیں، مگر ان ہی کوپہنچاتی ہیں، جو عزم وہمت رکھتے ہیں، بے ہمتوں کے لئے تو ترک ِ عمل تعطل قویٰ کا حیلہ بن جاتی ہیں۔ (بحوالہ غبار ِ خاطر، صفحہ نمبر 149)
غلامی سے بدتر ہے بے یقینی:۔ غلامی اس وقت مکمل سمجھی جاتی ہے جب غلاموں کویہ احساس ہوجائے کہ ہم غلامی کے لئے ہی پید اہوئے ہیں۔ یہ یقین ایمان بن جائے تو احساس ِ غلامی مر جاتاہے۔ قوموں کی کئی صدیاں یوں ہی گزر جاتی ہیں اسی لئے غلامی سے بدتر ہے بے یقینی۔ نوآبادیاتی نظام میں ہماری ذہن سازی اس طرح کی،کیوں کہ فاتح کی خواہش ہوتی ہے وہ کبھی ملک گیری پر قناعت نہیں کرتا۔ بلکہ مفتوح کی رہی سہی استعداد، کردار، سیرت، ومزاج کو تبدیل کرناچاہتاہے۔ اس کے بغیر مفتوح کی غلامی کی زنجیریں مضبوط نہیں ہوسکتیں۔
لیکن آج کے”نئے ایران“ نے اس بے یقینی کے سحر کو توڑ کرایک نئی تاریخ رقم کردی ہے۔ ایرانی قیادت اور عوام کاتیسری دنیا کواحسان مند ہونا چاہیے۔ کمزور اور بے ہمت اقوام کے لئے ایران ایک پیغام ِ ہمت ہے۔ جو اب تک ناممکن سمجھاگیاتھا، اس نے وہ ممکن کردکھایا۔ ایران اور اسرائیل وامریکہ میں بنیادی فرق ہے۔ دونوں کے مقاصد مختلف ہیں۔ ایک اپنے عقیدے، ایمان، آخرت، کے لئے لڑرہاہے، اسی لئے اس کاشوقِ شہادت اس کی طاقت ہے۔ دوسرااپنی سلطنت کی توسیع چاہتاہے، اسی لئے بے قصور انسانوں پر ظلم ان کاوطیرہ ہے۔ انھیں اسکول کی طالبات نظر نہیں آتیں۔ اسپتالوں میں زیر علاج مریض نظر نہیں آتے سبھی پر طاقت کے بل پر بم گرادینا ضروری سمجھتے ہیں۔
نوآبادیاتی دور میں ہماری جدوجہد:۔ یوروپ والوں نے دنیا بھر میں اپنی نوآبادیاں قائم کیں۔ ان کے خلاف کو ششیں ہوئیں، مکمل کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ آزادی ملی اختیارات کے بغیر۔ مسئلہ ہمارا،فیصلہ یوروپی اقوام کا۔ ایسی کوششیں پوری مسلم دنیامیں ہوتی رہیں۔ لیبیامیں سنوسی تحریک، جس کو محمد بن علی السنوسی نے برپاکیاتھا۔ بعد کے دور میں عمر مختار نے اس کو آگے بڑھایا۔ الجزائر میں عبدالقادر، مصرمیں حسن البناء شہید کی اخوان المسلمون، بھارت میں شاہ ولی اللہ کے نظریات سے متاثر سید احمد شہید واسماعیل شہید، ان کی کوششیں آخرت کے نقطہء نظر سے وہ تو کامیاب رہے، لیکن دنیوی نقطہء نظر سے مکمل کامیابی نہیں ملی۔ کیوں کہ یوروپی اقوام نے دنیا پر نئے ہتھیاروں سے حملہ کیاتھا۔ ان کے ہتھیارتھے، فلسفہ، مشن، اور اندازِ حکمرانی کے نئے اصول۔ انقلابِ فرانس کے بعد صنعتی انقلاب نے قدیم فن جنگ کی جگہ نیافن جنگ،اور نئے آلات نے لے لی تھی۔ اوریہ ہتھیار مسلم ممالک کے پاس نہیں تھے۔
اس صدی کے اہم واقعات اور اس کے نتائج:۔ 14/مئی 1948ء کو اسرائیل کاقیام عمل میں آیا۔ (۲) اسرائیل اورعرب ممالک کے درمیان جنگیں ہوئیں، ان میں 1973ء کی جنگ بہت اہمیت رکھتی ہے۔ آج جوحالات ایران نے تیل اور نہرہرمزپربند لگاکر پید اکئے ہیں، ویسے ہی حالات 1973ء میں سعودی عرب کے حکمران شاہ فیصل نے تیل کاپروڈکشن کم کرکے فی بیارل تین ڈالر سے پانچ ڈالر بڑھا کر امریکہ کو تیل کی ترسیل روک دی تھی۔ اس وقت ان کایہ بیان، بہت مشہور ہواتھا”ہم اپنے دشمنوں کی مدد کرنے والوں کو تیل نہیں دیں گے“امریکی معیشت بری طرح متاثر ہوئی۔ آخرکار شاہ فیصل کو شہید کردیاگیا۔ (۳)1979ء میں ایران کااسلامی انقلاب۔(۴) 1980سے 1988ء تک عراق ایران جنگ جو امریکہ کے اشاروں پرایران پر تھوپی گئی تھی۔ (۵) عراق پر امریکہ کاحملہ 20/مارچ 2003ء سے 18/دسمبر 2011ء تک چلتارہا۔(۶) عراق کے صدر صدام حسین کو 30/ڈسمبر2006ء کو عیدقربان کے دن پھانسی دے دی گئی۔ (۷)سال 1979ء میں روس نے افغانستان پر حملہ کیا۔ 1989ء کو وہاں سے ناکام واپسی ہوئی۔ (۸) نائن الیون کے واقعہ کے بعد افغانستا ن پر امریکہ کا حملہ۔ (۹) 30/اگست 2021ء میں امریکی فوجیں طالبان کوحکومت سونپ پرافغانستا ن سے واپس چلی گئیں۔ (۰۱)سال 2010ء کی عرب بہار Arab Spring اٹھی اور ختم ہوگئی۔ حکمرانوں کے خلاف یہ عوامی غصہ تھا (۱۱) ایران پر پابندیاں لگائی گئیں مگر 40سال سے ایران پابندیوں کے باوجود اپنی تیاری جاری رکھی اور فوجی طاقت کو بڑھانے اور سستے جدید ہتھیار بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ ”اور تم لوگ جہاں تک تمہارا بس چلے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلے کے لئے تیار رکھو“(سورہ الانفال۔ آیت نمبر 7) کیوں کہ دنیا طاقت کی زبان سمجھتی ہے۔تاریخ میں اکثر ایسا ہواہے، کم وسائل کا حکمت سے استعمال کرکے بڑی بڑی طاقتوں کوہرادیاگیا۔ ایران اس کی تازہ مثال ہے۔ یوروپین قومیں ہمیشہ قیادت کو ختم کرکے اس ملک کو ہتھیا لیتی ہیں۔ اسی طرح کاعمل ایران میں بھی کیاگیا۔ اس کوRegimeکی تبدیلی کانام دیاگیا۔ 28/فروری 2026ء کو ایران پر حملہ اور اس کے بعد اس کی قیادت، فوج، سیاسی ومذہبی، سائنسدانوں کو شہید کردیا، اس امید پر کہ Regimeتبدیل ہوجائے گا اور ایران پر حملہ کرناآسان ہوگا مگر ایرانی قیادت خوب جانتی تھی، اسی لئے انھوں نے ایران کو21فوجی ریاستوں میں تقسیم کرکے ان کو ہتھیار، اور اختیارات دے کر کہاکہ اگر مرکزی قیادت ختم بھی ہوجائے، تو تم اپنی جنگ جاری رکھنا۔ اسی لئے اسرائیل اور امریکہ کا منصوبہ ناکام ہوا۔ پہلی صفوں کی قیادت ختم ہوئی۔ اس کی جگہ دوسرے درجہ کی قیادت نے لے لی۔ آج جوحالات پید اہوئے ہیں، دنیاکی سوپر پاور معاہدہ پر تیار ہوگئی ہے۔ دوبرابر کی طاقتوں کے درمیان جب معاہدہ ہوتاہے، تو باعزت ہوتاہے۔ اورحقوق ملتے ہیں۔ اگر یہی معاہدہ کمزور اور طاقت ور کے درمیان ہو، تو حقوق نہیں، خیرات دی جاتی ہے۔ ہونے والامعاہدہ ہی بتائے گا ایران کتنا طاقتور ہے اور امریکہ و اسرائیل کو کس قدر جھکناپڑاہے؟
انعام کی بے قدری کانتیجہ:۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کوبہت سارے انعامات سے نوازا۔ نظریہ ء توحید، مالی وسائل، تیل کے ذخائر، معدنیات سے مالامال زمین، ایسا جغرافیہ جس سے ہم دنیا کوکنڑول کرسکتے ہیں۔وسائل خدا کاانعام ہوتے ہیں، اگر ان کی بے قدری کی جائے توبے قدری کی سزا کے طورپر ان سے انعامات چھین لئے جاتے ہیں۔ اور ہم ایسے ہی حالات سے گزرر ہے ہیں۔ ایران نے ان وسائل کو استعمال کرناشروع کردیاتھا اوراس کی قدر کی تھی۔ اور ہم سب آج اس قدردانی کے نتائج دیکھ رہے ہیں۔
شیعہ سنی اختلافات:۔ خاص کر ایک گروہ عرب روٹی حرام ہوجانے کے ڈرسے ایران کو دن رات کوس رہاہے۔ اس گروہ کویاد رکھنا چاہیے کہ سال 1924ء میں خلافت ختم کردی گئی،لیکن سنی دنیا آنے والی ایک صدی بعدبھی اس طرف اپنے قدم نہیں بڑھاسکی۔ شیعہ امامت (امام) کومانتے ہیں، اور انھوں نے امامت قائم کرکے دکھائی۔ 1979ء میں آیت اللہ خمینی رحمتہ اللہ علیہ نے اسلامی انقلاب برپا کرکے امامت کے قیام کاگویا اعلان کردیاتھا۔ جس کو ہم سنیوں میں سے ایک گروہ شیعی انقلاب کہہ کر اس کو کوستارہتاہے۔ علامہ اقبال علیہ الرحمہ کی بصیرت ملاحظہ کیجئے کہ شیعہ حضرات کی دوراندیشی کی تعریف کہیے یا سنیوں کی بے بصیرتی کاماتم کیجئے کہ، 1936ء میں انھوں نے ایک نظم کہی،جس کاعنوان رکھا جمعیت اقوام ِ مشرق۔ جس میں انھوں نے کہا ؎
تہران ہوگرعالم ِ مشرق کا جنیوا
شاید کرہء ارض کی تقدیر بدل جائے
(علامہ اقبال۔ ضرب کلیم)
علامہ اقبال نے تہران ہی کیوں کہا؟مصرکہہ سکتے تھے۔ ترکی ہوسکتاتھا۔ ریاض کانام لے سکتے تھے۔ سنیوں کی اس کمزوری کی طرف مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ نے بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے”ہمارے پاس”جماعت ہے، اور امام نہیں۔ افراد ہیں اور نظام نہیں“(بحوالہ نقوش ِ اقبال۔ مصنف: مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ، صفحہ 214)
شیعوں نے اس کمی کو پورا کرکے امامت قائم کردی۔بہرحال آج بھی تہران اور ریاض ایک مقصد کے لئے متحد ہوجائیں تو دنیا میں امن قائم ہوجائے گا۔ دنیاکی قیادت مسلمانوں کے ہاتھ آجائے گی۔ سچ یہ ہے کہ اسلام دنیا میں آیاہی امن قائم کرنے کے لئے ہے۔خدا کرے کہ ایسا ہو۔ آمین۔ اور ہم سب کو امن عالم کے گواہ کے طورپرایک پرامن دنیا دیکھنا نصیب ہوجائے۔ ثم آمین
Comments
Post a Comment